”برسبین میں تو ہمیں کھیل ہی لیا تھا لیکن ایڈیلیڈ میں ہم بتائیں گے کہ۔۔۔“ فاسٹ باﺅلر پیٹ کومنز نے ایسا اعلان کر دیا کہ پاکستانی کھلاڑی تو کیا، ماہرین بھی پریشان ہو جائیں

”برسبین میں تو ہمیں کھیل ہی لیا تھا لیکن ایڈیلیڈ میں ہم بتائیں گے کہ۔۔۔“ ...
”برسبین میں تو ہمیں کھیل ہی لیا تھا لیکن ایڈیلیڈ میں ہم بتائیں گے کہ۔۔۔“ فاسٹ باﺅلر پیٹ کومنز نے ایسا اعلان کر دیا کہ پاکستانی کھلاڑی تو کیا، ماہرین بھی پریشان ہو جائیں

  



ایڈیلیڈ (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلین ٹیم اننگز اور 5 رنز سے فاتح ٹھہری اور اب دوسرا ٹیسٹ میچ ایڈیلیڈ میں کھیلا جائے گا جو ڈے اینڈ نائٹ ہو گا اور اس میں روائتی سرخ گیند کی بجائے گلابی گیند استعمال کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق برسبین ٹیسٹ میں آسانی سے ہتھیار ڈال دینے والی پاکستان ٹیم کیلئے ایڈیلیڈ میں بھی سفر آسان نہیں ہو گا اور آسٹریلین فاسٹ باﺅلرز کی جنت خیال کی جانے والی پچ مہمان بیٹسمینوں کی ہمت کا امتحان لے گی۔ایڈیلیڈ اوول کے کیوریٹر ڈیمین ہوگ نے اس بار بھی روایتی گرین ٹرف تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے باعث آسٹریلین باﺅلرز کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو ترنوالہ بنانے کیلئے بے تاب ہیں۔

فاسٹ باﺅلر پیٹ کومنز کا کہنا ہے کہ برسبین کی کنڈیشنز میں جب بھی گیند تھوڑی نرم پڑی، تو دونوں طرف سوئنگ نہیں ہوئی،اس سے پاکستانی بیٹسمینوں کو کھیلنے میں آسانی ہوئی لیکن ایڈیلیڈ میں میزبان ٹیم کا ریکارڈ بہت اچھا ہے، پنک بال اور پچ پر تھوڑی گھاس کے علاوہ فلڈ لائٹس اور ہوا میں نمی کا فائدہ بھی فاسٹ باﺅلرز کو حاصل ہوگا،ہم یہاں کی کنڈیشنز سے اچھی طرح واقف اور فائدہ اٹھانے کا ہنر جانتے ہیں، اب عمدہ پرفارم کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔

آسٹریلین ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ٹم پین نے بھی پیٹ کومنز کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ برسبین کی نسبت ایڈیلیڈ میں صورتحال قطعی مختلف ہوگی۔ خاص طور پر رات کو گیند کے انداز میں تبدیلی انتہائی اہمیت کی حامل ہے،اگر یہ نرم نہیں پڑی تو بیٹسمینوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔

مزید : کھیل