خورشید شاہ کے بیان پر ایم کیو ایم کا یوم سیاہ، سندھ کے شہروں میں کاروباری زندگی معطل

خورشید شاہ کے بیان پر ایم کیو ایم کا یوم سیاہ، سندھ کے شہروں میں کاروباری ...

  

                     کراچی(سٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے بیان کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اتوارکوملک بھر میں یوم سیاہ مناگیا جس کی وجہ سے سندھ کے بیشتر شہروں میں کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔یوم سوگ کے موقع پر کراچی میں کاروبار زندگی پوری طرح معطل رہا، بازار، مارکیٹیں، کاروباری مراکز اور پیٹرول پمپس بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی، ایم کیو ایم کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں خورشید شاہ کے خلاف پوسٹر اور بینر آویزاں کئے گئے تھے۔ یوم سوگ کے باعث جامعہ کراچی میں اتوارکوہونے والے انٹری ٹیسٹ ملتوی کر دیئے گئے جس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی جانب سے اتوارکو شاہراہ قائدین اور شارع فیصل کے سنگم پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔دوسری جانب حیدرآباد، میرپور خاص، ٹنڈو آدم، سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ، پڈعیدن، دولت پور، دوڑ، بدین اور ننگرپارکر سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی یوم سیاہ منایا گیا ، اندرون سندھ چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں معطل ر ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستارنے کہا کہ خورشید شاہ خود استعفیٰ دے دیں۔ پیپلزپارٹی کوئی دوسرا اپوزیشن لیڈر لے آئے تو قبول ہوگا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی طور پرخورشید شاہ اپنے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں رہے۔ فاروق ستارنے کہااپوزیشن لیڈرکی تبدیلی کیلئے دوسری جماعتوں سے بھی مشاورت کررہے ہیں۔متحدہ قومی مووومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ سندھ کے عوام کی اکثریت نے بھرپوراندازمیں یوم سیاہ مناکرنئے انتظامی یونٹس یانئے صوبوں کے قیام کے حق میں فیصلہ دے دیاہے جس پر میں عوام کوزبردست خراج تحسین،مبارکباد اورسلام تحسین پیش کرتاہوں۔حیدرآبادمیں ایم کیوایم کے زونل آفس پر زونل کمیٹی کے ارکان ادر دیگرذمہ داروں سے گفتگوکرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے متعصب جاگیرداروں اوروڈیروں نے اردوبولنے والے سندھیوں یعنی مہاجروں کوکبھی سندھی تسلیم نہیں کیا اوراس نے اس تعصب اورنفرت کی بنیاد 1973 میں ر کھی،پیپلزپارٹی اپنے آپ کوقومی جماعت کہلانے کے دعوے کرتی ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ پیپلزپارٹی نے ہردورمیں پاکستان نہیں بلکہ سندھ کارڈاستعمال کیا۔ انہوں نے کہاکہ آج نہ صرف کراچی بلکہ حیدرآباد،سکھر، میرپورخاص، نوابشاہ ،سانگھڑ، ٹنڈوآدم ، ٹنڈوالہ یار، خیرپور، جیکب آباد، لاڑکانہ ،کشمورسمیت سندھ بھرکے تمام سندھی بولنے والے سندھیوں اوراردوبولنے والے سندھیوں یعنی مہاجروں نے ایم کیوایم کی اپیل پر پیپلزپارٹی کے ظلم کی حکمرانی اور نفرت و تعصب کے خلاف بھرپوریوم سیاہ مناکرفیصلہ سنادیاہے کہ اب سندھ اورپورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اورصوبوں کے قیام کی ضرورت ہے۔الطاف حسین نے کہاکہ بھرپوراورپرامن یوم سیاہ منانے پر میں کراچی سمیت سندھ بھرکے عوام نوجوانوں، ماں، بہنوں، بزرگوں اوربچوں کوخراج تحسین اورشاباش پیش کرتاہوں، اب سندھی بولنے والوں اوراردوبولنے والوں یعنی مہاجروں کایہ متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ مل کرصوبہ سندھ سے ظلم کافرسودہ ، جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام اورکرپٹ کلچر کاخاتمہ کریں گے، انہوں نے یوم سیاہ میں کاروباراورٹرانسپورٹ ، پیٹرول پمپ اوردیگرکاروباری سرگرمیاں بندرکھنے اوریوم سیاہ کوکامیاب بنانے پر تمام ٹرانسپورٹرز، تاجربرادری اورتمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کابھی شکریہ اداکیا۔ قائد ایم کیوایم الطاف حسین نے یوم سیاہ کے موقع پر پرامن احتجاج میں حصہ لینے اورپرامن احتجاجی مظاہرے کرنے پر سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اورآزادکشمیر کے کارکنوں اورہمدردوں کوبھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

مزید :

صفحہ اول -