مثبت رویوں کی فتح

مثبت رویوں کی فتح
مثبت رویوں کی فتح

  

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے چند روز قبل چین کے تعاون سے حویلی بہادر شاہ میں 1236میگاواٹ بجلی منصوبے کا سنگ بنیادرکھا۔ اس سے دو روز قبل کوٹلی اور بھکی میں بجلی بنانے کے دو منصوبوں کی بنیادرکھی گئی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک بلوکی کے مقام پر ایل این جی سے بجلی بنانے کے پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ۔ اس سے پہلے بھی دوست ملک چین کے اشتراک وتعاون سے منصوبہ بجلی کے کئی منصوبوں کی بنیاد رکھی جاچکی ہے بجلی بنانے کا کوئی اگرچہ چند دنوں یا مہینوں میں مکمل نہیں ہوسکتا تاہم حکومتی کارکردگی کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ دوبرسوں میں موجودہ حکومت کے تمام منصوبے پاکستان کا مستقبل روشن بنانے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس طرح کے تمام منصوبوں کی تعمیروتکمیل موجودہ حکومتی ذمہ داران کے مثبت رویوں، تعمیری صلاحیتوں اور پاکستان کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے حسین جذبوں کی آئینہ دار ہے۔ بجلی کی قلت سے ملکی صنعت اور عوام کو آج دشواریوں کا سامنا ہے۔ یہ دشواریاں اور مشکلات سابقہ حکومتوں کی ملکی ترقی کے مسائل سے لاتعلقی اور بے تحاشا کرپشن کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔

اگر سابقہ حکومت نے امور مملکت میں شفافیت کومعیار بنایا ہوتا، ملکی حالات درست کرنے کے لئے مناسب منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنایا ہوتا، عوام دوست اقدامات کئے ہوتے ، تو آج بجلی کی قلت ہوتی اور نہ عوام کی زندگیوں میں اس قدر تلخیاں ہوتیں۔ انہوں نے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی بجلی کی پیداوار بڑھانے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے پر توجہ دی۔ کرپشن بڑھائی اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی بجلی کا مسئلہ حل کرنے سرمایہ کاری بڑھانے اور اندرون ملک کاروباری سرگرمیوں کو فروغ کے لئے میاں محمد نواز شریف محبت فاتح عالم کا نسخہ پلے باندھ کر ملکوں ملکوں جارہے ہیں اور ان سے پاکستان کے تعلقات استوار کرنے اور بڑھانے کے لئے داغ بیل ڈال رہے ہیں چین پہلے دن سے پاکستان کا گہرا اور آزمودہ دوست ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے مسلسل رابطوں اور پاکستان کے مسائل اور ضرورتوں بارے آگاہی دے کر دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کو صحیح معنوں میں شہد سے میٹھا ، سمندر سے گہرا اور پہاڑ سے بلند کردیا ہے۔

اعتماد کی بلندی کا یہ عالم کہ چینی قیادت نے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو پاکستان میں اپنا سفیر قرار دے دیا۔ ہمدردی دستگیری کا مفہوم اس طرح پورا کیا کہ چین کے وزیراعظم نے اسلام آباد پہنچ کر پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کئے۔ پاک چین اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کا پروگرام فائنل ہوا۔ گوادر بندرگاہ کو کاشغر سے ملانے کا معاہدہ ہوا۔ نریندر مودی سرکار نے ہزار جتن کئے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خراب ہوجائے۔ دنیا کی نظروں میں نہ آئے۔ گوادر میں گہرے پانیوں کی بندرگاہ ناکام ہو جائے لیکن سارا پروپیگنڈا اور نریندر مودی کاواویلا پاک چین دوستی کے پہاڑ تلے دب گیا۔ انڈین پروپیگنڈے کو کسی نے درخور اعتنا نہیں سمجھا اقتصادی راہداری پر تعمیری کام شروع ہوچکا ہے۔ کئی ملکوں نے اس میں دلچسپی کا اظہار بھی کردیا ہے۔

گوادر بندرگاہ اپریشنل ہوچکی اور پاکستان کے لئے معاشی فیض رسانی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ محبت کا دائرہ وسعت پذیر ہے۔ چین کو دیکھ کر روس نے کراچی سے لاہور تک 1100کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کرلیا ہے جس کے لئے دوارب ڈالر سرمایہ بھی روس فراہم کرے گا۔ یہ سب معاہدے سوتے میں نہیں ہورہے۔ ان کے پیچھے وزیراعظم اور حکومت کی شاندار جدوجہد ہے کوئی ہے جو جارہا ہے ملاقاتیں کررہا ہے اپنے مسائل اور پاکستان کی افادیت بارے آگاہی دے رہا ہے۔ کوئی ہے جس کی خوئے دلنوازی سننے والے کو متاثر ومتحرک کرتی ہے۔ محبت کی مہک کا سفر ہے جو ہر سو پھیلتا ہے روکنے سے رکتا نہیں۔ چین پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ روس گیس پائپ لائن معاہدے تک محدود نہیں رہے گا۔ اگلے قدم کے طورپر تجارتی تعلقات میں وسعت کے امکانات روشن ہوں گے۔ وزیراعظم کا حالیہ امریکہ کا دورہ بے اثر نہیں رہے گا۔ ضرب عضب کی کامیابی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے میاں محمد نواز شریف کے بصیرت افروز خطاب کے بعد پاکستان کے بارے میں ترقی یافتہ ملکوں کی سوچ و فکر میں تبدیلی آئی ہے۔ بارک اوباما کو اب کچھ سننا پڑے گا اور کچھ ماننا بھی۔

اندرون ملک وزیراعظم نے کسان پیکج کا اعلان کرکے زرعی پیداوار بڑھانے عام آدمی کے لئے مہنگائی میں ریلیف دینے اور کسان کی حالت سنوارنے کا بندوبست کیا ہے۔ اب اسے کھاد سستی ملے گی فی ایکڑ حکومتی امداد ملے گی۔ کسان خوشحال ہوگا۔ پیداوار زیادہ اور مہنگائی میں کمی واقع ہوگی۔ دہشت گردی کے واقعات کی کثرت ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور جبریہ کاروباری مراکز بند کرانے سے بیرونی اور اندرونی کاروباری لوگوں نے کراچی آنا جانا ختم کردیا تھا۔ پاک فوج کے ضرب عضب اور رینجرز کے اپریشن سے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرزکی کمرٹوٹ چکی ہے۔ کراچی میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور عروج مل رہا ہے۔ کاروباری طبقہ ایک مدت سے مطالبہ کررہا تھا کہ مارک اپ کی شرح سنگل ڈجٹ پر لائی جائے۔ موجودہ حکومت اس قدر نیچے لے آئی ہے کہ شاید کاروباری طبقہ کو کہنا پڑے کہ مزید نیچے نہ لائی جائے حکومت کے امیدافزا اقدامات کم ازکم وقت میں کاروباری طبقہ کسانوں اور عام آدمی کے لئے خاطر خواہ فوائد دے سکتے ہیں بشرطیکہ تنقید برائے اپوزیشن کی بجائے اصلاح احوال کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹایا جائے۔

مزید :

کالم -