"ریٹائرڈ افسران کو آرمی رولز میں سزا نہیں دی جاسکتی لیکن کچھ عرصہ قبل یہ کام بھی کیاگیا ۔ ۔ ۔" چیف جسٹس نے ایسی بات کہہ دی کہ نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

"ریٹائرڈ افسران کو آرمی رولز میں سزا نہیں دی جاسکتی لیکن کچھ عرصہ قبل یہ کام ...

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کے دوران چیف جسٹس نے انکشاف کیا ہے کہ رولز کے مطابق جنگی حالات میں ریٹائرڈ افسر کو دوبارہ تعینات کیا جاسکتا ہے لیکن کچھ عرصہ قبل پاک فوج کے 3 ریٹائرڈ فسران کو سزائیں دی گئیں،ان کیخلاف سروس میں بحال کرکے کارروائی کی گئی،متعلقہ حکام بتائیں کس قانون کے تحت ریٹائرڈ افسران کو بحال کرکے سزا دی گئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے دیگر ججوں میں جسٹس مظہر عالم  اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل ہیں۔سماعت کے دوران رولز اینڈ ریگولیشنز پڑھتے ہوئے  چیف جسٹس نے کہا کہ جس نے آرمی رولز اور ریگولیشنز بنائے ہم اس کی  سکیم سمجھنا چاہتے کہ اس کے ذہن میں کیا تھا، 

معلوم ہونا چاہیے آرٹیکل 255 کو پاک آرمی کس تناظر میں دیکھتی ہے،ریٹائرڈ افسران کو آرمی رولز میں سزا نہیں دی جاسکتی۔

ایک موقع پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ ریٹائرمنٹ محدود ہوسکتی ہے،تو جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نارمل ریٹائرمنٹ کب ہوتی ہے ؟ مدت ملازمت پوری ہوجائے تو کیا ریٹارمنٹ نہیں ہوتی ؟ جس پر اثبات میں جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہاکہ جی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔

جسٹس منصور علی نے کہاکہ سروس کی مدت پوری ہوتے ہی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نوکری سے نکالے جانے پر ڈسچارج یا ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، ہم سروس ٹرمینیشن سے متعلق پوری اسکیم دیکھ رہے ہیں،اس میں نوکری سے برخاستگی، ریٹائرمنٹ اور ریٹائرمنٹ کی معطلی آتی ہے،جنگ کے دوران عارضی طور پر ریٹارمنٹ معطل کی جاسکتی ہے۔

مزید : قومی