بلدیاتی الیکشن: مسائل کا حل

بلدیاتی الیکشن: مسائل کا حل
بلدیاتی الیکشن: مسائل کا حل

  

پاکستان کی موجودہ ابتر صورت حال کے ذمہ دار ماضی و حال کے حکمران بھی ہیں، ان کے ساتھ ساتھ خود عوام بھی برابر کے شریک ہیں ، جو سیاست دانوں کو اپنے ووٹوں سے برسر اقتدار لا کر دو سال کے بعد ہی ان کے خلاف ہو جاتے ہیں، جب الیکشنوں میں دھاندلی ہوتی ہے، ووٹوں کے بارے میں ہیر پھیر ہوتا ہے، اس وقت بالکل خاموشی اختیارکرتے ہیں اور الیکشنوں میں کامیابی یا ناکامی امیدواروں کو ہو جاتی ہے، جبکہ ناکام رہنے والے یا حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے کے لئے پھر تیار ہو جاتے ہیں، مگر گزشتہ تجربے سے کوئی بھی سبق حاصل نہیںکرتا، جبکہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے سیاست دانوں کی اکثریت کو ملک کی ترقی اور خوشحالی سے بہت کم لگاﺅ ہے یا بہت کم خواہش ہے۔ سیاست دان اپنے مفاد اور اپنے سیاسی ایجنڈے کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ عوام بھی اس بھیڑ چال میں شامل ہو جاتے ہیں، جو لوگ ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں، وہ سابقہ حکمرانوں کے ساتھ مل کر عوام کو لوٹتے بھی ہیں، ان کے ساتھ دھوکہ بھی کرتے ہیں اور پھر نئے الیکشنوں میں نئی تحریکوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

برسر اقتدار طبقہ بھی کس قدر خود غرض اور مفاد پرست ہوتا ہے کہ سابقہ حکومت جن کے خلاف وہ الزامات لگاتے ہیں ان حکمرانوں کی جھولی میں بیٹھنے والوں کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں اور سابقہ حکومتوں میں موج میلا کرنے والے بڑی بے شرمی سے اپنے پرانے ساتھیوں پر الزام تراشیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں،ان کا ضمیر ان کو ملامت نہیں کرتا کہ کبھی مَیں بھی ان کے ساتھ ہی حمام میں تھا ۔جب تک عوام ان بے ضمیر سیاست دانوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوں گے، ان کے منُہ پر سچائی کے طمانچے نہیں ماریں گے، شاید ہمارے ملک کا سیاسی گند صاف نہیں ہو گا۔

عجیب بات ہے کہ ملک میں الیکشن بھی ہوئے، منصفانہ بھی ہوئے، دھاندلی بھی بہت ہوئی، آزادانہ بھی نظر آئے اور موجودہ انقلاب اور تبدیلی کے نعروں کا امکان بھی نہیں تھا، صرف عمران خان چار سیٹوں پر دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رہے تھے اور دبے الفاظ میں پی پی پی بھی چند حلقوں میں ہیرا پھیری کا کہہ رہی تھی، کھل کر اظہار نہیں ہو رہا تھا۔

پی پی پی اپنی حکومت کی مدت پوری کرنے کے بعد دانائی کا ثبوت دے رہی تھی اور اپنی سیاسی کمزوری کو سامنے رکھ کر دوسری پارٹی کو جو اس کے دورِ اقتدار میں ایک دوستانہ اپوزیشن بن کر صبرو تحمل سے کام لیتی رہی، اقتدار بذریعہ الیکشن اس کے سپرد کیا اور یہ جمہوری طریقے سے ہوا،اس وقت الیکشن کے خلاف کسی نے بھی مہم نہیں چلائی، جنہوں نے پہلے تحریک چلائی تھی، وہ اپنے گھر میں مطمئن تھے، چونکہ وہ اقتدار میں آگئے۔

ہندوستان کے حکمران، سیاسی و غیر سیاسی دانشور پاکستان کو ایک حقیر اور کمزور ملک سمجھتے ہیں،وہ چند سبزیوں کی خریدو فروخت تک ہی پاکستان کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کے چند سوداگر بھی اپنا مال ہندوستان کو فروخت کر کے خوش ہیں، حالانکہ کرنسی ریٹ کی وجہ سے بھی پاکستان کے کاروباری لوگوں کا نقصان ہے۔ ہندوستان کے حکمرانوں کو اپنے ملک کے غریب شہریوں کی پرواہ نہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں ، وہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح کی کسی بڑی سازش میں الجھے ہوئے ہیں، چونکہ ہندوستان اس خطے کا سب سے بڑا ملک ہے، اس کی آبادی بھی زیادہ ہے،رقبہ بھی زیادہ ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں وہ اب اس خطے کا چودھری بننے کی خواہش رکھتا ہے، شاید اس کا مقابلہ کبھی چین سے ہو سکتا ہے۔ ہندوستان نیپال اور سری لنکا پر حاوی ہے، بنگلہ دیش بھارت کی تخلیق ہے، جو اس کے کنٹرول میں ہے۔ یہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو پھانسی پر لٹکانے کے احکامات ہو رہے ہیں۔

امریکہ افغانستان میں ہندوستان کو چودھراہٹ دے چکا ہے۔ افغانستان میں جتنے بھی ترقیاتی منصوبے ہیں، وہ زیادہ تر ہندوستان چلا رہا ہے۔ حکمرانوںاور مخالفین کو بہرحال ملک کی خاطر اپنی اپنی انا کو چھوڑ کر ملک کے اندر اچھے حالات پیدا کرنے کی طرف آنے کی ضرورت ہے، حکمران طبقے کے پاس چند اچھے سمجھ دار لوگ موجود ہیں، ان کو سامنے لا کر کسی نہ کسی سمجھوتے کے تحت مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ اگر چند ہفتے مزید یہی حالات رہے، تو پھر حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں، شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔اگر باصلاحیت اور فہم و فراست رکھنے والے لوگ، جو مفادات اور خود غرضی سے آلودہ نہ ہوں ان کو مذاکرات میں استعمال کیا جائے، تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

کمزوروں کو طاقتور عزت نہیں دیتے اور نہ ہی دنیا میں کمزور ملکوں کو کوئی ملک برابری کی حیثیت دیتا ہے۔ عوام کی بدقسمتی ہے کہ ہماری ملکی سیاست پر انگریزوں کے پروردہ اور ان کی خدمت و چاپلوسی کے عوض بڑی بڑی جاگیریں حاصل کرنے والے اور غیر ملکی آقاﺅں کے تربیت یافتہ بیورو کریٹس آج بھی اپنے آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ملک کو ہر طرح داﺅ پر لگائے ہوئے ہیں، انہیں عوام سے دلچسپی ہے نہ عوام کے مسائل سے، وہ ہر حال میں اپنی لیڈری،جاگیریں بچانے اور اسمبلی میں اپنے خاندان اور حکومتی وسائل پر اپنے خاندان کے افراد کا قبضہ چاہتے ہیں۔اگر حکمرانوں میں عوام کے مسائل حل کرنے کا خیال ہو تو یہ فوری بلدیاتی الیکشن کرائیں اور تمام اختیارات نچلی سطح پر جانے دیں۔ اربوں کی جو گرانٹ ہوتی ہے، اس پر حکمران طبقہ قابض ہے وہ ترقیاتی فنڈز گلی محلے، یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر خرچ ہوں اور عوام کے مسائل جلد سے جلد حل ہوں، لیکن کئی عشروں سے کس بھی سیاسی حکومت نے بلدیاتی الیکشن نہیں ہونے دیئے، سیاسی حکومتیں بلدیاتی الیکشنوں کو ملتوی رکھ کر عوام کے حقوق پر ڈاکہ مار رہی ہیں، جو حکومت بھی اب بلدیاتی الیکشن کروائے گی، وہی عوام کی نمائندہ حکومت ہو گی۔ اسمبلیوں کے الیکشن سے پہلے بلدیاتی الیکشن ہونے بہت ضروری ہیں۔

مزید :

کالم -