کرونا، وبا یاابلاغی دہشت گردی؟

کرونا، وبا یاابلاغی دہشت گردی؟
کرونا، وبا یاابلاغی دہشت گردی؟

  

بلند و بالا عمارتوں میں لگی آگ بجھانے والا عملہ ہو، یا جان لیوا متعدی امراض والی میتیں دفنانے والے گورکن ہوں، مسلح افواج کے جوان ہوں یا طبی عملہ، یہ سب انسانوں کو بچانے کی خاطر آگ میں جھلس کر، کبھی متعدی امراض کا شکار ہو کر اور کبھی سینے پر گولیاں سہہ کر اپنا آپ قربان کر دیتے ہیں۔ اگر یہ لوگ موت کے خوف سے اپنے فرائض چھوڑ دیں تو کیا معاشرے میں توازن نام کی کوئی شے رہ جاتی ہے؟ ایک اور طبقہ جو پورے معاشرے اور ملک کو چلاتا ہے،اس کا سینہ تان کر کھڑے ہونا ان سب زمروں سے زیادہ اہم اور لازمی ہوتا ہے کیونکہ یہ پورا ملک چلاتا ہے۔ اس کے کئی نام  ہیں۔ اسے حکومت کہیں یا اشرافیہ، اسے سیاسی قیادت کا نام دیا جائے یا انتظامیہ سے موسوم کیا جائے یا سب کچھ چھوڑ کر اسے مقتدر طبقہ کہہ لیں جس میں یہ سب شامل ہیں، نام سے غرض نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا یہ مقتدر طبقہ گزشتہ کرونائی بحران میں عوامی توقعات پر مطلقا پورا نہیں اترا۔ تاہم یہ امر باعث مسرت ہے کہ اس تازہ لہر میں اس طبقے کے اوسان قدرے بحال  ہیں۔

امید ہے کہ آئندہ دنوں میں وبا سے نمٹنے کے لئے ہیجان اور خوف کی بجائے امید اور ہوش سے کام لیا جائے گا۔

ذرا یاد کریں، چند ماہ قبل کیا میدان محشر مچا ہوا تھا۔ جس کے جی میں جو آتا، وہ اسمارٹ فون پر بیان کرکے اورفیس بک یوٹیوب پر ڈال کر اپنی کسی پوشیدہ نفسیاتی گرہ یا اذیت پسندی کی تسکین کرتا۔ عام بے بصیرت اور جاہلان مطلق کا ذکر اذکار ہی کیا، برطانیہ کی نامی گرامی یونیورسٹی امپیریل کالج آف لندن نے اپنی تحقیقی ٹیم کی رپورٹ شائع کی تو پاکستان میں کہرام مچ گیاتھا۔ٹی وی چینلوں نے دہائی مچا دی۔ حد تو یہ کہ اسد عمر بھی بے سوچے سمجھے چٹی چمڑی کی باتوں پر نہ صرف ایمان لے آئے بلکہ اپنے کسی تحقیقی ادارے سے بے پوچھے انھوں نے اسی شام بذریعہ پریس کانفرنس ملک میں نیا ہیجان بپا کر دیا۔ میں نے ان سب نامعقولات پر پورا کالم لکھا تھا۔لیکن چند چیزیں یاد کرانے میں حرج نہیں ہے۔ برطانوی تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگست 2020کے پہلے دو ہفتوں میں ہمیں پانچ لاکھ کرونا مریض اسپتال داخل کرانا تھے(10 ماہ میں کل مریض پانچ لاکھ تو کیا الحمدللہ چار لاکھ سے بھی بہت دور ہیں). کیا یہ بیان کرنا ابلاغی دہشت گردی

(Media Terrorism)

