پنجاب حکومت کو31ارب روپے کی ادائیگی

پنجاب حکومت کو31ارب روپے کی ادائیگی

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت کے درمیان نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے حوالے سے معاملہ طے پا گیا ہے اور وفاقی حکومت نے فوری طور پر پنجاب حکومت کو31ارب روپے ادا کر دیئے ہیں،بقایا جات کی بھی جلد ادائیگی کا وعدہ کیا گیا ہے۔وفاق اور صوبوں کے درمیان بعض معاملات پر ماضی میں حکمرانوں کی سستی اور لاپروائی کے سبب مالی امور پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔اِس سلسلے میں سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو ٹیکسوں کی آمدن اور بجلی کے واجبات کے بارے میں کئی برس تک معاملات طے ہی نہیں ہوتے رہے۔ اگر کسی معاملے کو طے کر لیا گیا، تو وفاق کی جانب سے صوبوں کو اُن کے طے شدہ واجبات کی ادائیگی میں بہانے بازی سے کام لیا جاتا رہا۔ صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت سے بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث اپنے ترقیاتی پروگراموں کو آگے بڑھانے میں دشواریاں بھی پیش آتی رہیں۔

یہ بات اطمینان بخش ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے صورت حال مختلف ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان متنازعہ اور التواء میں پڑے ہوئے معاملات کو طے کیا جانے لگا ہے اور وفاق کی جانب سے اصولی طور پر ادائیگیوں کے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو بعض مدات میں ادائیگیاں بھی ہوئیں۔ تازہ ترین مثال پنجاب اور وفاقی حکومت کے درمیان نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے حوالے سے طے پانے والا معاہدہ بھی ہے، جس کے تحت پنجاب حکومت کو31ارب روپے کی پہلی قسط ادا کر دی گئی ہے، بقیہ رقم بھی طے شدہ مدت کے اندر دے دی جائے گی۔پنجاب حکومت ملنے والی اس رقم سے اپنے جاری ترقیاتی منصوبوں کو بہتر طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکے گی، جبکہ نئے منصوبوں کے لئے بھی31ارب روپے سے آسانی کے ساتھ منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی جائے گی۔

مزید : اداریہ