میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا ، یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے: چیف جسٹس

میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا ، یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے: ...
 میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا ، یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے: چیف جسٹس

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آرمی آفیسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینی پڑی تو دے گا، یہ بہت بڑی بات ہے،میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے دیگر ججوں میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ وفاقی حکومت آرمی سے متعلق قواعداور ضوابط بناسکتی ہے ،اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرمی کا ادارہ پوری دنیا میں کمانڈ کے ذریعے چلتا ہے جس پر  جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں۔

اس سے قبل  جسٹس منصور علی شاہ  نے استفسار کیا کہ چیف آف آرمی سٹاف میں سٹاف کا مطلب کیا ہے،خالی چیف آف آرمی بھی تو ہوسکتا تھا جس پر اٹارنی جنرل کاکہناتھاکہ  اس بارے میں مجھے علم نہیں، پڑھ کر بتاسکتا ہوں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چیف آف آرمی سٹاف آرمی کے کمانڈنگ افسر ہیں، آرمی ایکٹ کا اطلاق تمام افسران، جونیئرکمیشن اور وارنٹ افسران پر ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپہ سالار کو چیف آف آرمی سٹاف کہا جاتا ہے، لفظ اسٹاف کا کیا مطلب ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہشاید سٹاف کا مطلب آرمی میں کام کرنے والے تمام لوگ ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرمی میں کئی سویلین لوگ بھی کام کرتے ہیں،آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی افسر وہ ہے جو کمیشنڈ افسر ہو،آرمی چیف کو کسی بھی افسر کی برطرفی کا اختیار ہے۔اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ سٹاف کا سربراہ حاضر سروس شخص ہی ہوسکتا ہے، حکومت کا انحصار سیکشن 255 پر ہے جو آرمی افسر کے لیے ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ایکٹ میں کوئی ایسی بات ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع دی جائے؟ کوئی ایسی چیز دکھائیں جس سے توسیع دینا واضح ہوسکے۔اٹارنی جنرل کاکہناتھاکہ ایسی پروویژن ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع دی جائے۔ اس پر جسٹس منصور کاکہناتھاکہ آپ جس کا حوالہ دے رہے ہیں وہ رولز ہیں ہمیں ایکٹ دکھائیں، اگر میں کمیشنڈ افسر بن جاتا ہوں تو کیا میں کہوں گا کہ تاحیات کمیشنڈ افسر ہوں ؟ ہم کنفیوز ہورہے ہیں ایک شخص کو بھرتی کیا جا رہا ہے لیکن اس کی ریٹائرمنٹ کا علم نہیں۔

مزید : قومی