27اکتوبر، یوم سیاہ کیوں؟

27اکتوبر، یوم سیاہ کیوں؟
 27اکتوبر، یوم سیاہ کیوں؟

  

بر صغیر کی تقسیم کے کئی ایک منصوبے بنے اور مسترد ہوئے ۔ ہندوستان کے آخری واسرائے ماؤنٹ بیٹن جس کے نہرو سے ’’ درینہ‘‘ تعلقات تھے ، بر صغیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس کا کردار ظا لمانہ اور منافقت پر مبنی تھا۔ لارڈ ماوئنٹ بیٹن کی دریافت اور بطور واسئرائے کی نامزدگی محض ایک اتفاق یا برطانوی حکومت کی منصوبہ بندی نہیں ،بلکہ ہندو کی ایک سازش تھی، جس کا علم’’FREEDOM AT MIDNIGHT ‘‘ میں چھپنے والے کرشنا مینن کے ایک انٹرویو سے ہوا ۔ پنڈت جواہر لال نہرو کا معتمد خاص کرشنا مینن ہی در اصل وہ کردار تھا، جس نے سٹیفورڈ کرپس کے سامنے ماؤنٹ بیٹن کانام رکھا تھا ۔

مینن اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ ہندووں کے مفادات کو تحفظ دینے اور تقسیم میں اپنی مرضی کی تبدیلی کرانے کے لیے ماؤنٹ بیٹن سے بہتر کوئی وائسرائے نہیں ہو سکتا۔ وہ بین الاقوامی پریس میں زندہ رہنے کیلئے متنازع امور کو با قی رکھنے کے فن سے واقف تھا، لیکن اس سلسلے میں ہونے والی بات چیت کو اس وقت تک صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جب تک بھارت کے مفادات کو ضرر پہنچنے کا خدشہ تھا۔اگراکا برین مسلم لیگ کو قبل از وقت سازش کا علم ہو جاتا تو وہ ماؤنٹ بیٹن کی تقرری یا اس کے فیصلوں کو کبھی قبول نہ کرتے ۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے1947ء میں حضرت قائد اعظم سے ملاقاتیں کیں اور انہیں متحدہ ہندوستان قبول کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی مگر قائد اعظم اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہے ۔ جناب قائداعظم کے انکار کو ماونٹ بیٹن نے اپنی تضحیک سمجھا۔ جب تقسیم کا منصبوبہ حتمی طور پر تیار ہو گیا تو وائسرائے نے قائد اعظم ، پنڈت نہرو اور سردار بلدیو سنگھ کو اس منصوبے پر رضامندی حاصل کرنے کے لیے دعوت دی جب حضرت قائد اعظم نے اقتدار کے انتقال کا منصوبہ دیکھا تو وہ سکتے میں آگئے ا س میں بنگال اور پنجاب کی تقسیم کافیصلہ بھی تھا ۔جبکہ مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان کے حوالے کر دیے جائیں۔ ’’ تقسیم کا عمل‘‘ دغا، بے اصولی،نا انصافی،حق تلفی،مسلمان سے عناد، مسلم کشی ا ور پاکستان دشمنی کی ایسی شرمناک داستان ہے جو ظلم و استبداد اور جارحیت کی تا ریخ میں منفرد ہے۔

14 اگست 1947ء کو اعلان کیا گیا کہ ’’ یہ ریڈیو پاکستان ہے‘‘ تو مسلمانان بر صغیر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن آزادی منایا گیا۔ ریاست جموں و کشمیر میں بھی پاکستانی پرچم بلند کر دیا گیا مگر بھارت کی مکارانہ پالیسی اور منافقانہ چالاکی سے کشمیریوں کو غلام بنانے کی سازش شروع کردی گئی۔ 27 اکتوبر1947کو بھارتی فوج،آر ایس ایس، جن سنگھ اور ہندو مہا سبا کے مسلح و حشی درندوں نے تمام انسانی،اخلاقی اور جمہوری قدروں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی ڈھٹا ئی اور بے حیائی کیساتھ بیہمانہ اور وحشیانہ انداز میں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جنوبی ایشیا کے امن کو تباہ کرنے کے بیج بو دیے۔حضرت قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کہ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ اسے ملیچھ ہندووں سے پاک رکھنے کے لیے اور’’ کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر مقامی باشندوں اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقوں کے مسلمانوں نے بھارتی درندوں کو للکارا اورجرأت وبہادری کے بل بوتے پر کشمیر کے موجودہ علاقے بھارتی درندوں سے آزاد کر ا لیے ۔مسلمانوں کا جذبہ جہاد دیکھتے ہوئے اور بھارتی فوجیوں کی پسپائی کے پیش نظر مکار پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور فریادی ہوا کہ کشمیر میں جاری جنگ سے کشمیریوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں لہذا جنگ بند کرائی جائے اور دونوں ممالک کی فوجیں واپس بلوا کر استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کی رضامندی حاصل کی جائے کہ وہ کس ملک سے الحاق چاہتے ہیں ۔

لیکن مکار اور وعدہ خلاف پنڈت کا یہ تحریری وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک بھارتی درندے اور نجی انتہا پسند تنظیمیں( جن کا بھارتی وزیر اعظم خود ایک کارکن رہ چکا ہے )کشمیر میں ظلم ڈھا رہے ہیں ۔جبرو تشدد سے آزادی کے چراغ کو بجھا یا نہیں جا سکتا جسے کشمیری اپنے خون سے روشن کیے ہوئے ہیں۔ پون صدی کے سفر میں انہوں نے کتنے جنازے اُٹھائے،کتنے بیٹوں کی ماؤں نے اپنی آنکھوں کے سامنے لخت جگر کو بھارتی درندوں کی گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا۔ لا تعداد معصوموں کے سروں سے شفقت پدری کا سایہ چھن گیا، ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں لیکن عالمی ضمیر بیدار نہ ہوا۔

گزشتہ 69سال سے پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کشمیریوں کی انسانی، اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ دنوں اسی سلسلے میں یوتھ فورم فار کشمیر( پہلا انٹر نیشنل لابنگ فورم ہے)، کے سربراہ جناب محمد میاں سومرو سابق چیئرمین سینٹ نے لاہور میں واقع اپنے دفتر ایوان کشمیر میں ایک نشست کا اہتمام کیا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہل الرائے کو مدعو کیا ، جس میں راقم نے بھی شرکت کی۔یاد رہے کہ ’ YFK‘ ایک ایسا فورم ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے کافی عرصہ سے کوششیں کرتا آرہا ہے ۔ ان کے اسلام آباد، مظفر آباد،لاہور، کوئٹہ ، کراچی اور پشاور میں دفاتر کے ملک کی سیاسی ،سماجی،مذہبی،نوجوان ،طلباء،وکلاء اور صحافی تنظیموں سے قریبی رابطہ ہے جنہوں نے کشمیری نوجوان حریت پسند مظفر وانی کی شہادت کے خلاف اور بھارتی ظلم و تشدد،جبرو استبداد، درندگی، سفاکیت، چنگزیت،بر بریت اور مو دیت کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالیں ، سیمنارزمنعقد کیے اور احتجاج بھی کیا ۔یہ ایک بہت باوقار اور اثر آفرین نشست تھی جس میں فورم کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ممبران نے بھی شرکت کی ۔ ڈاکٹر محمد عمران اُپل(اسلام آباد) تمام ضلعی کنو ینرز کے ساتھ وہاں موجود تھے جنہوں نے شرکاء اور میڈیا کے سامنے اپنی کار کردگی رپورٹ پیش کی ۔ نواب ریاض حسین قریشی( فرزند نواب صادق حسین قریشی سابق گورنر) صوبائی صدورکے ہمراہ بھی وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر منعقد کی جانے والی تقریبات سے حاضرین کو آگاہ کیا۔فکری نشست میں کالم نگار قصور سعید مرزا کی موجودگی شرکاء کے لیے بہت ہی مفید رہی ۔ انہوں نے بھارت کے سندھ، بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں بچھائے گئے جال سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ محمد میاں سو مرو نے شرکاء کو بتایاکہ ہم 27 اکتوبر یوم سیاہ کے موقع پر ضلعی سطح پر احتجاجی ریلیاں نکال کر بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیخلاف اقوام عالم کو متوجہ کرینگے اور بھارت کا مکروہ، بھیانک، سیاہ چہرہ بے نقاب کرینگے۔ ایسے فومرز کو بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کی لابنگ کے لیے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔

مزید : کالم