نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی تعیناتی ، سینئر صحافی نے ساری کہانی کھل کر بتادی

نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی تعیناتی ، سینئر صحافی نے ساری کہانی کھل ...
نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی تعیناتی ، سینئر صحافی نے ساری کہانی کھل کر بتادی

  



لاہور (تجزیہ:محسن گورایہ) وفاقی حکومت نے پنجاب کے انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سب سے بہترین افسر میجر اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری تعینات کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ میجر اعظم سلیمان کو وزیر اعظم عمران خان نے مکمل اختیارات دے کر پنجاب بیجا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ کسی سیاسی دباو کے بغیر سخت انتظامی فیصلے کریں۔

انہیں، انکی پسند اور مرضی سے ایک اچھا پولیس ا فسر، انسپیکٹر جنرل پولیس کے طور پر دیا گیا ہے۔نئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر ، سیکرٹری داخلہ کے طور پر میجر اعظم سلیمان کے ماتحت ہی ایک ادارے نیشنل پولیس فاونڈیشن کے ایم ڈی تھے۔وہ بھی اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر ہیں۔نئے تعینات ہونے والے چیف سیکرٹری پنجاب میجر اعظم سلیمان اس وقت وفاقی سیکرٹری داخلہ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ قبل ازیں وہ چیف سیکرٹری سندھ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب رہنے کے علاوہ پنجاب کے تمام بڑے محکموں کے سیکرٹری بھی رہے۔ انہیں پنجاب کے مختلف ڈویثزنوں میں کمشنر اور اضلاع میں ڈی سی او اور ڈپٹی کمشنر رہنے کا تجربہ بھی حاصل ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے موجودہ حالات کے حوالے سے وہ بہترین چوائس ہیں ،انہیں پنجاب کے انتظا می معاملات اور امن و امان کی صورتحال کو اچھے انداز میں کنٹرول کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔

پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے پاک فوج اور دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی روک تھام کیلئے مثالی اور دلیرانہ اقدامات اٹھائے۔میجر اعظم سلیمان اپنی محنت، دیانت،ذہانت اور بر وقت فیصلوں کی وجہ سے پہچانے جانے والے سخت گیر افسر ہیں،جنہیں پنجاب کے حوالے سے کام کرنے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے اور ان کے سامنے پنجاب کے انتظامی اور امن و امان کے حوالے سے شائد ہی کوئی مسئلہ چھپا ہوگا۔میجر اعظم سلیمان پاک فوج کے مرحوم جنرل حمید گل کے اے ڈی سی رہنے کی وجہ سے پاک فوج میں بھی انتہائی قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں،وہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کورس میٹ بھی ہیں۔ میجر اعظم سلیمان کی انتظامی صلاحیتیں اس وقت کھل کر سامنے آئیں جب انہیں ڈپٹی کمشنر قصور مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے بہترین ترقیاتی اورانتظامی اقدامات اٹھائے۔

بعد ازاں وہ ڈپٹی سیکرٹری پولیس (ہوم) اور ایڈیشنل سیکرٹری جیلخانہ جات (ہوم) رہے۔اس کے بعد انہیں ڈائرکٹر انٹی کرپشن لاہور تعینات کیا گیا۔بعد ازاں وہ ڈی سی او فیصل آباد رہے جہاں آج بھی ان کا نام ایک محنتی اور نیک نام افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔بعد ازاں وہ کمشنر لاہور، سیکرٹری فوڈ،سیکرٹری جنگلات،سیکرٹری ا ریگیشن،سیکرٹری مواصلات و تعمیرات ، سیکرٹری ہوم اور پھر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم رہے۔ میجر اعظم کے دور میں پولیس اور سول محکموں کے درمیان مثالی تعلقات تھے۔گزشتہ انتخابات کے دوران انہیں پنجاب سے تبدیل کر کے چیف سیکرٹری سندھ لگایا گیا اور انہوں نے وہاں مثالی امن و امان کے ساتھ انتخابات کرائے اور بعد ازاں اپنے خواہش پر وفاق میں آگئے جہاں انہیں سیکرٹری داخلہ تعینات کیا گیا۔پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے عثمان بزدار کے آنے کے بعد سے اب تک ایک ایسے چیف سیکرٹری کی ضرورت تھی جو مضبوط اعصاب اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا مالک ہو۔

پنجاب کے تبدیل ہونے والے والے چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر بھی بہترین افسر ہیں اور انہوں نے اپنے طور پر اعلیٰ کام کیا۔پنجاب کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک ایسے چیف سیکرٹری کی ضرورت تھی حکومتی کولیشن اور سیاسی معاملات پر بھی نظر رکھنے والا ہو۔میجر اعظم سلیمان اس حوالے سے ایک بہت اچھی چوائیس ہیں اور ان کے آنے سے پہلے ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر موجودہ حالات میں کوئی اعلیٰ افسر پنجاب کے معاملات کو بہتر کر سکتا ہے تو وہ میجر اعظم سلیمان ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور