مودی کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال

مودی کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال

  

مقبوضہ کشمیر میں عوام کی نمائندہ جماعتوں کی اپیل پر مکمل ترین شٹر ڈاؤن ہوا اور تمام شہروں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر احتجاج کیا گیا۔ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے وہ اس دوران سیاچن پر بھی پہنچے اور بھارتی فوجیوں سے ملاقات کی۔حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور یٰسین ملک کی طرف سے بھی ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس پر عمل بھی ہوا اور ایک بار پھر عوام نے اپنی طرف سے حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کا موقف اٹوٹ انگ ہے اور یہ دہرایا جاتا ہے، لیکن عملی شکل یہ ہے کہ یہ تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے تو معاہدہ شملہ اور پھر اعلان لاہور میں بھی اس کا ذکر ہے۔ معاہدہ شملہ ذوالفقار علی بھٹو اور مسز اندرا گاندھی کے درمیان، جبکہ اعلان لاہور میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم واجپائی کے درمیان ہوا تھا۔ اندرا گاندھی کا تعلق کانگرس اور واجپائی کا بی جے پی سے تھا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو پیپلزپارٹی اور میاں محمد نواز شریف مسلم لیگ(ن) کے سربراہ تھے۔ یوں یہ معاہدے دونوں ممالک میں حکمران رہنے والی دونوں جماعتوں کے درمیان ہوئے، ان میں صرف ایک نقطہ ہے جس پر بھارت زور دیتا ہے کہ یہ تنازعہ دو طرفہ بات چیت سے حل کیا جائے گا۔

اس موقف کو درست مانا جاتا ہے کہ معاہدوں میں ہیں، اس کے باوجود بھارت کی طرف ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے بات چیت نہیں کی جاتی اور اٹوٹ انگ کی رٹ لگائی جاتی ہے، جہاں تک کسی اور فورم کی بات ہے، تو جب تک یہ تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے تب تک وہاں بات کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں۔بہرحال کشمیری (مقبوضہ) عوام نے ایک بار پھر بھارت مخالف جذبات کا اظہار کر دیا ہے اور اقوام عالم کو اس پر غور کرنا چاہئے یہ عوام اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -