اسلام آبادہائیکورٹ ،سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے سے متعلق وزارت داخلہ کی درخواست منظور،خصوصی عدالت کو روک دیاگیا

اسلام آبادہائیکورٹ ،سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے ...
اسلام آبادہائیکورٹ ،سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے سے متعلق وزارت داخلہ کی درخواست منظور،خصوصی عدالت کو روک دیاگیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے سے متعلق وزارت داخلہ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا،عدالت نے حکومتی درخواست منظور کرلی اور خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے نوٹیفکیشن معطل کردیا۔عدالت نے سنگین غداری کیس میں پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ وفاقی حکومت 5 دسمبر تک پراسیکیوٹر تعینات کرے،عدالت نے فریقین کو سن کر خصوصی عدالت کو فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی،ہائیکورٹ نے مزید کہا ہے کہ پرویزمشرف کے وکیل سلمان صفدر کو بھی خصوصی عدالت سنے،خصوصی عدالت شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے کرے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے کی وزارت داخلہ کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے استفسار کیاکہ خصوصی عدالت کا نوٹیفکیشن لے کر آئے ہیں ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 20 نومبر2013 کا نوٹیفکیشن ہے ،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف کو بلایاتھا وہ کیوں نہیں آئے؟چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکرٹری وزارت قانون و انصاف کوآدھے گھنٹے میں پیش ہونے کاحکم دیدیا،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اصل دستاویزات کے ساتھ پیش ہوں ،کوئی کاپی نہیں اصل دستاویزات کے ساتھ پیش ہوں ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو بتائیں قانون کیا ہے ؟عدالت کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو پیراگراف5 کو دوبارہ پڑھنے کا حکم دیدیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ہمارے پاس دو قانون ہیں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو قانون پڑھنے کا حکم دیدیا،چیف جسٹس نے کہا کہ دوسراایکٹ کونسا ہے ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ دوسراایکٹ کریمنل لا1976 ہے ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت کو آفیشل گزٹ کا نوٹیفکیشن دکھائیں،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ 2013 کے بعد پہلی تبدیلی کب ہوئی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جس جس تاریخ پر جو جو تبدیلی آئی اس کے نوٹیفکیشن موجود ہیں ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے قانون پڑھا ہے ؟کیا نوٹیفکیشن واپس لیا جا سکتا ہے ؟،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسی تشریخ نہیں جس تک شکایت رہتی ہے واپس نہیں لیتے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر برہمی کااظہارکیا،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ اگرآپ کو کسی چیز کانہیں پتہ تو اگلے ہفتے سماعت رکھتے ہیں ؟خصوصی عدالت کا ٹربیونل کب بنا؟ان کا نوٹیفکیشن کب ہوا؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نومبر2019 کو ٹربیونل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،4 اکتوبر2019 کوٹربیونل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اکتوبر1999 کے اقدامات کو بھی غیر آئینی قرار دیاگیا،آپ اس حوالے سے علیحدہ شکایت داخل کیوں نہیں کرتے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا سمجھنے کی کوشش کریں یہ غیر معمولی حالات ہیں۔3 نومبر کو ایمرجنسی کاٹارگٹ عدلیہ تھی۔جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ کہہ رہے ہیں ٹرائل کیلئے خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں تھی آپ دلائل سے بتا رہے ہیں ایسا نہیں تو پھر آپ کی درخواست ہی درست نہیں ۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ جائیں جاکر بیان دیں ہم مشرف کیخلاف درخواست واپس لے رہے ہیں ،یہاں کیو ں آئے ہیں ؟آپ نے تب غلطی کی تھی تو اب اسے ٹھیک کیسے کرائیں گے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ شکایات سیکرٹری داخلہ کی جانب سے داخل کرائی گئی تھی،جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا آپ آج یہ کیس وفاقی کابینہ کی اجازت سے یہاں لے کر آئے ہیں ؟آپ اپنی غلطی تسلیم کررہے ہیں تو یہی بات متعلقہ ٹربیونل کو جا کر بتائیں ،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں اب ہم نے کیاکرنا ہے؟آپ ہم سے کیا آرڈر چاہتے ہیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں غداری کیس چلانے کی درخواست غلط تھی ٹرائل کا فورم بھی،آپ کی غلطیاں ہم ہی ٹھیک کریں ۔جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ آپ یوں کہیں پرویز مشرف کے خلاف کیس نہیں چلانا چاہتے کیاآج وفاقی حکومت پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل نہیں کرناچاہتی؟چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار درخواست دائر کرکے کہتے ہیں میں نے جو کیاوہ غلط کیا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی خصوصی عدالت پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ نہ سنائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہ ہم اس شخص کو ڈیل کررہے ہیں جس کیخلاف ہم نے مہم چلائی ،یہ عدلیہ کے فیئر ٹرائل کا ٹیسٹ ہے یہ بہت مشکل اور مضحکہ خیز کیس ہے ایک شخص جس نے عدلیہ پر وارکیا ہمارے سامنے اس کا کیس ہے وہ شخص اشتہاری بھی ہو چکا ہے اس کے فیئرٹراءکے تقاضے بھی پورے کرنے ہیں ،جسٹس عامر فاروق نے کہا کی ایک سال سے پراسیکیوشن ٹیم کے سربرہ کی تقرری نہیں کی گئی جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ پرویز مشرف کے خلاف کیس چلانا نہیں چاہتے ،غلطی ایک کی ہوتی ہے اور سب اس کا سامنا کرتے ہیں ۔جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ آپ سے کوئی غلطی ہوئی تو آپ نئی شکایت داخل کرکے غلطی درست کردیتے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ کون سی پٹیشن ہے وہ آکر کہہ رہا ہے میں نے جو کچھ کیا وہ غلط ہے ۔

عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو روسٹرم پر بلا لیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہ آپ کیلئے ٹیسٹ کیس ہے،میں نے مشرف کی طرف سے درخواست نہیں دی،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جب کوئی ملزم اشتہاری ہو جائے تو اس کی طرف سے کوئی وکالت نامہ جمع نہیں کرایاجا سکتا ،عدالت نے مشرف کیلئے وکیل مقرر کیا جو عمرہ پر گئے تو انہیںبھی نہیں سنا۔وکیل سلما ن صفدر نے کہا کہ اشتہاری کو کوئی دوسراوکیل دیا جارہاہے تو مجھے پیش ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی، 9 اکتوبر2018 کو وکالت نامہ جمع کرایا اس وقت پرویز مشرف مفرور تھے ،12 جون2019 کو مجھے پرویز مشرف کی طرف سے پیش ہونے سے روک دیا گیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ درخواست اپنے نام سے دائر کی مشرف کی طرف سے نہیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ 3 نومبر کی ایمرجنسی ججز کیخلاف تھی ہمیں آپ نے مشکل صورتحال میں ڈال دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی مفرور سے متعلق عدالتی فیصلہ پڑھ لیجیے وہ تو وکالت نامے پر بھی دستخط نہیں کرسکتا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے مطابق وفاق مشرف کو وکیل دے گی،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ فیصلے میں واضح رہے خصوصی عدالت مشرف کو پراسیکیویٹ کر سکتی ہے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خصوصی عدالت نے مشرف کو ویڈیو لنگ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی آپشن دی ؟وکیل نے کہاکہ جی عدالت نے آپشن دی مگر انہوںنے اسے قبول نہیں کیا،مشرف بیمار اور اس پویشن میں نہیں اسکائپ پر بیان ریکارڈکرا سکیں۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے سے متعلق وزارت داخلہ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا، عدالت نے حکومتی درخواست منظور کرلی اور خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے نوٹیفکیشن معطل کردیا۔عدالت نے سنگین غداری کیس میں پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ وفاقی حکومت 5 دسمبر تک پراسیکیوٹر تعینات کرے،عدالت نے فریقین کو سن کر خصوصی عدالت کو فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی،ہائیکورٹ نے مزید کہا ہے کہ پرویزمشرف کے وکیل سلمان صفدر کو بھی خصوصی عدالت سنے،خصوصی عدالت شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے کرے.

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں