گزشتہ ادوار میں کتنے لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا ؟ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے اعداد و شمار پیش کردیئے 

 گزشتہ ادوار میں کتنے لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا ؟ترجمان پنجاب ...
 گزشتہ ادوار میں کتنے لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا ؟ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے اعداد و شمار پیش کردیئے 
سورس: File Photo

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )معاون خصوصی وزیرِ اعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے گزشتہ ادوار میں سرکاری اراضی کو کمزور ترین ہدف سمجھتے ہوئےمحکمہ جنگلات،اوقاف اورمحکمہ مال سمیت دیگر محکمہ جات کی 472 ارب مالیت کی دو لاکھ 23 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر بلا خوف و خطر قبضے کیے گئے،اس میں سے سات ہزار ایکڑ اراضی شہری جبکہ تقریباً دو لاکھ 16 ہزار دیہی علاقوں میں تھی،2018ء سےوزیراعظم عمران  خان کی خصوصی ہدایات پر قبضہ شدہ سرکاری اراضی کی نشاندہی کاعمل شروع کیا گیا اور اب تک اس میں سے ایک لاکھ 88 ہزار ایکڑ اراضی واگزار کروائی جا چکی ہے،واگزار شدہ اراضی میں سے چار ہزار ایکڑ شہری جبکہ باقی دیہی اراضی ہے۔

الحمراءلاہور میں قبضہ مافیا سے واگزار شدہ اراضی کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران احسان خاور نے بتایا کہ واگزار شدہ اراضی متعلقہ محکموں کے حوالے کی جائے گی اور اس اراضی کو عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر بقایا 35 ہزار ایکڑ رقبہ اگلے پانچ ہفتوں میں واگزار کرایا جائے گا،سرکاری اراضی پر قبضہ حکومتی اراکین، سرکاری اہلکاروں اور قبضہ مافیا کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں، قبضہ مافیاز ان قبضوں کو مستقل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں،ایجرٹن روڈ پر ریکارڈ جلانے کے لیے ایک عمارت کی آتشزدگی اور جان بچانے کے لیے لوگوں کے عمارت سے چھلانگیں لگانے کے مناظر عوام آج تک نہیں بھول سکے، سب جانتے ہیں کہ ریکارڈ چھپانے کے لیے کتنی دفعہ سرکاری محکموں میں آگ لگائی گئی، گزشتہ دور حکومت میں آتشزدگیوں کی فرانزک رپورٹ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا کہ یہ دو لاکھ تئیس ہزار قبضے دراصل گزشتہ حکومت کی نااہلی کی رسیدیں ہیں، پاکستان تحریکِ انصاف نے تین سال کے قلیل عرصے میں دہائیوں کا گند صاف کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ حکومتی نیت صاف ہو تو سسٹم کا موثر نفاذ یقینی بنانا مشکل نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا گو کہ قبضہ مافیا میں 43 لوگ گزشتہ حکومت کے وزراءاور اراکین اسمبلی شامل ہیں لیکن قبضہ گروپوں کے خلاف کاروائی کو سیاسی انتقام کا نام دیا جانا درست نہیں،یہ اقدامات عوامی فلاح، حکومت اور قانون کی رٹ قائم کرنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے، مزید برآں جو سرکاری اہلکاران قبضہ گروپوں کے ساتھ ملوث پائے گئے، انہیں شریکِ جرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -