آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ،اِتنی غلطیاں ہیں کہ تقرری کالعدم قرارے سکتے ہیں،سپریم کورٹ ،سماعت جمعرات کی صبح   تک ملتوی

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ،اِتنی غلطیاں ہیں کہ تقرری کالعدم ...
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ،اِتنی غلطیاں ہیں کہ تقرری کالعدم قرارے سکتے ہیں،سپریم کورٹ ،سماعت جمعرات کی صبح   تک ملتوی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر ہونے والی طویل سماعت  جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی،چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکیس کی سماعت کی جبکہ دیگرججوں میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل تھے۔اٹارنی جنرل کی جانب سے تفصیلی دلائل کے بعد سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

دوسرے وقفے کےبعداٹارنی جنرل کی جانب سے دلائل دیئےگئے،اِس دوران چیف جسٹس نےکہابڑی تکلیف دہ بات ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سےمتعلق جو دستاویزات دی گئی ہیں اُن میں اِتنی غلطیاں ہیں کہ ہم تقرری کو فوری کالعدم قراردے دیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ وزیر اعظم نے نئی تقرری کی سفارش کی اور صدر نے توسیع دی،کیا لکھا ہےاور کیا بھیج رہے؟ہیں یہ بھی پڑھنے کی زحمت نہیں کی،سمری،ایڈوائس،نوٹی فکیشن جس طرح بنائے لگتا ہے وزارتِ قانون نے بہت محنت سے یہ معاملہ خراب کیا،ابھی بھی وقت ہےحکومت دیکھے کہ وہ کیاکررہی ہے؟حکومت کل تک حل نکالےبصورت دیگرہم نےآئین کاحلف اُٹھایا ہے،آئینی ذمہ داری پوری کریں گے۔

اُنہوں نے کہا یہ معاملہ چیف آف آرمی سروس کا نہیں بلکہ چیف آف آرمی سٹاف کا ہے،آرمی چیف کے ساتھ تو اس طرح نہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا آپ نے آرمی چیف کو شٹل کاک بنا دیا ہے،فوج باعزت ادارے کے طور پر جانی جاتی ہے،پورے ملک میں ہیجان برپاہے۔چیف جسٹس نے کہا ایسے تو کسی اسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کی کی گئی ہے۔جبکہ جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ کیا یہ مذاق کیاجارہاہے۔

جسٹس منصور نے کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا،  عدالت کے ساتھ ایک اور صاف بات کریں،جو سٹاف کا حصہ نہیں وہ آرمی چیف کیسے بن سکتا ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا دوبارہ تعیناتی کا مطلب ہے پہلے تعیناتی ختم ہوگئی،  پاک فوج کا معاشرے میں بہت احترام ہے، چیف جسٹس وزارت قانون اور کابینہ ڈویژن کم از کم سمری اور نوٹیفکیشن تو پڑھیں، فوجیوں نے خود آ کر تو سمری نہیں ڈرافٹ کرنی۔عدالت نے نئی سمری پر بھی عدالت نے اعتراضات اٹھائے اورکہا کہ اس میں تو وزیراعظم کی سفارش ہی نہیں جبکہ صدر نے جو دستخط کئے وہ بھی نئی تقرری کے ہیں توسیع کے نہیں۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل نے کہاعدالت کے سامنے وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت 28 نومبر کو ختم ہوگی۔عدالت نے کہا ہم آپ کے دلائل سے کافی طور پر مطمئن ہیں لیکن آپ نے اب تک جو سکیم اور ریگولیشنز بتائیں  ہیں اُس سے ہم مطمئن نہیں،اب ہمیں قوانین کا اندازہ ہوگیا ہے کہ قوانین کون سے ہیں؟آپ جس طرح دلائل دینا چاہتے ہیں دیں،توقع ہے آپ کے دلائل سے خلاء ختم ہو جائے گا۔چیف جسٹس نے کہاقانون کے مطابق آرمی چیف 28 اور 29 نومبر کی درمیانی شب ریٹائر ہوجائیں گے۔جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وضاحت کریں کیا ریٹائرڈ آرمی افسر آرمی چیف ہوسکتا ہے؟اگر آرمی چیف کو دوبار تعینات کیا ہے تو صاف بتائیں جس پراٹارنی جنرل نے کہا آرمی چیف کو مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا آرمی چیف کو ایکسٹینش دی گئی،سمجھ نہیں آرہا کسی نے کچھ بھی نہیں دیکھا، آئین کی شق 243 میں تقرری کی جاتی ہے،نوٹیفکیشن میں آرٹیکل 243 کاذکر نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاجو سمری صدر کو بھجوائی گئی تھی اس میں آئین کے آرٹیکل243 کا ذکر ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق آرمی چیف کو توسیع دی گئی ہے،نوٹی فکیشن کے مطابق آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو محدود کیا گیا ہے،جسٹس منصور علی خان نے کہا پرانے نوٹی فکیشن میں تعیناتی کا ذکر تھا اس میں توسیع کا ہے،جو نوٹی فکیشن دیا گیا ہے اِس میں 29 نومبر سے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دی جارہی ہے۔عدالت نے کہاکنونشن شاید اس وقت آتے ہیں جب قانون میں خلا ہو۔

اس سے پہلے پہلے وقفے کے بعد سماعت کے آغاز پر عدالت نے کہاپہلے قانون سے دلائل کا آغازکریں۔اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا وہ عدالت کو دلائل سے مطمئن کردیتے ہیں۔جسٹس منصور علی خان نے اپنے ریمارکس میں کہا ہم نے دیکھنا ہے مدت کامعاملہ کیا ہے؟کیاایک ریٹائرڈآرمی افسرکوآرمی چیف مقرر کیا جاسکتا ہے؟جس پراٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 میں مدت ملازمت کالفظ نہیں ہے،دوبارہ تعیناتی اسی آرٹیکل کے تحت ہوتی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ پہلےقانون کودیکھیں گے،ہمارے سامنےشخصیت نہیں،قانون اہم ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا قانون کواتناسخت نہیں ہوناچاہیئے کہ توڑنا  پڑے ۔چیف جسٹس نے کہا یہ قانون کی عدالت ہے یہاں شخصیات معنی نہیں رکھتیں،جوکام قانونی طورپردرست نہیں اسے کیسے ٹھیک کہہ سکتے ہیں؟۔اٹارنی جنرل نےکہابعض اوقات سختی سےچھڑی ٹوٹ جاتی ہے،عدالت کوقانون پراتناسخت نہیں ہوناچاہیئے،عدالت میں ملٹری قانون کی کتاب دی ہے،ایکٹ آف سروس کی تعریف پڑھناچاہتاہوں،جس پر جسٹس منصور نے کہا ایکٹ کےسیکشن 8 کی ذیلی شق 2 کے بارے میں بتائیں۔اٹارنی جنرل نے کہاتعیناتی کی مدت کو 1947 کے کنونشن سے اَخذکیاجاتاہے،2 چیزیں ہیں،ایک رینک اورایک تقرری ہوتی ہے ،جنرل فوج کاجرنیل ہوتاہے۔جسٹس منصور علی خان نے کہا ہمارے سامنے سوال چیف کاہے،جنرل کانہیں،جب ہم آرمی چیف کودیکھتے ہیں تورولزکاجائزہ لیتے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آرمی آفیسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینی پڑی تو دے گا،یہ بہت بڑی بات ہے،میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا،یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرمی کا ادارہ پوری دنیا میں کمانڈ کے ذریعے چلتا ہے جس پر  جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں۔اِس سے قبل  جسٹس منصور علی شاہ  نے اِستفسار کیا کہ چیف آف آرمی سٹاف میں سٹاف کا مطلب کیا ہے؟خالی چیف آف آرمی بھی تو ہوسکتا تھا جس پر اٹارنی جنرل کاکہناتھاکہ  اس بارے میں مجھے علم نہیں، پڑھ کر بتاسکتا ہوں۔

سماعت کے پہلے مرحلے میں  عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات طے ہے کہ ہم نے جن غلطیوں کی نشاندہی کی انہیں تسلیم کرکے ٹھیک کرلیاگیاہے۔جس پر اٹارنی جنرل  کہا انہیں غلطی تسلیم نہیں کیاگیا جس پر عدالت نے کہا کہ تسلیم نہیں کیا تو درستگی کیوں کی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا اُنہیں موقع دیں وہ اپنے دلائل سے آگاہ کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے۔چیف جسٹس نے کہا کل آپ نے جو دستاویز دی تھیں اس پر گیارہ ارکان نے ہاں کی ہوئی تھی۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کل بھی میں نے بتایا کہ توسیع کے نوٹیفکیشن پرمتعدد وزراکے جواب کا انتظار تھا، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اگر جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا جی ہاں قواعد کے مطابق ایسا ہی ہے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کہاں لکھا ہے کہ اگر کابینہ ارکان جواب نہ دیں تو اسے ہاں تصور کیاجائے گا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا جی ہاں آرٹیکل انیس اے کے مطابق ہاں تصور ہوگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انیس اے تب لاگو ہوتا ہے جب مخصوص وقت متعین کیاگیاہو۔ اٹارنی  جنرل نے کہا اُن کے انتظارکے آگے ہاں لکھا ہوا ہے۔رول کے مطابق انتظار کا مطلب ہاں ہوتا ہے۔اِنتظار کتنے دن کا ہوسکتا ہے یہ بھی بتادیں۔

۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذرائع ابلاغ پر چلنے والی یہ خبر درست نہیں کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا اَزخود نوٹس لیا ہے اور یہ کہ عدالت اب بھی درخواست گزار ریاض حنیف راہی کی درخواست ہی سن رہی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں جنرل باجوہ کی طرف سے مستعفی وزیر قانون فروغ نسیم پیش ہوئے اور اپنا وکالت نامہ بھی جمع کرادیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا آرمی رولز میں ترامیم ہوئی ہیں تواس کی کاپی فراہم کی جائے۔اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل ایک سو چوہتر کے تحت دو سو پچپن میں ترمیم ہوئی۔جسٹس منصور علی نے کہا کیا کوئی ریٹائرڈ آفیسر بھی آرمی چیف بن سکتاہے؟اٹارنی جنرل نے کہاآرمی ریگولیشن کی کتاب مارکیٹ میں نہیں ملتی۔جس پر چیف جسٹس نے کہا اب سوال اٹھایاہے توجائزہ لینے دیں۔

چیف جسٹس نے کہا آرمی چیف کی توسیع کامعاملہ بہت اہم ہے، اس معاملے پرقانونی نکات خاموش ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ماضی میں جرنیلوں نے کئی کئی سال توسیع لی۔انہوں نے کہاازسرنواورتوسیع سے متعلق قانون دکھائیں جس پرعمل کیاگیا۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اپنے دلائل مکمل کرکے عدالتی سوالوں کاجواب دیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں