تیمر گرہ،دیر بالا کی اقوام نے معدنیات اور کرش مشینوں پر ٹیکس مسترد کر دیا

تیمر گرہ،دیر بالا کی اقوام نے معدنیات اور کرش مشینوں پر ٹیکس مسترد کر دیا

  



تیمر گرہ (بیورورپورٹ) دیر پائین اور دیر بالا کے اقوام سلطان خیل، پائندہ خیل، اوسیٰ خیل اور نصردین خیل کے عمائدین نے دریائے پنجکوڑہ اور ندیوں میں ریت، بجری اور کرش مشینوں اورمعدنیات پر ٹیکس نفاذ کا فیصلہ مستر کر دیا مذکورہ اقوام کے شدید احتجاج  اور تحفظات پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ معدنیات کے افسران نے منگل کے روز معدنیات پر ہونے والے ٹینڈر کو منسوخ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ اقوام کے عمائدین پر مشتمل ایک گرینڈجرگہ جو صدر ملک بہرام خان، جنرل سیکرٹری جاوید اقبال، اخون زادہ سکندر حضرت، ملک محمد زیب خان، سلیم خان ایڈوکیٹ، تحصیل خال کے سابق ناظم اخوان زادہ یوسف عادل، ملک سجاد خان، ملک نوشیروان، ملک شیر محمد خان، ملک بختور جان وغیرہ پر مشتمل تھا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لوئرد یراشفاق احمد خان،اور اے ڈی معدنیات سے ملاقات کرکے انہیں دیر پائین اور دیر بالا میں معدنیات، ریت اور بجری پر ٹیکس نفاذکی تشویش سے اگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس  فری  زون ہے جبکہ 2010کے تباہ کن سیلاب نے دیر پائین اور دیر بالا میں مالٹے  کے سینکڑوں باغات سمیت ان کے زر خیز آراضیات کو دریا برد کر دیاجس سے ان کے کھربوں روپے کے نقصانات ہوگئے بجا ئے اس کے کہ حکومت ان کے آراضیات کی تحفظ کے لئے پشتیں تعمیر کرتے اور مالکان اراضیات کو معاوضہ دیتے الٹا ان کے دریائے پنجکوڑہ کے آراضیات   میں واقع ریت، بجری اور معدنیات جو ان کا واحد زریعہ  معاش ہے پر ٹیکس لگانے اور کرش مشینوں پر دفعہ 144کا نفاذ کا فیصلہ ظلم  اور نا انصافی ہے جس کے ماننے کے لئے وہ ہرگز تیار نہیں اور عوام اپنے حقوق کے لئے جیل بھرو تحریک سمیت کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے جس پر اے ڈی سی اور اے ڈی بلدیات نے معدنیات پر ہونے والے ٹینڈروں کو منسوخ کر دیا جبکہ مذکورہ اقوام کے عمائدین نے فیصلہ کیا کہ مسئلے کا مستقل حل  نکالنے کیلئے ضلع دیر پائین، ضلع دیر بالا، کے موجودہ ارکان اسمبلی، سابقہ ارکان اسمبلی، سنیٹرز، اور سابق امیداوارن پر مشتمل ایک گریننڈ جرگہ 23دسمبر کو تیمرگرہ میں طلب کیا جس میں وہ وزیر اعلیٰ کے پی محمودخان سے ملا قات کرانے سمیت ائندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ 

مزید : پشاورصفحہ آخر /ملتان صفحہ آخر