مجرموں جیسا سلوک کیا گیا، مغربی افریقہ سے امریکا پہنچنے والی نرس کی شکایت

مجرموں جیسا سلوک کیا گیا، مغربی افریقہ سے امریکا پہنچنے والی نرس کی شکایت

  

واشنگٹن(آن لائن)مغربی افریقی سے امریکا پہنچنے والی نرس نے ہفتے کے روز وطن واپس پہنچنے پر اسکریننگ کے عمل کے ساتھ ساتھ 21 روز کے لیے الگ رکھے جانے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے ساتھ ’مجرموں جیسا سلوک‘ کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے مرکز سمجھے جانے والے ممالک لائبیریا، سیرا لیون اور گنی سے امریکا پہنچنے والا ایسا طبی عملہ جو ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے میں مصروف رہا ہو یا جنہوں نے اس وائرس سے متاثرہ افراد کا سامنا کیا ہو، کو 21 روز کے لیے الگ رکھا جائے، تاکہ ایسے افراد میں وائرس کی موجودگی کی صورت میں دوسرے افراد اس وائرس کا شکار نہ بنیں۔ اس وائرس سے اب تک تقریبا پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دی ڈیلاس مارننگ نیوز میں اپنے مضمون میں ہیکوکس نے لکھا، ’میں کسی بھی شخص کے لیے ایسی صورتحال کی تمنا نہیں کروں گی اور میں ان افراد کے حوالے سے خوفزدہ ہوں جو میرے بعد امریکا پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا، ’میں طبی عملے کے ان افراد کے حوالے سے خوفزدہ ہوں، جو ہوائی اڈوں پر یہ بتائیں گے کہ وہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے خلاف اس جنگ میں شامل تھے۔ میں خوفزدہ ہوں کہ وہ بھی میری طرح یہاں پہنچیں گے اور دیکھیں گے کہ ایک برا انتظام، خوف اور ڈرا دینے کی حد تک پہنچنے والا الگ کرنے کا عمل ان کا منتظر ہے۔

مزید :

عالمی منظر -