27اکتوبر اہل کشمیر کے لئے یوم سیاہ

27اکتوبر اہل کشمیر کے لئے یوم سیاہ
 27اکتوبر اہل کشمیر کے لئے یوم سیاہ

  

ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میں27 اکتوبروہ بدترین سیاہ دن ہے، جس دن بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اُتار کر ریاست جموں وکشمیر کے ایک بڑے حصہ پر اپنا جابرانہ غاصبانہ تسلط قائم کر لیا، حالانکہ تقسیم برصغیر کے منصوبہ کے مطابق برصغیر کی 562 ریاستوں کویہ حق دیاگیاتھاکہ وہ پاکستان اور ہندوستان، جس کے ساتھ چاہیں اپنے محل وقوع اور آبادی کی اکثریت کی بنا پرالحاق کر سکتے ہیں۔ دوقومی نظریہ کے مطابق بھی، جن ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی انہیں پاکستان اور جن میں ہندوؤں کی آبادی زیادہ تھی، انہیں ہندوستان کاحصہ بناناتھا جبکہ ریاست جموں و کشمیر جس کی اکثریت مسلمانوں کی تھی اور اس کاحکمران ہندوتھا۔ حیدر آباد کے نواب نے اپنی ریاست کی خودمختاری اور جوناگڑھ کے نواب نے پاکستان سے الحاق کیا، لیکن بھارت نے اسے تقسیم ہند کے اصولوں کے منافی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی فوجیں اُتار کر ان پر قبضہ کر لیا۔15 اگست تک پانچ سو سے زائد ریاستیں ہندوستان سے الحاق کر چکی تھیں جونا گڑھ، حیدر آباد اور کشمیر کی ریاستوں نے 15 اگست1947ء تک ہندوستان یا پاکستان سے الحاق نہیں کیا تھا تقسیم کے بعد جونا گڑھ اور منادر نے پاکستان سے الحاق کر لیا۔

قائداعظم نے 5ستمبر1947ء کو دونوں ریاستوں کا الحاق منظورکر لیا۔بھارت نے جونا گڑھ اور منادر کی ریاستوں کی قانونی حق الحاق کو نظر انداز کرتے ہوئے اکتوبر1947ء کے آخر تک جونا گڑھ میں اتنی افراتفری پیدا کردی کہ نواب اپنے خاندان کے ساتھ کراچی آنے پر مجبور ہو گیا۔ہندوستان کی افواج نے اکتوبر کے آخر اور نومبرمیں جونا گڑھ پر قبضہ کر لیا۔ ریاست جموں و کشمیر جہاں80 فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ جغرافیائی،اقتصادی مذہبی اور علاقائی لحاظ سے بھی اس کا الحاق پاکستان سے ہوناتھا۔ ریاست کی600میل لمبی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔ریاست کے قدرتی وسائل جنگلات اور دریاؤں کارخ بھی پاکستان کی طرف ہے۔ دوقومی نظریہ اور ریاست میں مسلمانوں کی کثیر آبادی کے لحاظ سے بھی ریاست جموں وکشمیر کا پاکستان سے الحاق ہونا فطری تھا۔ ماؤنٹ بیٹن اور مہاراجہ کی ساز باز کے باعث ریاست جموں و کشمیرکا الحاق پاکستان سے تو نہ ہو سکا۔ ہندو قیادت نے پاکستان کو شروع ہی سے مسائل میں مبتلا کر دیا۔ خزانے میں بھی پاکستان کو حصہ نہیں دیا گیا تھا۔فوجی یونٹوں کو بھی روک دیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت کروڑوں مہاجرین کو پاکستان میں دھکیل کر پاکستان کے لیے مسائل پیداکیے۔

مہاراجہ کی 13 بٹالین میں سے صرف چند بٹالین میں مسلمان فوجی تھے۔ انھیں بھی سرینگر سے دوربھیج دیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ریاست میں مسلمان افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ ہندوؤں نے ریاست جموں و کشمیر میں فسادات برپا کر دیئے۔مسلمانوں کاقتل عام شروع کر دیا گیا جس پر ریاست بھر کے مسلمانوں نے ڈوگرہ کے خلاف عملی جہاد شروع کیاجس کے بعد 24 اکتوبر 1947ء کو آزاد جموں و کشمیر حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت کے قیام کے بعد مہاراجہ نے ہندوستان کے حکمرانوں اور انگریزوں سے ساز باز کر کے 27 اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر دیں اور ریاست کے ایک بڑے حصے پر اپنا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیرراجہ محمدفاروق حیدر خان کی ہدایت کے مطابق اس بار ریاست جموں وکشمیرکے آر پار پاکستان سمیت دُنیا بھر میں مقیم کشمیری مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کر کے بھارت کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہارکریں گے اور عالمی امن کے علمبرداروں اور اقوام متحدہ کے ضمیروں کو جھنجوڑیں گے۔ کشمیری گزشتہ 70برسوں سے اپنے حق خود ارادیت کے

مزید : کالم