اسلام آبا بند کرنا حملہ تصور ہو گا ،سرحد پار دشمن کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ، ہماری افواج کا کوئی ثانی ہی نہیں: خواجہ محمد آصف

اسلام آبا بند کرنا حملہ تصور ہو گا ،سرحد پار دشمن کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ...
اسلام آبا بند کرنا حملہ تصور ہو گا ،سرحد پار دشمن کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ، ہماری افواج کا کوئی ثانی ہی نہیں: خواجہ محمد آصف

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ، اگر کوئی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر حملہ کرے گا اور اسے بند کر دینے کی باتیں کرے گا تو حکومت اس کے دفاع کو یقینی بناتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو پورا کرے گی۔

نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’کل تک ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ میں غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ نہیں بانٹ سکتا ،اسلام آباد’’ بند ‘‘کرنا حملہ تصور ہو گا ،عمران خان نے گذشتہ دھرنے میں بھی وعدہ خلافی کی اور اس مرتبہ بھی وہ غلط فہمی کا شکار ہیں ،عمران خان کی باتیں اس قابل نہیں کہ انہیں دہرایا بھی جائے ۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں سے پار ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ سی پیک پر عمل درآمد نہ ہو، دہشت گردی پر قابو نہ پایا جا سکے اور پاکستان ترقی نہ کرے، سی پیک پر بھی ہم بہت بہتر طریقے سے کامیابی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں افواج پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں انکی پوری دنیا میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی اور ہماری افواج کا کوئی ثانی ہی نہیں، یہی بات ہمارے دشمن کو ہضم نہیں ہو رہی اور وہ سرحد پار سے ہمارے ملک کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ اندرون خانہ ہمارا دشمن وزیراعظم محمد نواز شریف کو نشانہ بنا رہا ہے،جب پاکستان بھی کچھ کرنا چاہتا ہے تو دھرنا شروع ہو جاتا ہے ۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حب الوطنی میں کوئی نواز شریف کا مقابلہ نہیں کر سکتا ،میرا کوئی حق نہیں ہے کہ میں کسی کو مودی کایار کہوں یا پھر سیکیورٹی رسک قرار دوں ،انہوں نے اسلام آباد پر حملے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے دفاع میں شہر کو کھلا رکھنا ہمارا فرض ہے، اگر کوئی اندرون خانہ دشمن ہمارے ملک کو نقصان پہنچائے گا تو وہ بھی ہمارا دشمن ہی ہوگا ، جس طرح ہمارے سرحد پار دشمن کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو پا رہی اور وہ پاکستان میں سی پیک کی کامیابی نہیں چاہتے اور نہ ہی پاکستان کو ناقابل تسخیر ہوتا ہوا دیکھ سکتے اسی طرح عمران خان کو بھی خوف ہے کہ اگر وزیراعظم محمد نواز شریف اپنی کامیابیوں کے سفر کو جاری رکھتے ہیں تو وہ اندرون ملک ان کے لیے ناقابل تسخیر ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور کے دوسرے لیڈر دھرنے کی ناکامی کے خوف سے خود چاہتے ہیں کہ حکومت انہیں گرفتار کر لے ،بہت سی چیزیں ہمیں وقت پر چھوڑ دینی چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں تو پھر کوئی دَم خم تھا ،اب تو ان چراغوں میں روشنی بھی نہیں رہی ،بعض دفعہ لوگوں کو غلط فہمی اور خوش فہمی ہو جاتی ہے اور وہ بھی ان میں سے کسی کا شکار ہیں ،انتخابات میں ہارے ہوئے لوگوں کی باتوں میں آکر وزیر اعظم گھر چلے جائیں ،ایسا تو نہیں ہو سکتا ،سانحہ کوئٹہ کی انکوائری چل رہی ہے ،ابھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا ،ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے قوم ،فوج کے جوان اور بچے اپنی جانوں کو نذرانہ دے کر کفارہ ادا کر رہے ہیں ۔خواجہ آسف کا کہنا تھا کہ جب میرے لیڈر وزیراعظم محمد نواز شریف جنہوں نے ڈیڑھ کروڑ ووٹ لیے ہیں ان کے بارے میں کوئی کچھ کہے اور اسے سیکیورٹی رسک قرار دے تو ہم حساب تو ضرور برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ میرا ٹویٹ ایک سوال تھا جو میں نے عمران خان کے بیان کے ردعمل کے طور پر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم جب بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کچھ سرحدوں پہ ہوجاتا ہے یا کوئی حادثہ ہو جاتا ہے، ان کا اشارہ کیا تھا میں نے تو اپنے ٹویٹ میں اس بارے میں سوال پوچھا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت اور جن اصولوں کے لیے اپنی جان کی قربانی دی ہمیں اس کا پاس ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی پختگی معاملات کے تسلسل سے آتی ہے نعرے لگوانے سے نہیں۔

مزید : قومی