’’اگر حکومت یہ بات کہہ کر مطمئن کرتی ہے تو سپریم کورٹ مان جائے گی‘‘عرفان قادر نے حکومتی مشکل آسان کر دی

’’اگر حکومت یہ بات کہہ کر مطمئن کرتی ہے تو سپریم کورٹ مان جائے گی‘‘عرفان ...
’’اگر حکومت یہ بات کہہ کر مطمئن کرتی ہے تو سپریم کورٹ مان جائے گی‘‘عرفان قادر نے حکومتی مشکل آسان کر دی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف ماہر قانون اور  سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہاکہ سپریم کورٹ  حکومت کو موقع دے رہی ہے کہ وہ عدلیہ کے ضمیر کو مطئن  کرے ،اگر  حکومت  جمعرات کو سپریم کورٹ کو یہ کہہ  کر مطمئن کرتی ہے کہ جنرل باجوہ  ہی آرمی چیف کیلئے بہترین آدمی ہیں تو سپریم کورٹ حکومت کی بات مان جائے گی لیکن اگر وہ مناسب وجوہات بتانے سے ناکام رہتی ہے  تو پھر عدلیہ اُن کی بات نہیں مانے گی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اب تک جو پراسس  ہوا ہے،اُس میں بڑی عجیب و غریب چیزیں ہوئی ہیں، جنرل باجوہ  کا اپنی مدت ملازمت میں توسیع  کا کوئی ہاتھ نہیں تھا،اُن کو صدر مملکت نے توسیع دیدی، صدر مملکت  ہماری آرمڈ فورسز کے کمانڈر ہیں، جنرل باجوہ نے   توصدر مملکت کے  بطور سپریم  کمانڈر کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اَب اگر سپریم  کمانڈر اُن کو یہ احکامات دیتے ہیں کہ میں نے آپ کی تقرری غلط کردی ہے تو اُن کے احکامات کو مانتے ہوئے  جنرل باجوہ ہٹ جائیں گے۔اَب اِن کو بتانا یہ چاہیے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ اورسپریم کمانڈر کے درمیان ہے ،آپ دونوں مل کر جوبھی فیصلہ  مجھے دیں گے ،میں اُس پر عمل کروں گا۔اُنہوں نے کہا کہ فروغ نسیم کوچاہیےتھاکہ وہ وفاق پاکستان کی طرف  سےبطوروزارت قانون اجازت لے کر کیس کی رہنمائی کرتے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد