’انگریزی سیکھتے سیکھتے ہم نے اپنی قومی زبان کو بھلا دیا‘مرتضیٰ وہاب نے اردو کا ’نوحہ ‘ پڑھ دیا 

’انگریزی سیکھتے سیکھتے ہم نے اپنی قومی زبان کو بھلا دیا‘مرتضیٰ وہاب نے اردو ...
’انگریزی سیکھتے سیکھتے ہم نے اپنی قومی زبان کو بھلا دیا‘مرتضیٰ وہاب نے اردو کا ’نوحہ ‘ پڑھ دیا 
سورس: File Photo

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈمنسٹریٹر کراچی،مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا، انگریزی زبان سیکھتے سیکھتے ہم نے اپنی قومی زبان اردو کو بھلا دیا ہے، ہم نے اپنے ماضی کو بھلا کر جو نئی چیزیں سیکھنی شروع کی اس کی وجہ سے آج اردو زبان کا یہ حال ہے۔

 انجمن ترقی اردو کے زیر اہتمام مولوی عبدالحق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرتضی وہاب نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ کراچی سے زیادہ لاہور میں بہتر اردو سنی اور بولی جاتی ہے، بدقسمتی سے ہم لوگوں نے تہذیب وتمدن کو بھلا دیا ہے جس کی وجہ سے آج اردو کا یہ حال ہوا ہے،ایسے اجتماعات اب بند کمروں میں نہیں ہونے بلکہ بڑی بڑی جگہوں پر کھلی فضاءمیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کی قرار داد اردو میں لکھی جاتی ہے اور بلدیہ عظمی کراچی کے مرکزی بلڈنگ میں جو تختیاں آویزاں ہیں وہ بھی اردو زبان میں ہیں، سندھ حکومت فراخدلی کیساتھ انجمن ترقی اردو کو گرانٹ دیتی ہے جس کا مقصد اردو کی ترویج اور ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے، اردو زبان کی ترویج کیلئے سب کو مل کر کام کرناہوگا،مادری اور علاقائی زبانوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن اردو لوگوں کو جوڑنے کی زبان ہے، آپ ملک میں کسی بھی شہر میں چلے جائیں جو زبان آپ کے کام آئے گی وہ اردو ہے، آپ کو اس علاقے کی زبان نہ بھی آتی ہو لیکن اردو وہاں آپ کا ساتھ دے گی۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب  نے کہا کہ انجمن ترقی اردو جدید فنون کو استعمال کرتے ہوئے زبان کی ترویج پر کام کررہی ہے اور جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، اردو قومی زبان ہے اور اس کی ترویج وفروغ کیلئے سندھ حکومت ہر طرح تعاون کریگی۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -