جماعت اسلامی سے چند گزارشات

جماعت اسلامی سے چند گزارشات
جماعت اسلامی سے چند گزارشات

  

ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا ختم کر دیا ہے جلسے بھی اب محرم کے بعد ہوں گے،عمران خان کا رات کا جلسہ البتہ جاری رہے گا، جماعت اسلامی تحریک تکمیل پاکستان کے نام سے تحریک کا آغاز کرنے والی ہے۔ چند روز پہلے جب امیر جماعت، سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کے ساتھ کھڑے ایک پریس کانفرنس کر رہے تھے، تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ خیال آیا شاید جماعت نے اب ہما شما پر اپنی جماعت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور رحمن ملک اب جماعت اسلامی میں شامل ہو کر ”تحریک تکمیل پاکستان“ کے لئے اپنی صلاحیتیں وقف کرنے والے ہیں، حالانکہ جماعت کڑے اور طویل ”داخلہ ٹیسٹ“ کے بغیر کسی کو جماعت کی رکنیت نہیں دیتی۔

جماعت اسلامی کا قیام ہی اسلام اور نظام اسلام کی غرض سے عمل میں آیا۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ جماعت اس فرمان الٰہی سے بے خبر ہو گی، لیکن اگر مَیں یاد دہانی کے لئے عرض کر دوں تو کوئی مضائقہ بھی نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخر الزمان پر نازل کردہ آخری اور حتمی کتاب میں فرمایا ہے: جس کا عام فہم ترجمہ یہ ہو گا کہ ”نیکی اور بھلائی کے امور میں تعاون کرو اور گناہ اور غلط کاری میں تعاون نہ کرو۔ یہ بڑا واضح حکم ہے۔

جب دھرنوں کا آغاز ہوا تو جماعت اسلامی حیص بیص میں تھی کہ دھرنوں کا ساتھ دے یا نہ دے۔ جماعت کے متعلقین بلکہ بعض ہمدردوں نے جماعت کو قادری سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ جماعت اسلامی سیاسی اور مذہبی حوالے سے کبھی قادری کے قریب نہیں رہی۔ اگرچہ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ کبھی قاری بھی ڈکٹیٹر مشرف کے پانچوں سواروں میں تھے اور جماعت بھی ایم ایم اے کا حصہ تھی، وہی ایم ایم اے جس نے آئین میں سترہویں ترمیم ممکن بنائی تھی۔ دھرنوں کے موقع پر جماعت اپنی اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ تو دینا چاہتی تھی، لیکن قادری سے فاصلہ بھی رکھنا چاہتی تھی۔ بظاہر یہ دو الگ الگ دھرنے تھے، لیکن یہ طے تھا کہ دونوں کسی مقام پر ایک ہو جائیں گے اور پھر ایسا ہو کر رہا۔ شاید جماعت اسلامی اس لئے بھی عملاً ان دھرنوں سے دور رہی، کیونکہ اسے اس حقیقت کا پیشگی علم تھا کہ عمران اور قادری لندن میں کیا طے کر کے آئے ہیں۔ گویا اگر یہ دھرنا صرف تحریک انصاف کا ہوتا اور از اول تا آخر تحریک انصاف کا رہتا تو جماعت اسلامی اس میں شریک ہو سکتی تھی۔ عمران خان نے قادری کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے جماعت اسلامی کے لئے دھرنے میں شرکت کا موقع گنوا دیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان اور قادری کے باہم شیرو شکر ہونے اور کزن بن جانے کے باوجود جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد (تعاون) جاری رہا۔اگر قادری سے جماعت کا تعاون قابل اعتراض تھا تو قادری اور عمران خان کے باہمی اتحاد و تعاون کے بعد بھی عمران خان سے اتحاد و تعاون جاری رہنے کے لئے کیا اجتہاد کِیا گیا اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔

اب آیئے دیکھتے ہیں کہ کیا جماعت نے نیکی اور بھلائی سے تعاون کیا؟ دھرنے میں عمران خان نے جو کلچر متعارف کرایا عامتہ الناس نے بھی اسے پسند نہیں کیا۔ کنٹینر کے سٹیج سے جو کچھ پیش کیا جاتا رہا کوئی ذی عقل اسے نیکی اور بھلائی قرار دے سکتا ہے، نہ یہ تصور کر سکتا ہے کہ جماعت اسلامی اس کی حمایت کر سکتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہے کہ آئی جے آئی کی حکومت آئے ابھی چند ماہ ہوئے تھے کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے ایک جلسہ ¿ عام میں جناب قاضی صاحب مرحوم نے خطاب کیا اور سابق حکومت کے ٹی وی پر متعارف کرائے گئے، کلچر کے حوالے سے آئی جے آئی کی حکومت کی وہ خبر لی کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ قاضی صاحب مرحوم نے اپنے خطاب میں آئی جے آئی کی اپنی حکومت کو ہر مہذب گالی دے ڈالی۔ جماعت کے نوجوان سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس کلچر کے خلاف شدید مزاحمت کرتے ہیں، حتیٰ کہ نئے سال کی تقریبات کو بزور طاقت بند کرا دیتے ہیں، لیکن یہ اوپن ایئر تھیٹر پورے زور و شور سے جاری رہا اور جماعت کا تعاون بھی بدستور رہا،بلکہ تحریک انصاف کی اتحادی ہوتے ہوئے جماعت اسلامی نے ثالثی کا کردار بھی قبول کر لیا اور ظاہر ہے کہ اس ثالثی میں اتحادیوں کی طرف داری کی جاتی رہی اور فریق مقابل کو رگڑا لگایا جاتا رہا۔

امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق نے اب آئی ڈی پیز کے لئے حکومت کو دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے، حالانکہ جس وقت یہ آئی ڈی پیز رُل رہے تھے، جماعت کی اتحادی جماعت کا دھرنا اور شب مجرا جاری تھا۔ امیر جماعت نے اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کی حکومت کو کبھی اپنی ذمہ داریاں یاد نہیں دلائیں، جو آئی ڈی پیز سے مکمل لاتعلق ہو کر دھرنے میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔ اب آئی ڈی پیز کی ہم دردی میں دھرنے کی دھمکی؟ کیا جماعت اسلامی جیسی جماعت بھی اب عمل سے روگردانی اور سستی بیان بازی کی سیاست پر اُتر آتی ہے؟ یہ جماعت کی اندر کی کوئی تبدیلی ہے یا جمال ہم نشین کا اثر ہے؟

اب جماعت اسلامی کے امیر محترم جناب سراج الحق تحریک چلانے کا اعلان کر رہے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ پانچ فیصد اشرافیہ وسائل پر قابض ہے اور ظاہر ہے کہ نفاذ اسلام تو جماعت کا دیرینہ مطالبہ ہے۔کیا پانچ فیصد اشرافیہ حال ہی میں قومی وسائل پر قابض ہو گئی ہے۔ کیا یہ شروع سے قابض نہیں چلی آ رہی ہے۔ کیا یہ مشرف دور اور اُس سے بھی پہلے سے قابض نہیںتھی، کیا یہ گزشتہ دورِ حکومت میں قومی وسائل پر قابض نہیں تھی؟ کیا یہ خیبرپختونوا میں قابض نہیں ہے۔ جماعت اسلامی جہاں اقتدار میں شریک ہے وہاں، یعنی خیبرپختونخوا میں اس قبضہ کو ختم کرا دے اور وہاں اسلامی نظام بھی نافذ کر دے۔ اسے تحریک چلانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ لوگ خودبخود اس مثال کو پیش کر کے تبدیلی کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ ورنہ صرف زبانی جمع خرچ ہی کرنا ہے تو ایم کیو ایم تو یہ ایک مدت سے کر رہی ہے، جب وہ حکومت سے باہر ہوتی ہے تو جاگیرداری کے خاتمے کے نعرے لگاتی ہے، حکومت کے اندر ہو تو جاگیرداروں سے شیرو شکر ہوتی ہے۔ کیا جماعت اسلامی کو بھی یہی آسان کام پسند آ گیا ہے؟

خیبرپختونخوا کے بارے میںمحترمہ پروفیسر رفعت مظہر نے اپنے کالم ” قلم درازیاں“ میں ”تحریک انصاف کے سچ“ کے عنوان سے کچھ اعداد وشمار دیئے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں82فیصد ارکان ٹیکس چور ہیں، 90فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے، 23میگا پراجیکٹس پر کام ٹھپ پڑا ہے، ترقیاتی فنڈز کا صرف 25فیصد خرچ ہو سکا ہے۔گیارہ وزراءپر کرپشن کے کیس ہیں۔ تحریک انصاف سے تو کچھ کہنا سننا بےکار ہے کہ بات کرنا اور کہہ کر مُکر جانا اس کا چلن ہے۔ جماعت اسلامی جو خیبرپختونخوا میں اتحادی ہے، اس سے تو یہ پوچھا جا سکتا ہے۔

تو کار زمیں را نکو ساختی

کہ بر آسماں نیز پرداختی

اب آیئے ذرا دیکھ لیجئے کہ دھرنوں کی حقیقت کیا تھی؟ معروف تجزیہ کار اور کالم نویس جناب ہارون الرشید (جو جماعت سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور عمران خان کے خصوصی پروموٹر رہے ہیں) اپنے کالم ناتمام میں”سچ تو یہ ہے“ کے عنوان سے خبر دیتے ہیں کہ” بے تعصب اور باخبر لوگوں سے بار بار مباحثہ کیا تو معلوم ہوا کہ1971ءکے بعد پاکستان کے خلاف سب سے بڑی سازش تھی”یہ الگ بات کہ موصوف نے عمران خان کو بچانے کے لئے یہ بھی لکھ دیا کہ ہو سکتا ہے عمران خان نادانستگی میں سازش کا حصہ بن گیا ہو۔ کیا ایسی نادانستگیوں والے کسی شخص کو ملک و قوم کی تقدیر کا مالک بنایا جا سکتا ہے؟ سازش کا انکشاف کرنے سے ایک دن پیشتر انہوں نے ایک کالم میں سابق چیف آف آرمی سٹاف سے ایک طویل ملاقات کا ذکر بھی کیا تھا۔ گویا یہ خبر محض اندازوں پر مبنی نہیں تھی، پھر جاوید ہاشمی نے بھی سازش بے نقاب کر دی اور اس میں عمران خان کی براہ راست شرکت کی بھی تصدیق کر دی۔کیا جماعت اسلامی بطور اتحادی اس سازش میں شریک تھی یا صرف اس سے متفق تھی؟ کیا اسے نیکی اور بھلائی میں تعاون قرار دیا جا سکتا ہے؟

کیا یہ بات ڈھکی چھپی ہے کہ دھرنے والے درپردہ جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہیں۔ قادری تو باقاعدہ پرویز مشرف کے حق میں بیانات بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان کے آگے پیچھے بھی وہی لوگ ہیں، جو مشرف کو بچانے کے لئے سرگرم ہیں۔ میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس کے پیچھے اسرائیل، قادیانی اور مشرف کو بچانے والوں کا ہاتھ ہے۔ اپنے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے یہ سب متحد ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے آئین کو ختم کرنا مقصود تھا۔ جیسا کہ ہارون الرشید نے لکھا ہے کہ یہ سازش حکومت کے خلاف ہی نہیں ریاست پاکستان کے خلاف تھی۔ عمران خان کے دھرنوں میں گوہر نوشاہی کے دیوانوں کی موجودگی، عمران خان کا ایک قادیانی عاطف کو وزیر خزانہ بنانے کا پیشگی اعلان کیا ظاہر کرتے ہیں۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ دھرنوں کے لئے فنڈنگ اسرائیل نے کی ہے۔ اسرائیل اور قادیانی جماعت کے تعلق سے کون بے خبر ہے۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ وہ نیکی اور بھلائی میں تعاون کر رہی ہے؟

ان دھرنوں کی وجہ سے ملک کا جو معاشی نقصان ہوا ہے کیا وہ کسی سے پوشیدہ ہے۔ چین کے صدر کا دورہ¿ پاکستان منسوخ یا ملتوی کرانے سے پاکستان کے مقاصد حاصل ہوئے ہیں یا دشمنانِ پاکستان کے؟ کیا یہ نیکی اور بھلائی ہے یا ”اثم“ اور ”عدوان“ ہے۔ کیا جماعت اسلامی اب اپنی تحریک سے دھرنوں کی فضا کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تکمیل پاکستان اور اسلام کا نفاذ کوئی متنازعہ مسائل نہیں ہیں، لیکن ان کے لئے دھرنوں کے غبارے سے ہوا نکلنے کے فوری بعد تیار ہو جانا معنی خیز بھی ہے اور محل نظر بھی۔ کیا مولانا مودودی ؒ کی قائم کردہ جماعت اس قدر گئی گزری ہے کہ وہ نیکی اور بھلائی میں تعاون اور ”اثم“ اور ”عدوان“ میں تعاون کے فرق کی صلاحیت بھی کھو بیٹھی ہے؟

مزید :

کالم -