 نہیں ہے کہ صرف ایک دن یعنی 9 اگست کے 24 گھنٹوں میں کرونا سے 78 ہزار اموات ہوں گی؟(10ماہ میں کرونا اموات کی تعداد الحمدللہ آٹھ ہزار ہی ہو پائی ہے)۔ مزید ملاحظہ ہو، لیکن اس مزید کا انتظار کرنا پڑے گا، رپورٹ کے مطابق 26جنوری 2021 تک پاکستان میں کرونا سے 22 لاکھ اموات ہوں گی۔ یہ رپورٹ آئے 5 ماہ ہوگئے ہیں۔ باقی دو "تحقیقی" پیش گوئیوں پر اس تیسری کو قیاس کر لیں، جواب مل جائے گا۔ قانون ساز اداروں سے گزارش ہے کہ اس ابلاغی دہشت گردی اور طبی ہیجان پر قانون سازی کی جائے کہ جس سے پیدا شدہ مایوسی اور ہیجان نے ملکی معیشت کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

اب اس ہیجان کو ذرا دوسرے زاویے سے دیکھیے۔ 10ماہ میں کل 7803  اموات ہوئی ہیں۔ ملک کے 135 اضلاع پران اموات کو پھیلایا جائے تو جواب فی ضلع 58 اموات آتا ہے۔ اب ان اموات کو 10 ماہ پر پھیلائیں۔ فی ضلع فی ماہ پانچ چھ اموات آتا ہے۔ کیا اموات کی یہ شرح اتنی زیادہ ہے کہ ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے؟ مریضوں کی تعداد کو  مطلقا نظر انداز کر دیجیے کیونکہ  98 فیصد مریض صحت مند ہوکر گھروں میں ہیں۔ کرونا سے اموات کی شرح دنیا میں تین فیصد ہے لیکن پاکستان میں یہ شرح دو فیصد ہے۔ اموات کے اعتبار سے دنیا کے220 ممالک میں سے پاکستان  126ویں نمبر پر ہے حالانکہ آبادی کے لحاظ سے یہ نمبر پانچواں ہونا چاہیے. جبکہ دیگر بیماریوں اور ٹریفک حادثات والی اموات,کرونائی اموات سے کہیں زیادہ ہیں، کہیں زیادہ کیا، ناقابل بیان۔ مجھے نہ تو کرو نا کے وجود سے انکار ہے اور نہ اس کی ہلاکت خیزی زیر بحث ہے۔ میں نے اپنی ہر تحریر میں ہمیشہ یہی کوشش کی کہ قارئین کو سوجھ بوجھ اور تدبر کی طرف لے جاؤں۔ سنی سنائی "تحقیق" تو رہی ایک طرف، آپ ایک ترقی یافتہ ملک کی درجہ اول یونیورسٹی کی بین الاقوامی "تحقیق" ملاحظہ کر چکے ہیں جس کا سر ہے نہ پاؤں۔

ماضی کے تجربے اور اس گفتگو کی روشنی میں اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ آپ کو اس طبقے میں کرونائی اموات نہ ہونے کے برابر ملیں گی جو دن بھر ہجوم کی شکل میں رہتا ہے۔ لیکن الگ تھلگ اشرافیہ (جو مرنے سے پہلے ہی مر چکی ہے) کا جائزہ لیں تو آپ کو اموات کی غالب تعداد اسی طبقے میں ملے گی اور یہی طبقہ بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ دن رات انگریزی میں فارسی بولتا رہتا ہے۔لاک ڈاؤن۔۔۔ لاک ڈاؤن۔۔۔! مر گئے۔۔۔مر گئے۔۔۔! مجھے لاک ڈاؤن سے اختلاف نہیں, بشرطیکہ مقتدر طبقے کی تنخواہ، مراعات، پینشن اور گاڑی وغیرہ بند کرکے لاک ڈاؤن کیا جائے۔ اور مفلوک الحال طبقے کو زندہ رہنے کے لیے گھر پر وسائل مہیا ہوں۔ غضب خدا کا، یہ اشرافیہ مراعات تو ترقی یافتہ ممالک جیسی لیتی ہے لیکن ٹیکس دیتے وقت یہی لوگ 25 سالوں میں اپنے براہ راست ٹیکسوں کو بڑی خاموشی اور چالاکی سے 15 سے 10 فیصد نیچے لے آئے ہیں۔ گویا ملک چلے تو 90% مفلوک الحال طبقے کے ٹیکسوں سے اور لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ بھوک سے مرنے کے لیے بھی یہی 90% مفلوک الحال ہی آگے رہیں۔ قارئین کرام ملک ان شرائط پر مزید کسی لاک ڈاؤن کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -