’کشمیرپر تھرڈ آپشن کا امریکہ کا دیا ہوا آئیڈیا ہے‘جماعت اسلامی نے وزیراعظم عمران خان پر سنگین الزام عائد کردیا

’کشمیرپر تھرڈ آپشن کا امریکہ کا دیا ہوا آئیڈیا ہے‘جماعت اسلامی نے وزیراعظم ...
’کشمیرپر تھرڈ آپشن کا امریکہ کا دیا ہوا آئیڈیا ہے‘جماعت اسلامی نے وزیراعظم عمران خان پر سنگین الزام عائد کردیا
سورس: File Photo

  

مظفر آباد لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) قائمقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی شہادت سے عالم اسلام عظیم مرد مجاہد سے محروم ہو گئی، سب سے بڑے پاکستانی تھے،ہندوستان کی سنگینوں کے سائے میں ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ،نعرہ کے خالق کی ساری زندگی ہندوستان کے عقوبت خانوں میں گزری، لیکن کبھی بھی لغزش نہ آئی، وزیراعظم عمران خان کشمیرپر تھرڈ آپشن کا حوالہ دیتے ہیں جو امریکہ کا دیا ہوا آئیڈیا ہے، سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی اسی طرح کی ہی باتیں کرتے تھے، کشمیرپر کسی سودے بازی کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، کشمیر کاز سے بے وفائی کرنے والوں کا احتساب کریں گے،جب تک ہماری گردنوں پر سر ہیں، کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے،

 جماعت اسلامی ضلع مظفرآباد کے زیر اہتمام سید علی شاہ گیلانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیا قت بلوچ نے کہاکہ کشمیری میدان کارِزار میں سالہا سال سے کھڑے ہیں، ان کی ہمتیں جوان اور حوصلے پہاڑوں سے بھی بلند تر ہیں، سید علی گیلانی حریت پسندوں کے سرخیل تھے، کشمیری قائدین کو پوری دنیا تک رسائی دی جائے،کشمیرپر نائب وزیرخارجہ کی تعیناتی ہونی چاہیے، پوری دنیا میں پاکستان کے سفارت خانوں میں سپیشل کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں،آزادکشمیر حکومت کو ریاست کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، سید علی گیلانی کی سوانح حیات کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے، ملکی سالمیت کشمیر کی آزادی سے وابستہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کی خاموشی پاکستانیوں سمیت پوری امت مسلمہ کے لیے تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی گزشتہ اور اس صدی کے عظیم مجاہد آزادی اور سب سے بڑے پاکستانی تھے، دنیا بھر میں حریت پسندوں کے لیے امید اور حوصلے کا محور ومرکز تھے، پاکستان سب سے وفا دار مرد مجاہد سے محروم ہو گیا، ان کی شہادت کے بعد لاکھوں شمع آزادی کے پروانے موجود ہیں جس خواب کو سید علی شاہ گیلانی نے دیکھا، تو کہ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے، جس خواب کو سینے سے لگائے وہ اللہ کے حضور پیش ہو گئے، ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا،گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے آگ اور خون کا کھیل جاری ہے، قابض افواج مقبوضہ وادی میں کشمیری نسل کشی میں مصروف ہیں۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے 5اگست 2019ءکے اقدام کے بعد کشمیریوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا ہے، کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو گیا ہے، تمام کشمیری قیادت قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہے، نظربندی اور جیلوں میں ان کی شہادتیں ہو رہی ہیں، کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد لاپتا ہے، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، ایک خاص منصوبے کے تحت کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے مگر پاکستانی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، وزیراعظم اقوام متحدہ میں تقریر، چند منٹ کی خاموشی اور ایک دن کے احتجاج کا اعلان کرنے کے بعد کشمیر کو مکمل فراموش کر چکے ہیں، کشمیری عوام اپنے آپ کو لاوارث محسوس کر رہے ہیں، ہمارے حکمرانوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، مگر ہم سات دہائیاں گزرنے کے باوجود شہ رگ کے بغیر رہ رہے ہیں۔

 انھوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی مقبوضہ وادی میں انسانیت کے خلاف مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کو کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کا ادراک نہیں ہوا، بلکہ ان کی ساری توانائیاں دین اسلام کے ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے میں صرف ہو رہی ہیں، حکومت نے مودی کے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام کے بعد کوئی موثر حکمت عملی تشکیل نہیں دی، ہم نے بار بار یہ مطالبہ کیا کہ کشمیر پر نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے اور اس کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر پالیسی تشکیل دینی چاہیے مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی، حکومت عالمی سطح پر کشمیر کا کیس لڑنے میں مکمل ناکام رہی، اس سلسلے میں او آئی سی کے پلیٹ فارم کو بھی موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔

مزید :

علاقائی -آزاد کشمیر -مظفرآباد -