کوئٹہ دہشت گردی میں پوشیدہ اسباق

کوئٹہ دہشت گردی میں پوشیدہ اسباق

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کسی غفلت یا کوتاہی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے، ہم نے یکم ستمبر سے اب تک چار انٹیلی جنس اطلاعات فراہم کیں،کوئٹہ جا کر پوچھوں گا کہ سیکیورٹی الرٹس کے باوجود یہ سانحہ کیوں رونما ہوا؟اگر سیکیورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے تو ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، پہلے دہشت گرد اندر سے حملے کرتے تھے،اب سرحد پار سے کارروائی کرتے ہیں، دہشت گردوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، عوام روز روزجنازے اُٹھا کر اب مایوس ہو رہے ہیں اور اُن کی یہ مایوسی درست ہے، ہمیں بروقت الرٹ رہنا ہے۔ ہم نے حکومت سنبھالی تو روزانہ پانچ سات دھماکے ہوتے تھے اب ہفتوں بعد کوئی واقعہ ہوتا ہے،لیکن ایسے واقعات سے مہینوں کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ کوئٹہ میں گزشتہ روز کے واقعہ نے ہماری پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی محنت ضائع کر دی۔ ہمیں ہر وقت الرٹ رہنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کے بارے میں عسکری اور سول حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس میں ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ادارہ ملوث ہے اور ایسی کارروائیوں کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ اب بھی یہی کہا گیا ہے کہ حملے کا منصوبہ نئی دہلی میں بنایا گیا، اِس لئے یہ معاملہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ کو محفوظ شہر بنانے کے منصوبے پر عملدرآمد پر اظہار برہمی کیا اور نیشنل ایکشن پلان پر ہر صورت عمل کرنے کی یقین دہانی کروائی، وزیراعظم نے استفسار کیا کہ جب اِس بات کا علم تھا کہ دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہو سکتا ہے تو اس کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کیوں نہ اُٹھائے گئے؟ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ حملے کے دوران دہشت گردوں کا مسلسل افغانستان سے رابطہ تھا۔

دہشت گردی کے اِس واقعہ میں اگر بھارت اور افغانستان ملوث ہیں اور اس کے شواہد ہمارے اداروں کے پاس موجود ہیں تو دونوں ممالک کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھانا چاہئے اور اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ بھی نکلنا چاہئے اس سے پہلے بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے کئی واقعات میں افغانستان کے ہاتھ کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔یہ بھی بتایا جاتا رہا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور اور چار سدہ یونیورسٹی میں دہشت گردی کرنے والے طور خم کے راستے پاکستان داخل ہوئے اور دوران آپریشن اُنہیں افغانستان سے ہدایات دی جا رہی تھیں اور اِس مقصد کے لئے افغان ٹیلی فون استعمال ہوئے۔اِن ثبوتوں کے حوالے سے فوری طور پر جنرل راحیل شریف بذاتِ خود افغانستان گئے تھے اور انہوں نے افغان صدر اور دوسرے اعلیٰ حکام کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھایا تھا، افغانستان نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دی جائے گی،لیکن بلوچستان میں دو ماہ قبل ہونے والے وکلا اور سول ہسپتال پر حملے اور اب پولیس ٹریننگ کالج پرجس انداز میں حملہ ہُوا ہے، اس میں افغانستان کا تذکرہ ہے کہ دہشت گرد فارسی میں بات کررہے تھے اُن سے تو یہ لگتا ہے یہی کہ دہشت گرد نہ صرف انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں، بلکہ اُنہیں جدید نفسیاتی جنگ کے طور طریقوں سے بھی پوری واقفیت حاصل ہے اور وہ ان حربوں کو واردات کے دوران پوری ہوشیاری سے استعمال کرتے ہیں۔

تازہ ترین واردات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب وہ کالج کے اندر داخل ہو گئے تو کمروں کے مقفل دروازے کھلوانے کے لئے انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ہم فوجی ہیں، دروازے کھولو، اس آواز کے بعد کسی نے اِس تصدیق کی ضرورت بھی نہیں سمجھی ہو گی کہ آدھی رات کے وقت فوجیوں کو کالج میں آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی ہے اور اگر واقعتا ایسا ہو بھی گیا ہے تو دروازے کھولنے سے پہلے تصدیق ضروری تھی، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب وارداتیں کرنے والے دہشت گرد ہر پہلو سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور جنگ کے بنیادی اصولوں ناگہانیت، دھوکہ دہی، اچانک حملے سے لوگوں کو کنفیوز کرنا جیسے حربے استعمال کر کے اور دھماکہ سے دہشت پھیلا کر کارروائی کا آغاز کرتے ہیں، وکلا کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا پہلے ایک وکیل رہنما کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تو دہشت گردی کا منصوبہ بنانے والوں کو ٹھیک ٹھیک اندازہ تھا کہ سارے وکلا ہسپتال پہنچیں گے،چنانچہ جب ایسا ہی ہوا تو دوسرا خود کش حملہ ہسپتال کے اندر کر دیا گیا اور یوں بے حدو حساب قیمتی جانی نقصان ہو گیا، پولیس کالج میں ناکافی حفاظتی انتظامات کا ذکر بھی ہوا ہے،لیکن اگر دہشت گرد اچھے خاصے انتظامات کو بھی غیر موثر کر دیتے ہیں تو جہاں حفاظتی انتظامات زیادہ بہتر نہیں ہوتے وہاں تو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں،لیکن آرمی پبلک سکول، چار سدہ یونیورسٹی، وکلاء کے ساتھ دہشت گردی اور اب پولیس کالج کے واقعات کا ہی بھرپور پیشہ ورانہ تجزیہ کر لیا جائے تو یہ بات سامنے آ جاتی ہے کہ دہشت گرد بیرونِ مُلک سے آئے ہوں، یا اندرونِ مُلک سے، وہ بہرحال تربیت یافتہ اور پوری تیاری سے آئے تھے،جواب میں ہمارے فوجیوں اور جوانوں نے بھی بھرپور کارروائی کی، ایک دہشت گرد کو مار ڈالا اور دو نے خود کو اُڑا لیا،لیکن ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کی تھیوری کو سامنے رکھا جائے تو دہشت گردوں نے مرنے سے پہلے اپنے کافی اہداف حاصل کر لئے تھے، اور بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا دیا تھا۔

بلوچستان میں بعض قبائل نے مسلح کارروائیاں بھی شروع کر رکھی ہیں اس پہلو سے بھی تفتیش ہونی چاہئے کہ بیرون مُلک منصوبہ بندی اور دو غیر ممالک کے ملوث ہونے کے باوجود وہ کون سے مقامی عناصر تھے جو اِس مقصد کے لئے استعمال ہوئے، جو افسوسناک سانحات ہمارے جسدِ قومی پر گزر چکے اور جو چرکے ہم پر لگائے جا چکے، اب وہ تو ریورس نہیں ہو سکتے،لیکن اتنے بھاری نقصانات کے بعد بھی آئندہ ایسے فول پروف انتظامات تو کئے جا سکتے ہیں کہ دہشت گرد کامیاب نہ ہوسکیں۔ یہ بھی درست ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی کے ادارے اِس سلسلے میں مہینوں سے محنت کرتے ہیں،لیکن چودھری نثار علی کے اِن الفاظ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی ایک واقعہ مہینوں کی محنت کو کس طرح ضائع کر دیتا ہے۔

مزید : اداریہ