بلاول کی سیاسی تقریر پر”گو بلاول گو“ کے نعرے ،سامعین نے بوتلیں پھینکیں

بلاول کی سیاسی تقریر پر”گو بلاول گو“ کے نعرے ،سامعین نے بوتلیں پھینکیں

  

لندن(بیورو رپورٹ) لندن کے ٹرافا لگر سکوائر میں اس وقت انتہائی بدمزدگی پیدا ہوگئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور بختاور بھٹو نے سٹیج پر چڑھ کر سیاسی تقریر شروع کر دی جس کے نتیجے میں مظاہرین میں اشتعال پیدا ہو گیا اور انہوں نے بلاول بھٹو کی طرف پانی کی بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں مظاہرین شدید اشتعال میں سٹیج کی طرف بڑھے تو میٹروپولیٹن پولیس نے آصف علی زرداری کے بیٹے اور بیٹی کو اپنے حفاظتی حصار میں لے کر جلسہ گاہ سے نکال لیا۔مظاہرین جو ہندوستان کے وزیراعظم مودی،کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے نے گو زرداری گو ،گوبلاول گو،گو نواز گو ، کے نعرے بلند کرنا شروع کر دئیے۔اس موقع پر کشمیری رہنماﺅں نے بڑی مشکل کے ساتھ حالات پر قابو پایا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال دیا جبکہ اب ہندوستان کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اورپاکستان کے وزیراعظم نے اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا۔آصف علی زرداری کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری نے ملین مارچ میں بد مزگی کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اجتماع میں بھارتی ایجنڈ گھسے ہوئے تھے۔ جنہوں نے نعرے لگانے اوربوتلیں پھینکنے کی حرکت کی۔ روایتی طور پر اقوام متحدہ میں خطاب کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے اب کشمیریوں نے سر پر کفن باندھ لئے ہیں ہم کشمیر آزاد کر رکے رہیں گے۔

مارچ بدمزگی

مزید :

صفحہ اول -