20 سال پہلے لاپتہ ہونےو الا لڑکا آخر کار اپنے ہی گھر سے مل گیا، اتنا عرصہ اپنے ہی گھر کے کس حصے میں اور کس حالت میں رہا؟ ایسی تفصیلات منظر عام پر کہ سن کر روح کانپ اُٹھے

20 سال پہلے لاپتہ ہونےو الا لڑکا آخر کار اپنے ہی گھر سے مل گیا، اتنا عرصہ اپنے ...
20 سال پہلے لاپتہ ہونےو الا لڑکا آخر کار اپنے ہی گھر سے مل گیا، اتنا عرصہ اپنے ہی گھر کے کس حصے میں اور کس حالت میں رہا؟ ایسی تفصیلات منظر عام پر کہ سن کر روح کانپ اُٹھے

  

برازیلیا (نیوز ڈیسک) کسی کھوئے ہوئے کا مل جانا کوئی عجب بات نہیں لیکن برازیل میں 20 سال قبل لاپتہ ہونے والا نوعمر لڑکا اچانک اس حال میں ملا ہے کہ ہر کوئی اس کی حالت دیکھ کر کانپ اٹھا ہے۔

اخبار دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق ساﺅ پالو شہر سے تعلق رکھنے والا ارمانڈو ڈی انڈراڈے 20 سال قبل اچانک پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔ اس کے دوستوں اور عزیزوں نے جب بھی اس کی غیر موجودگی کا ذکر کیا تو اس کے والد اور سوتیلی ماں نے ہمیشہ بتایا کہ وہ کسی دوسرے شہر چلا گیا ہے اور وہاں ہنسی خوشی اپنی زندگی گزاررہا ہے۔ آہستہ آہستہ سب لوگ ارمانڈو کو بھول گئے لیکن حال ہی میں جب پولیس ایک منشیات فروش گروہ کے کارندوں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی کررہی تھی تو ارمانڈو اپنے ہی گھر کے تہہ خانے میں زنجیروں میں جکڑا ہوا مل گیا۔

افغان جنگ سے بھاگنے والے 12 سالہ بچے کو برطانوی خاتون نے اپنا بیٹا بناکر ساتھ رکھ لیا، لیکن یہ دراصل کون تھا؟ موبائل سے ایسی ویڈیو برآمد کہ خاتون کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

پولیس چیف کیلسو مارشوری نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس اہلکار تہہ خانے میں موجود شخص کی حالت دیکھ کر خود بھی خوفزدہ ہو گئے لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ بیچارہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اس کی حالت ابتر ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شخص کے بال بڑھتے بڑھتے اس کے گھٹنوں تک پہنچ چکے تھے جبکہ پیروں اور ہاتھوں کے ناخن اتنے لمبے تھے کہ انہیں دیکھ کر خوف آتا تھا۔ جب اسے تہہ خانے سے نکالا گیا تو یہ سورج کی روشنی میں آنکھیں نہیں کھول پارہا تھا اور نہ ہی کچھ بولنے کی سکت رکھتا تھا۔ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی انتہائی حیرت کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ پولیس نے اسے فوری طور پر ہسپتال پہنایا جہاں اس کا علاج معالجہ جاری ہے۔ اس نوجوان کی حالت اب قدرے بہتر ہونے لگی ہے تاہم ابھی تک وہ کچھ بھی بولنے سے معذور ہے۔

کیلسو ماشوری کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں کرپارہے کہ اس نوجوان کو مسلسل 20 سال تک اس کے اپنے ہی گھر میں ایک ایسے تہہ خانے میں قید رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی بھی نہیں پہنچتی تھی۔ دوسری جانب ارمانڈو کے والد ارمانسیو ڈی انڈراڈے نے پولیس کو ایک اور کہانی سنادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا واقعی 16 سال کی عمر میں گھر سے فرار ہوگیا تھا لیکن تقریباً ایک ہفتے قبل اچانک کہیں سے واپس آگیا اور کہنے لگا کہ وہ نشے کا عادی ہے اور درخواست کی کہ اسے تہہ خانے میں بند کردیا جائے تاکہ وہ نشہ کرنے کے لئے باہر نہ نکل سکے، تاہم وہ اس بات کی وضاحت نہیں کرپائے کہ اگر سچ یہی ہے تو اس کے بال گھٹنوں تک کیسے بڑھے ہوئے تھے اور ہاتھوں اور پیروں کے ناخن بھی کئی سالوں سے کیوں نہیں تراشے گئے تھے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس