آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ،عدالت کے 4قانونی نکات اور ان پر حکومت کا موقف

آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ،عدالت کے 4قانونی نکات اور ان پر حکومت کا موقف
آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ،عدالت کے 4قانونی نکات اور ان پر حکومت کا موقف

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق کیس پر گذشتہ روز عدالت عظمیٰ نے دستیاب دستاویزات کو دیکھتے ہوئے چار نکتے قابل غور قرار دیے تھے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق عدالت نے چارنکات اٹھائے تھے جن میں توسیع کس قانون کے تحت ہوئی۔توسیع کا طریقہ کار ’خامیوں‘ سے لبریز۔ آرمی ریگولیشن (رولز) کی شق 255۔کیا ’علاقائی سکیورٹی ماحول‘ توسیع کے لیے جائز وجہ ہے؟ شامل ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات اور ان پر سامنے  آنے والا حکومتی موقف مندرجہ ذیل ہے۔

1۔ توسیع کس قانون کے تحت ہوئی؟

عدالت نے نوٹ کیا کہ اٹارنی جنرل انہیں کوئی ایسا قانونی حوالہ نہیں دے سکے کہ یہ توسیع کس قانون کے تحت عمل میں لائی گئی۔

حکومتی موقف: وفاقی کابینہ نے ایک ہنگامی اجلاس میں پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کردی ہے اور آرٹیکل میں الفاظ ’مدت میں توسیع‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر شفقت محمود کا موقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیر اعظم کا یہ اختیار ہے کہ وہ صدر کو ایڈوائس کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے جس کا انہوں نے استعمال کیا۔

2۔ توسیع کا طریقہ کار ’خامیوں‘ سے لبریز

عدالت نے وزیر اعظم کے 19 اگست 2019 کے اعلامیے کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت اس کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہے۔ بظاہر اس غلطی کا ادراک اسی روز ہوا اور وزیر اعظم نے صدر کو اسی روز ایک سمری ارسال کی، جسے صدر نے منظور کر لیا۔ لیکن یہ طریقہ کار خامیوں والا تھا۔ پھر حکومت کو خیال آیا کہ وزیر اعظم ایسا وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں کرسکتے ہیں۔ عدالت کو دستیاب دستاویزات کے مطابق کابینہ کے 25 میں سے محض 11 اراکین نے توسیع کی تجویز کی منظوری دی جس سے بظاہر کابینہ کی اکثریت کا اس کے حق میں نہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہ منظوری وزیر اعظم اور صدر کو تازہ حکم نامے کے اجرا کے لیے بھیجی ہی نہیں گئی۔

حکومتی موقف: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کل شام اخباری کانفرنس میں کابینہ اجلاس سے متعلق کہا کہ ’اکثر اراکین ہاں نہیں لکھتے لہذا ان کے کچھ نہ کہنے کو بھی منظوری مانا جاتا ہے اور یہ ایک پرانی روایت ہے۔‘

3۔ آرمی ریگولیشن (رولز) کی شق 255

عدالت کا اس شق کے بارے میں کہنا تھا کہ اس کا اطلاق اس وقت ہوگا جب کوئی فوجی افسر ریٹائر ہوچکے ہوں، جس کی وجہ سے یہ قانون ریٹائرمنٹ معطل یا محدود کرنے کی بات کرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل اس کا اطلاق بقول عدالت کے ’گھوڑے کے آگے گاڑی لگانا ہوگا۔‘ اٹارنی جنرل نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ پاکستان آرمی کے تمام قوانین میں کہیں بھی آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا سروس میں توسیع سے متعلق کچھ بھی نہیں ہے۔

حکومتی موقف: وزیر اعظم کا یہ صوابدیدی اختیار ہے اور یہ کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کردی ہے اور آرٹیکل میں الفاظ ’مدت میں توسیع‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔سوال یہاں یہ ہے کہ کیا کابینہ کی سطح پر یہ ترمیم عدالت عظمیٰ کو قابل قبول ہوگی یا نہیں۔

4۔ کیا ’علاقائی سکیورٹی ماحول‘ توسیع کے لیے جائز وجہ ہے؟

عدالت نے نوٹ کیا کہ ’علاقائی سکیورٹی ماحول‘ کافی غیرواضح الفاظ ہیں اور اگر خطے میں کوئی سکیورٹی خطرہ موجود بھی ہے تو اس کا مقابلہ ملک کی بہادر مسلح افواج بحثیت ادارہ کریں گی اور کسی انفردی شخص کا اس میں کردار بہت کم ہوتا ہے۔ اگر اس وجہ کو درست مان لیا جائے تو مسلح افواج میں کام کرنے والا شخص اسی بنیاد پر دوبارہ تعیناتی اور توسیع کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

حکومتی موقف: بھارت بار بار پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور کوئی جھوٹا آپریشن کر سکتا ہے۔ ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ غیر معمولی صورت حال ہے۔ کشمیر میں 113 دن سے جاری کرفیو بھی غیر معمولی حالات ہیں جبکہ بھارت دریاو¿ں کا پانی روکنے کی بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کے حتمی فیصلے تک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو معطل کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کے لیے حکومت کے ’فائر فائٹنگ‘ اقدامات کس حد تک قابل قبول ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی