’پولیس نے رات کو میرے ڈرائیور کو اٹھایا اور صبح مقابلے میں ماردیا‘ ڈیفنس کراچی کا پولیس مقابلہ جعلی قرار، پی ٹی آئی خاتون رہنما میدان میں آگئیں

’پولیس نے رات کو میرے ڈرائیور کو اٹھایا اور صبح مقابلے میں ماردیا‘ ڈیفنس ...
’پولیس نے رات کو میرے ڈرائیور کو اٹھایا اور صبح مقابلے میں ماردیا‘ ڈیفنس کراچی کا پولیس مقابلہ جعلی قرار، پی ٹی آئی خاتون رہنما میدان میں آگئیں
سورس:   Twitter

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈیفنس کراچی میں جمعہ کے روز ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک ہوگیا۔ پولیس نے جن لوگوں کو ڈاکو قرار دے کر پار کیا ان میں سے ایک پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کا ذاتی ڈرائیور تھا جس کو رات 4 بجے گھر سے اٹھایا گیا۔

ڈیفنس فیز 4 میں پولیس نے ایک مقابلے میں 5 افراد کو پار کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ مختلف بنگلوں میں ڈکیتیاں کررہے تھے۔ دوسری جانب ڈپٹی سیکرٹری تحریک انصاف وومن ونگ لیلیٰ پروین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے ڈرائیور عباس کو بھی مقابلے میں مار دیا ہے، یہ شخص 5 سال سے میرا ڈرائیور تھا۔ پولیس نے جس گھر میں ڈکیتی کا واقعہ دکھایا ہے وہ بھی میرا گھر ہے، جس گاڑی کو جرائم کیلئے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا گیا وہ بھی پولیس ریکارڈ میں کلیئر ہے۔

دوسری جانب ان کے شوہر علی حسنین جو کہ سندھ ہائیکورٹ کے سینئر وکیل ہیں انہوں نے بتایا کہ پولیس گزشتہ رات 4 بجے ان کے گھر میں گھسی اور والدہ اور مہمانوں کو یرغمال بنا کر گاڑی اور ڈرائیور عباس کو ساتھ لے گئی۔ بعد میں چھیپا کی تصاویر دیکھیں تو پتہ چلا کہ عباس کو مار دیا گیا ہے۔

علی حسنین نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہیں، ڈرائیور عباس ان کی والدہ کو ہسپتال لے جاتا تھا اور سارا دن ان کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مقابلے میں مارے جانے والے باقی 4 لوگوں کو نہیں جانتے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایس ایس پی ساؤتھ نے پولیس مقابلے کے بعد کہا تھا کہ مارے جانے والے لوگ سرائیکی گینگ کے نام سے مشہور تھے جو ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقے میں وارداتیں کرتے تھے۔ یہ ملزمان ڈیفنس کے اسی بنگلے میں رہائش پذیر تھے جس میں مقابلہ ہوا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -