وہ ریسٹورنٹ جو گاہکوں کو کھانے میں ویاگرا ملا کر کھلاتا ہے، لیکن یہ آدمی کھانے پہنچا تو ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ ہنسی روکنا مشکل ہوگیا

وہ ریسٹورنٹ جو گاہکوں کو کھانے میں ویاگرا ملا کر کھلاتا ہے، لیکن یہ آدمی ...
وہ ریسٹورنٹ جو گاہکوں کو کھانے میں ویاگرا ملا کر کھلاتا ہے، لیکن یہ آدمی کھانے پہنچا تو ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ ہنسی روکنا مشکل ہوگیا

  

میڈرڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) سپین میں ایک ریسٹورنٹ نے اپنی ویب سائٹ پر کھانوں کا جو مینیو آویزاں کر رکھا تھا اس میں موجود ہر کھانے میں ویاگرا کا ذکر موجود تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ریسٹورنٹ اپنے گاہکوں کو کھانے میں ویاگرا ملا کر کھلاتا ہے۔ ایک برطانوی سیاح نے ان کی ویب سائٹ دیکھی اور متجسس ہو کر وہاں جا پہنچا مگر جب اس پر حقیقت کھلی تو اس کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو گیا۔

’مردانہ کمزوری کا شکار مردوں کو چاہیے فوراً یہ کام شروع کردیں‘ طویل ترین تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے حتمی فیصلہ سنادیا

برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ پرموجود مینیو میں ہوٹل نے کھانوں کے نام سپینش ویاگرا آملیٹ، مشروم ویاگرا ڈیلی آملیٹ وغیرہ لکھے تھے۔ 65سالہ جان سمتھ اپنی بیوی کے ہمراہ اس ہوٹل پر جا پہنچا اور ان ناموں سے کھانے آرڈر کیے جس پر ریسٹورنٹ کے ویٹر ششدر رہ گئے کہ یہ آدمی کیا مانگ رہا ہے۔ جب جان نے انہیں بتایا کہ انہوں نے خود اپنی ویب سائٹ پر کھانوں کے یہ نام درج کر رکھے ہیں تو ہوٹل کا مالک پریشان ہو گیا۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ہیکرز کا کارنامہ تھا جنہوں نے ہسپانوی زبان کی اس ویب سائٹ کے انگریزی ترجمے کو تبدیل کر دیا تھا اور مینیو میں کھانوں کے ایسے فحش اور بیہودا نام لکھ دیئے تھے۔ جب بھی کوئی غیرملکی سیاح اس ریسٹورنٹ کی ویب سائٹ کو انگریزی میں ترجمہ کرکے پڑھتا تو یہی بیہودہ نام ہی سامنے آتے۔ جان سمتھ کا کہنا تھا کہ ”ہمارے بتانے سے پہلے ہوٹل کا مالک اس صورتحال سے لاعلم تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ ان کی ویب سائٹ ہیک ہو چکی ہے اور ہیکرز نے کھانوں کے نام ہی تبدیل کر دیئے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس