پھر وہی ڈیل کے الزامات

پھر وہی ڈیل کے الزامات
پھر وہی ڈیل کے الزامات

  

ڈاکٹر طاہر القادری کی حکومت سے ڈیل ہوئی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر، یہ بلا اُن کے اب پیچھے پڑ گئی ہے، جب سے انہوں نے اسلام آباد کا دھرنا ختم کیا ہے وہ وضاحت ہی دیتے پھر رہے ہیں کہ اُن کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ جب آپ اچانک کسی معاملے میں یو ٹرن لیتے ہیں تو ایک شبہ ضرور ابھرتا ہے، پھر جب آپ کے مقابل حکومت کھڑی ہو تو یہ تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ پس پردہ ہوا ضرور ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں ایک پوسٹ بہت کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے، جس میں اُن کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے،”جو دھرنے سے انقلاب کے بغیر واپس آئے اسے بھی شہید کر دو“۔ اب مَیں سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کیا اپنی وہ انتہا درجے کی مقبولیت برقرار رکھ سکیں گے، جو اس دھرنے کے دوران انہیں حاصل ہوئی۔ ان کے مقلدین تو اُس دن اسلام آباد میں رو رہے تھے، جب انہوں نے 65دن بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یقینا انہیں دہرا دُکھ ہو گا، ایک انقلاب کے بغیر واپس جانے کا اور دوسرا اپنے محبوب قائد سے بچھڑنے کا۔ ڈاکٹر طاہر القادری اِن دنوں یقینا خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہے ہوں گے کہ انہوں نے بالآخر دھرنے کا طوق اپنے گلے سے اتار دیا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی ذمہ داری تھی، روزانہ کم از کم پانچ ہزار افراد کو کم از کم تین وقت کا کھانا فراہم کرنا ہی آسان نہیں تھا کہ ساتھ ساتھ اُن کی حفاظت اور دیگر ضروریات کو بھی پورا کرنا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ بہت بڑا فیصلہ شائد اس لئے آسانی سے کر لیا کہ ان کے پیرو کار کبھی ان کی نیت پر شبہ نہیں کرتے، ان کے نزدیک مرشد کا فرمان ہی کافی ہے، اس لئے ڈاکٹر طاہر القادری نے رفتہ رفتہ دھرنے کو ختم کرنے کے لئے جو فضا بنائی، وہ دھرنے کے شرکاءکو قائل کر گئی، البتہ ملک بھر میں رہنے والے پاکستانی شاید اس سے مطمئن نہ ہوئے ہوں۔ اب سنا ہے ڈاکٹر طاہر القادری بیرون ملک بھی جا رہے ہیں، سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان عوامی تحریک کو بیرون ملک منظم کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان عوامی تحریک اندرون ملک منظم ہو گئی ہے؟ شاید ابھی تو پورے ملک میں اس کی تنظیم سازی بھی نہیں ہو سکی۔ اخبارات میں یہ خبریں تو تواتر سے شائع ہوئی ہیں اور ٹی وی چینلوں پر بھی چل چکی ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی حکومت سے دو ارب روپے میں ڈیل ہوئی ہے، جس میں ماڈل ٹاﺅن سانحہ کے شہیدوں کی دیت بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹر طاہر القادری اس کی بار بار تردید کر رہے ہیں، مگر اب ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے اُن کی بلند آہنگی پہلے جیسی نہیں رہی۔ مَیں یہ ساری باتیں اس لئے کر رہا ہوں کہ ہمیں، یعنی عوام کو کبھی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا جاتا، جبکہ اپنی مطلب براری کے لئے ہمیں قدم قدم پر استعمال ضرور کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری جیسے دھرنا لے کر گئے تھے ویسے ہی واپس کیوں آ گئے، وہ کوئی ایک مطالبہ بھی پورا نہیں کرا سکے اور اپنی شکست بھی تسلیم نہیں کر رہے، بلکہ اپنے آپ کو فاتح قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے وہ جو تاویلات پیش کر رہے ہیں، وہ چاہے کتنی ہی موثر ہوں، مگر قوم پوچھتی ہے کہ اسے 65دن تک ہیجان میں مبتلا رکھنے کا مقصد کیا تھا۔ اگر مقصد صرف عوام میں آگاہی پیدا کرنا تھا تو اس کے کئی اور طریقے بھی تھے، انہیں بروئے کار کیوں نہیں لایا گیا، ایک انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟

دوستوں کی ایک محفل میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی حکومت سے ڈیل نہیں ہوئی، تو مسلم لیگ(ن) کی اُن کے خلاف زبان بندی کا سبب کیا ہے۔انہوں نے دھرنا ہی تو ختم کیا ہے، حکومت کی مخالفت تو ختم نہیں کی، پھر مسلم لیگی وزراءنے چپ کیوں سادھ رکھی ہے، حتیٰ کہ رانا ثناءاللہ جیسے مسلم لیگی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے بیرون ملک جانے میں حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی، جبکہ کل تک پرویز رشید کہتے تھے کہ ڈاکٹر طاہر القادری آئے اپنی مرضی سے ہیں، جائیں گے حکومت کی مرضی سے۔ دوستوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ معاملات جس طرح تبدیل ہوئے ہیں، وہ نارمل انداز نہیں۔ عوامی تحریک کا یکدم انتخابی نظام کو تسلیم کر لینا، دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دینا اور بلدیاتی و ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنا، اس بات کی گواہی ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔

اس حوالے سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں ، اہم ترین سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اس الیکشن کمیشن اور نظام کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کیسے تیار ہو گئے ہیں۔ یہ اتنا بڑا یو ٹرن ہے کہ قوم شاید ہی اسے ہضم کر سکے۔ سچی بات ہے مَیں ذاتی طور پر ڈاکٹر طاہر القادری سے اس سارے دھرنے کے دوران بہت متاثر ہوا تھا۔ انہوں نے جس طرح آئین کی تشریح کی اور جس انداز سے انتخابی عمل اور الیکشن کیمشن کی تشکیل کو چیلنج کیا، وہ متاثر کن تھا۔ ایک امید بندھی تھی کہ اب آئین کے نفاذ کا عمل شروع ہو گا اور ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی، جس کے بعد انتخابات ہوں گے، لیکن آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ ساری باتیں خواب و خیال لگتی ہیں۔ ان کا ذکر ہی گول کر دیا گیا ہے۔ کم از کم ڈاکٹر طاہر القادری کی حد تک اِن باتوں کی گردان کرنے کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ وہ اب وہی باتیں کر رہے ہیں، جو دوسرے اسٹیٹس کو کے حامی سیاست دان کرتے ہیں، یعنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کریں گے اور اس نظامِ انتخاب کو تسلیم کریں گے، جس میں عام آدمی کے اوپر آنے کی گنجائش ہی موجود نہیں۔

مَیں سمجھتا ہوں قوم کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہوتا۔ اگر عمران خان بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ہی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیتے۔ قوم کو ایک خاص صورت حال کی امید دلا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لینے کا عمل لوگوں کی رہی سہی امیدوں اور آرزوﺅں کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ بلا شبہ لاکھوں لوگ اِن دھرنوں اور جلسوں کے لئے نکلے ہیں، آپ انہیں مطمئن کئے بغیر اچانک ایک روز پنا فیصلہ سُنا دیتے ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، قومی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیل کا لفظ ہماری سیاسی لغت کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ عمران خان کے بارے میں جو منفی تاثرات پیدا ہوئے تھے، میرا خیال ہے انہیں ڈاکٹر طاہر القادری کے فیصلے نے ختم کر دیا ہے۔ ان دونوں کی کسی تیسرے فریق سے ڈیل کا مقصد بھی تمام ہو گیا ہے۔ اب یہ بات زیادہ شدت اور وثوق کے ساتھ ثابت ہو گئی کہ عمران خان جو کہتا ہے اُس پر عمل بھی کرتا ہے۔ اُن کا سیاسی کردار اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اُن کے ساتھ کسی ڈیل کو جوڑنا انہونی بات نظر آتی ہے۔ عمران خان کے بارے میں جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کا اختتام پاکستان تحریک انصاف کو دھرنا ختم کرنے پر مجبور کر دے گا، وہ شاید عمران خان کی شخصیت کے اس پہلو کو بھول گئے ہیں کہ وہ جو کہتے ہیں، اُس پر عمل پیرا رہتے ہیں مثلاً کہا یہ جا رہا تھا کہ تحریک انصاف اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر کے یو ٹرن لے رہی ہے، کیونکہ استعفے دینا نہیں چاہتی، مگر اب واضح اعلان کر دیا گیا کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی سپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفوں کی منظوری کا مطالبہ کریں گے۔ عمران خان کے تنہا کھڑے رہ جانے کی وجہ سے اُن کے حوالے سے یہ تاثر مزید گہرا ہو جائے گا کہ وہ ملک میں جاری ظالمانہ اسٹیٹس کو کے خلاف جدوجہد کرنے والے واحد قومی رہنما ہیں۔ عمران خان سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ صرف تھک ہار کر دھرنا ختم کر دیں گے، وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے ہاں مصلحت پسندی نہیں، گویا عمران خان کے دھرنے میں موجود رہنے سے ڈاکٹر طاہر القادری کے فیصلے پر تنقید بڑھتی رہے گی کہ انہوں نے ایک بڑی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کئے بغیر جدوجہد کا راستہ چھوڑ دیا۔

پاکستان میں چند مفید اشرافیہ کا اسٹیٹس کو کیوں برقرار اور مضبوط رہا ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے للکارنے والی قوتیں بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنی جدوجہد کو ختم کر دیتی ہیں ایسا ماضی میں بھی ہوا ہے اور اب بھی ہو چکا ہے۔ عوام کو ایک خاص مقصد کے خواب دکھا کر جب اپنے ساتھ ملایا جاتا ہے تو اُن خوابوں کے ٹوٹنے یا پورا نہ ہونے پر عوام میں جو بددلی پھیلتی ہے وہ اسٹیٹس کو کے پروردہ لوگوں کے لئے مزید تقویت کا باعث بنتی ہے۔ اگر اس بار بھی یہی تاریخ دہرائی گئی اور اسی پُراسراریت کے ساتھ جدوجہد کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی گئی، جو ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے نظر آ رہی ہے، تو پھر ملک میں اگلی کئی دہائیوں تک کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔ عمران خان یہی بات کرتے ہیں اور امید ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے، جو اُن پر ڈیل کرنے کا لیبل لگا دے اور وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح وضاحتیں ہی کرتے رہ جائیں۔ عوام کی امید زندہ رہنی چاہئے تاکہ ارتقائی عمل آگے بڑھتا رہے۔

مزید :

کالم -