بجلی کے اضافی بل:بات چل نکلی ہے....!

بجلی کے اضافی بل:بات چل نکلی ہے....!
بجلی کے اضافی بل:بات چل نکلی ہے....!

  

تازہ خبر یہ ہے کہ دو تین سال پہلے واپڈا نے بجلی کے جو نئے میٹر لگائے تھے وہ پرانے میٹروں کی نسبت 35فیصد تیز چلتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی ریڈنگ 100 یونٹ ہے تو دراصل آپ نے70یونٹ استعمال کئے ہیں، جبکہ قیمت آپ سے 100 یونٹوں کی وصول کی جا رہی ہے.... اس ”دھاندلی“ کا انکشاف کسی ایرے غیرے نے نہیں کیا، بلکہ وزیراعظم نے بجلی کے بلوں میں تازہ اور بے محابا اضافے کی وجہ سے عوام میں جو ہاہا کار مچی ہوئی ہے اس کا نوٹس لیتے ہوئے جو کمیشن مقرر کیا تھا، اس ”وزیراعظم انسپکشن کمیشن“ نے جن دو باتوں کا انکشاف کیا ہے ان میں ایک تو یہ ہے کہ نئے میٹر پرانے میٹروں کے مقابلوں میں 30،35فیصد زیادہ بھاگ رہے ہیں اور دوسرا یہ ہے کہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں جب چاہیں، ان میٹروں کی رفتار گھٹا بڑھا سکتی ہیں۔

عوام کا رونا تو یہ ہے کہ بل زیادہ آ رہے ہیں، لیکن کمیشن نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ بل کم بھی آ سکتے ہیں۔ یہ ”کم بل“ کن لوگوں کے آتے ہیں، ان ”خوش نصیبوں“ کے ناموں پر قیاس کرنا اور ان کا پتہ لگانا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ نئے بلوں میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے کہ ان کو حسب ِ خواہش کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اگر آج کوئی میٹر35فیصد زیادہ تیز بھاگ رہا ہے تو آنے والے کل میں اُسے 50فیصد تیز بھی بھگایا جا سکتا ہے اور جن کو ”ریلیف“ دینا مقصود ہو، ان کے میٹر 50فیصد سست (Slow) بھی چل سکتے ہیں۔ وہ بے شک کتنے ہی ایئر کنڈیشنر استعمال کریں، ان کی جیب پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا، یعنی:

 تو مشق ِ ناز کر خونِ دو عالم میری گردن پر

بجلی کے بلوں کی بے بنیاد زیادتی پر جو ہنگامے گزشتہ ماہ ملک بھر میں دیکھے گئے، کیا وہ کسی کو یاد نہیں؟ کیا کیا احتجاجات نہیں کئے گئے اور ان ناقابل ِ برداشت بلوں نے عوام پر جبرو جور کے کیا کیا پہاڑ نہیں توڑے، لیکن واپڈا کے کرتا دھرتاﺅں نے جب اس کا کوئی نوٹس نہ لیا تو آخر وزیراعظم کو وہ کمیشن قائم کرنا پڑا، جس نے بجلی کی ترسیل و تقسیم کی مختلف کمپنیوں کو ایک انتہائی فوری (Most Immediate) چٹھی لکھی ہے جس کا نمبر 1(3) DISCO/SM/PMIC ہے اور جس کی تاریخ ِ اجرا22اکتوبر2014ءبتائی گئی ہے۔ اس چٹھی میں کہا گیا ہے کہ:”آپ کے دفتر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ حالیہ برسوں میں ایکسٹرا لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کی وجہ سے ملک میں کس طرح کی بے چینی دیکھنے میں آئی۔ خیال تھا کہ آپ حالات کو کنٹرول کریں گے لیکن آپ کے عملے نے اس سلسلے میں جو تیر مارا وہ یہ تھا کہ پرانے میٹروں کی جگہ نئے میٹر لگا دیئے، لیکن یہ نئے میٹر پرانے میٹروںکی نسبت30،35 فیصد تیز بھاگتے ہیں۔ ہمارے مشاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ اِن میٹروں کی رفتار کو کمپنی کا ریونیو بڑھانے کے لئے حسب ِ ضرورت اور حسب خواہش تیز کر دیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان نئے میٹروں میں سے بہت سے میٹر ناقص نکلے اور ان کی رفتار بے محابا تیز (Exorbitant) پائی گئی۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ مندرجہ ذیل نو(9) نکات کا جواب دیں۔ یہ جواب فوری طور پر بذریعہ فیکس ہمیں موصول ہونا چاہئے:

(1) گزشتہ دو تین برسوں میں آپ کے علاقے میں کتنے پرانے میٹر تبدیل کئے گئے ہیں؟

(2) میٹروں کی اس تبدیلی پر کتنا خرچہ آیا تھا؟

(3) یہ ناقص میٹر کن کمپنیوں نے فراہم کئے تھے؟

(4) اِن میٹروں میں جو نقص یا نقائص پائے گئے ان کا پتہ کیسے چلا؟ کسی لیبارٹری ٹیسٹ میں یا دورانِ استعمال آپ کے کسی محکمے/ ڈویژن/ ورکشاپ نے یہ پتہ چلایا؟

(5) میٹروںکے چلنے کی ایک معیاری رفتار ہوتی ہے۔ اس سٹینڈرڈ سپیڈ سے یہ نئے میٹر کتنے زیادہ تیز چلتے ہیں؟

(6) وہ کون لوگ تھے جن کی سفارش/ حکم پر یہ نئے میٹر نصب کئے گئے؟

(7) اس کام کے لئے گزشتہ تین برسوں میں کتنا بجٹ مختص کیا گیا؟ (ہر سال کا الگ الگ بجٹ بتائیں)

(8) کون سی کمپنیاں ہیں جو یہ میٹر فراہم کر رہی ہیں؟

(9) ان لیبارٹریوں کے نام بتائیں جو موجودہ میٹروں کو ٹیسٹ/ چیک کر سکتی ہیں؟“

یہ خط بجلی تقسیم کی تمام کمپنیوں کو لکھا گیا ہے اور ان کے چیف ایگزیکٹو افسروں سے فوری رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) کے ایک سابق سربراہ نے اس خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے: ”سب لوگ جانتے ہیں کہ مسئلہ کیا ہے، سب کو معلوم ہے کہ اصل سبب کیا ہے اور اس کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ مثلاً لیسکو ہی کو لے لیں۔ اس نے گزشتہ دو برسوں میں 20لاکھ میٹر تبدیل کئے ہیں۔ یہ سب اعداد و شمار لیسکو کے دفتر سے چیک کئے جا سکتے ہیں۔ اگست2014ءمیں لیسکو کا بل27.33ارب روپے تھا لیکن یہ رقم جو اِس کمپنی نے وصول کی وہ جولائی2014ءکے مقابلے میں5ارب روپے زیادہ تھی۔ پانی اور بجلی کی وزارت میں ہر کسی کو معلوم ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، کون کر رہا ہے اور کون کروا رہا ہے؟ یہ تو اب جو کچھ نہ کچھ ہلچل ہو رہی ہے وہ سیاسی صورت حال کی بناءپر ہو رہی ہے۔ اس محکمے میں جو تقرریاں ہو رہی ہیں وہ تمام ایڈہاک تقرریاں ہیں تاکہ یہ لوگ اپنا مُنہ بند رکھیں، عوام کی جیبیں کاٹتے رہیں اور محکمے کی مالی صورتِ حال میں ”مصنوعی بہتری“ دکھاتے رہیں۔ خدشہ ہے کہ جب بھی سیاسی دباﺅ کم ہو گا تو وہی کچھ ہو گا جو اب تک ہوتا رہا ہے۔ لوگوں سے 35فیصد زائد رقم جو ان کمپنیوں نے وصول کی ہے، اس کو واپس ہونا چاہئے“۔

جب دو سال پہلے واپڈا نے نئے میٹر لگانے شروع کئے تھے تو اس وقت بھی لوگوں کے ذہنوں میں یہ شکوک پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے کہ پرانے میٹروں میں کیا خرابی ہے اور ان کو تبدیل کرنے کے پیچھے حکومت کا اصل مدعا کیا ہے۔ پرانے میٹر بڑی عمدگی اور استواری سے چل رہے تھے، لیکن یہ تو اب جا کر معلوم ہوا ہے کہ اُن پرانے میٹروں کو تیز یا سست نہیں کیا جا سکتا تھا اور اُن کی عمومی رفتار بھی35فیصد تک نہیں بڑھائی جا سکتی تھی!.... بعض اخباروں میں اداریے لکھے جا رہے ہیں کہ وزیراعظم کمیشن کو یہ کیسے پتہ چل گیا کہ نئے میٹر ، پرانے میٹروں کی نسبت 35فیصد تیز ہیں(دیکھئے ”ڈان“ لاہور مورخہ 25اکتوبر 2014ئ)

اس سوال کا سادہ سا جواب تو یہی ہے کہ جب لوگوں کے بل ایک دم بڑھ گئے ہوں تو اس اضافے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ یا تو یہ ہو کہ ہر شہری اور دیہاتی نے گھروں میں نئے ایئر کنڈیشنر نصب کروا لئے ہوں یا ایک کی بجائے دو فریج استعمال کرنے شروع کر دیئے ہوں یا اپنے ہاں پانی نکالنے کے لئے بجلی کے پمپ یا موٹریں لگا لی ہوں،پھر تو ان اضافی بلوں کا مطلب سمجھ میں آتا ہے، لیکن جب بجلی کا خرچ وہی ہو جو کئی برسوں سے روٹین چلا آ رہا ہو تو اضافی بلوں کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔

میرے اپنے پاس گزشتہ کئی برسوں کے بجلی کے بلوں کی فائل موجود ہے۔ ایک تو ہر سال مسلسل بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھا دی گئی ہے۔2012ءکا سالانہ ٹوٹل کروں تو وہ2011ءکے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن جب معاملہ سالانہ کی بجائے ماہانہ اضافے کا ہو جائے تو لوگوں کی چیخ و پکار سمجھ میں آنے والی بات ہے۔میرا بل ماہِ جولائی 2014ءتک، کبھی16ہزار سے نہیں بڑھا تھا، لیکن جب اگست2014ءکا بل35265 روپے آیا تو سر چکرانے لگا اور مجھ ہی پر کیا منحصر، پاکستان کا ہر شہری اِسی آزار میں مبتلا تھا (اور ہے)۔

عمران خان جیسے لوگ اگر بجلی کے اِن اضافی بلوں کا اسلام آبادی دھرنوں میں ”جلوس“ نہ نکالتے تو مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم کا کمیشن کبھی تشکیل نہ دیا جاتا اور اگر کوئی کمیٹی یا کمیشن بٹھا بھی دیا جاتا تو وہ ہر گز ”کھڑا“ نہ ہوتا۔ موجودہ کمیشن نے ہوا کا رُخ پہچانا ہے اور اس وجہ سے پہچانا ہے کہ اس کے اراکین کے ساتھ خود بھی ایسا ہی ”ہاتھ“ ہوا ہے.... جب بندریا کے پاﺅں جلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو پاﺅں تلے دبانے سے بھی گریز نہیں کرتی!

اب سوال یہ ہے کہ لیسکو نے اگر صرف ایک ماہ میں5ارب اضافی آمدنی ”کمائی“ ہے تو باقی ملک بھر کی بجلی تقسیم کمپنیوں کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہوں گے۔ اس ساری اضافی رقم کو جمع کیا جائے تو نجانے بات کتنے اربوں، کھربوں تک جا پہنچے گی۔ کیا یہ کمپنیاں ان اضافی بلوں کو آئندہ بلوں میں ایڈجسٹ کریں گی اور کیا آنے والے ماہانہ بلوں میں شہریوں کو کوئی ریلیف ملے گا؟ اِن سوالوں کا جواب ایک دو ماہ میں آ جانا چاہئے، لیکن لگتا ہے اب معاملات آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

دو روز پہلے وزیراعظم نے ایک مشترکہ وزارتی اجلاس میں ہدایت فرمائی ہے کہ سارے متعلقہ محکمے سر جوڑ کر بیٹھیں اور بتائیں کہ بجلی کے اس بحران کا حل کیا ہے؟ سپریم کورٹ بھی آج سے صادق اور امین کے ”اصل مفہوم“ کی تشریح و توضیح کرنے کی بحث کا آغاز کر رہی ہے اور ساتھ ہی 2013ءکے الیکشنوں میں جس منظم دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے اُس کیس کی سماعت کا آغاز بھی29اکتوبر2014ءسے ہو رہا ہے.... یعنی جو بات بجلی کے اضافی بلوں سے شروع ہوئی تھی وہ اب ٹیکٹیکل سطح سے نکل کر سٹرٹیجک لیول تک جا رہی ہے.... آگے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے:

وہ بھی کچھ اپنی جفاﺅں پہ پشیمان سے ہیں

بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے

مزید :

کالم -