بال ٹمپرنگ کا تنازعہ پہلی بار 1976میں سامنے آیا

بال ٹمپرنگ کا تنازعہ پہلی بار 1976میں سامنے آیا

لاہور(انویسٹی گیشن سیل)کرکٹ کی تاریخ میں بال ٹمپرنگ کا تنازعہ پہلی بار 1976میں سامنے آیا ۔جب جان لیور نامی کھلاڑی نے گیند پر ویز لین کریم لگائی۔ 1994میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے دوران برطانوی کپتان مائیکل اتھرٹن کو جیب سے مٹی نکال کر گیند پر لگاتے ہوئے پکڑے جانے پر 2ہزار پاﺅنڈ جرمانہ کیا گیا۔1990کی ہی دھائی میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی طرف سے وسیم اکرم اور وقار یونس کی ریورس سوئنگ کی سمجھ نہ آنے پر پاکستان کے خلاف بال ٹمپرنگ کے الزامات عائد کئے گئے ۔2000میں سری لنکا کے خلاف میچ کے دوران پاکستانی باﺅلر وقار یونس کو بال ٹمپرنگ کے جرم میںایک میچ کھیلنے سے معطل کردیا گیا۔ اسی میچ میں بال ٹمپرنگ کے الزام میں ہی اظہر محمود کو بھی جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ۔ 2003میں پاکستانی باﺅلر شعیب اختر کا بھی بال ٹمپرنگ کے الزام میںدو میچوں سے باہر کردیا گیا۔اس سے قبل بھی شعیب اختر پر یہ الزام عائد ہوچکا تھا ۔اور انہیں تنبےہ کی گئی تھی۔2001میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران میچ فکسنگ کے الزام میں بھارتی کرکٹ سٹار سچن ٹنڈولکر پر امپائر نے ایک میچ کی پابند ی عائد کردی۔2006میں انگلینڈ میں اوول ٹیسٹ کے دوران پاکستانی باﺅلر وں پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد ہوا ۔ جس پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستانی کپتان انضمام الحق نے ٹیم کو گراﺅنڈ سے باہر بلوا لیا۔یہ اپنی نوعیت کا انوکھا میچ تھا۔جس میں کسی کپتان کی طرف سے میچ مکمل کرنے سے انکار کردیا گیا۔اس میچ کا پہلے تو انگلینڈ کو فاتح قرار دیدیا گیا ۔ بعد ازاں میچ کو برابر قرار دیدیا گیا۔2010میں انگلینڈ کے باﺅلر سٹوءرٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن پر جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کا الزام عائد ہوا لیکن ثابت نہ کیا جاسکا۔2010میں ہی آسٹریلیا کے خلاف T20میچ کے دوران پاکستانی کپتان شاہد آفریدی پر میچ بال ٹمپرنگ کا الزام عائد ہوا اور ان پر دو میچوں کی پابندی عائد کی گئی۔2012میںسری لنکا کے خلاف میچ کے دوران آسٹریلوی کھلاڑی پیٹر سڈل پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد ہوا جسے بعد ازاں آئی سی سی نے کلئیر کردیا۔اور اب 2013میں پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز چائے کے وقفے کے بعد جنوبی افریقہ کے باﺅلر ڈوپلیسی کو بال ٹمپر کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔کرکٹ قوانےن 

مزید : صفحہ اول