چاند کی روشنی اور حمل کی صلاحیت میں گہرا تعلق پہلی بار منظر عام پر

چاند کی روشنی اور حمل کی صلاحیت میں گہرا تعلق پہلی بار منظر عام پر
چاند کی روشنی اور حمل کی صلاحیت میں گہرا تعلق پہلی بار منظر عام پر

  

سان فرانسسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدانوں نے خواتین کے مخصوص ایام اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کے درمیان قریبہ تعلق کا انکشاف کیا ہے جو کہ اولاد کے خواہشمند جوڑون کیلئے ایک بڑی خوشخبری ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی ادارے پیسیفک فرٹیلٹی سنٹرکے سائنسدان ڈاکٹر فلپ چینیٹ نے 8000سے زائد خواتین پر تحقیق سے معلوم کیا کہ ساری دنیا کی خواتین میں یہ واضح رجحان پایا جاتا ہے کہ اُن کے 28روزہ ایام کا آغاز پورے چاند (چاند کی چودھویں) کے قریب قریب ہوتا ہے اور نئے چاند کے قریب جب راتیں تاریک ترین ہوتی ہیں تو حمل کا امکان بلند ترین ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ بات ہر خاتون کیلئے درست نہیں لیکن ایک بڑی اکثریت میں ایسا ہی ہوتا ہے اور تقریباً 20فیصد کے 28روزہ سلسلہ کا آغاز عین چودھویں کی رات ہوتا ہے۔

امریکن سوسائٹی فارریپروڈکٹو میڈیسن کی سالانہ عالمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس کی وجوہات کا تعلق انسانی ارتقاءسے ہو سکتا ہے لیکن یہ بات خصوصی طور پر قابلِ غور ہے کہ پورے چاند کے گھٹنے اور دوبارہ پورا ہونے کا عمل 28دن پر محیط ہوتا ہے جس کے دوران میلانن ہارمون کی افزائش متاثر ہوتی ہے اور یقینا یہ وجہ ہے کہ  نئے چاند کے دنوں میں حمل کا امکان بلند تر ہوتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -