بگاڑ روکئے

بگاڑ روکئے

منتخب قیادتیں پھر تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کی مفاداتی جنگ نے سماج کو متضاد سوچوں کے ایک ایسے دریا میں ڈبو دیا، جہاں زندگی کی امنگ بے یقینی کی نذر ہو چکی ۔ بوکھلائے، مرجھائے چہرے خوشیوں کے انتظار میں کملائے جا چکیہیں، یہ وہی معصوم چہرے ہیں جنہوں نے مسرتوں کی تلاش میں آمریتوں کو برداشت کیا، جنہوں نے خوشبو آمیز ہواؤں کی آس پر جمہور کی صبح نو کا استقبال کیا اور جنہوں نے نفاذ عدل کے نعرے پر مذہب پرستوں کے افکار سپنوں کی مانند آنکھوں میں سجائے، لیکن ہو ا کیا؟۔۔۔ آمریتوں نے مسرتوں کی تلاش میں بھٹکتی روحوں کو شاہی قلعے کے زندانوں میں دفن کر دیا۔ جمہوریت پرستوں نے خوشبو سے لبریز جھونکوں کو اپنے وجود تک محدود کر لیا اور باقی بچے مذہب پرست تو انہوں نے عدل کا سپنا مکمل ہونے سے قبل ہی اختلاف کرنے والوں کو زندگی کی دوڑ سے خارج کرنا شروع کر دیا۔۔۔ کیا قیادتوں کی تبدیلی اور نئے چہروں کی تلاش سماجی انقلاب کو روک سکے گی؟۔۔۔ نامعلوم تبدیلی کی چاپ بڑی واضح ہے۔یہ خونی ہو یا پُرامن، سفید ہو یا سبز، حالات خود فیصلہ کریں گے۔ کلیدی کردار منتشر آبادی کا بڑھتا دباؤ۔۔۔ اور آبادی بھی ایسی جو راکٹ کی رفتار سے تمام قوانین، ضابطوں اور روایات کو پھاڑتی بدامنی کے آسمانوں میں گم ہو نے پر مصر ہے۔ سوچوں کے جنگل میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔

صرف آبادی کے اس چھیاسٹھ فیصد حصے پر نگاہ دوڑائیے جو چودہ کروڑ انسانوں پر مشتمل ہے۔ تیس برس سے کم عمر،ان افراد کی اکثریت بیروزگاری، جہالت اور جرم کی دلدل میں دھنس چکی ہے ۔ غربت اور جھنجھلاہٹ ان کے گرد دائرہ کھینچے بیٹھی ہیں۔روایتی طریقے نہ تو انہیں مثبت سرگرمیوں کے لئے چارج کر سکتے ہیں اور نہ ہی منفی کاموں سے بچانے کے لئے ڈی چارج۔ یہ ایج گروپ عظمتوں کا نشان بننے کی بجائے کمزور سماجی ڈھانچے کے لئے بدنمائیوں کا داغ بن چکا ہے ۔۔۔ قیادتوں کی تبدیلی کا وقت گزر چکا۔۔۔ جلد یا بدیر وقت آئے گا، جب انتقام پر مائل سماج کسی قیادت کو بروئے خاطر لانے پر تیار نہیں ہوگا۔ قیادت اور عوام کا شگاف اتنا چوڑا ہو رہا ہے، جسیختم کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا ۔ عوام زندگی کی بازی ہار رہے ہیں اور قیادتیں مغل بادشاہوں کی طرح سیاست کی شطرنج بچھائے بیٹھی ہیں۔ عوام مہنگائی کا رونا روتے روتے آنسو خشک کر چکے ہیں اور قیادتیں کندھے اچکاتے ہوئے اسے عالمی حالات سے نتھی کر نے پر مصر ہیں۔ بڑھتی غربت خودکشیوں کی صورت میں جسموں سے روحیں نوچ رہی ہے اور قیادتیں اسے صدیوں پرانی نحوست کا تسلسل قرار دینے پر بضد ہیں۔ لاعلاج غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دہلیزوں پر دم توڑ رہے ہیں اور قیادتیں یتیم بچوں کے سر سہلاتے ہوئے تصویریں چھپوا نے میں مصروف ہیں۔

نئے چہروں کی تو بات ہی نرالی۔۔۔ اول تو عمران خان کے سوا یہاں کوئی نیا چہرہ دستیاب ہی نہیں۔ باقی رہے پرانے تو وہ کبھی پرانے ہو ہی نہیں سکتے۔ بیٹوں، بھتیجوں اور بہوؤں کی صورت میں یہ پرانے چہرے نئے روپ میں بدستور قابض ہیں، البتہ مارکیٹ ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ گاہے بگاہے خود بھی خونی انقلاب کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ یہ’’ انقلاب‘‘ جلد آئے یا بدیر، انہوں نے اپنے تئیں انقلاب کو بھی ہائی جیک کرنے کے منصوبے بنانا شروع کر دیئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہغیظ و غضب، دیوانگی اور جنونیت کی فقط پہلی لہر ہی ان پرانے چہروں کو عالیشان محلوں سے نکال کر سڑکوں پر گھسیٹتی نظر آئے گی۔۔۔ مڈٹرم الیکشن جیسی وسل ایسی کیفیت سے بچاؤ کا دوسرانام ہوتی ہے، لیکن فی الوقت معاملہ مڈٹرم الیکشن سے بھی آگے نکل چکا ہے ۔ عوام نہ تو سیاستدانوں پر اعتبار کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی انہیں عسکری تجربوں سے کوئی دلچسپی رہی ہے ۔سماج نے اپنی مختصر تاریخ میں پے در پے اتنے سیاسی اور عسکری ڈرامے دیکھ لئے کہ ہر سیٹ اپ بے آبرو ہوچکا ۔

انہی سماجی تجربات نے عوام کی نظروں میں جمہوریت کو بے توقیر کیا، انہی تجربات نے فوج کے نظام مملکت چلانے کی خود ساختہ قابلیت کو ننگا کیا۔ نتیجتاً آج لوگ بڑی جماعتوں کے طرز حکمرانی کو نورا کشتی جیسے الفاظ سے پکار رہے ہیں۔ کیا مڈٹرم الیکشن اس عوامی رائے عامہ کو بدل سکیں گے؟۔۔۔ کیا ان چھیاسٹھ فیصد خونخواروں کو مزید مشتعل ہونے سے بچایا جا سکے گا؟ جو پالیسیوں میں عمل درآمد کی ناکامی پر، اعلانیہ بغاوت کا نعرہ بلند کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔ پالیسیوں پر عمل درآمد کس کی ذمہ داری تھی ؟۔۔۔ افسر شاہی کی۔۔۔ افسرشاہی انقلاب یا فسادروکنے کے لئے کیا کر رہی ہے؟روایتی موج مستی۔۔۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ بگاڑ۔۔۔ پاکستان نہ تو اتنا مقدس ملک ہے جو فطرت کے فیصلوں کو روک سکے، نہ ہی یہاں یکجہتی کی ایسی ڈور موجود ہے جو عوام کو صبر کی لڑی میں پرو سکے اور نہ ہی یہاں ایسی کوئی قابل اعتبار سماجی ، مذہبی شخصیات بچی ہیں جو کٹھن حالات میں عوام کو توڑ پھوڑ سے روکتے ہوئے ملبہ شیطان پر ڈال سکیں۔ اب تو فیصلے صاف نظر آرہے ہیں۔ فطرت، قدرت اور الہامیت کو کوئی مجبوری نہیں جو اس معاشرتی ڈھانچے کو بچائے، جس کی بیشتر اشرافیہ کرپٹ ہوچکی ہے ۔ یہ تصور دماغ کے نہاں خانوں سے نوچ پھینکنا ہوگا کہ قدرت کو پاکستانیوں سے کوئی خاص رغبت ہے۔

قدرت نہ تو گستاخوں کی خاطر اپنے قوانین بدلتی ہے اور نہ ہی فیصلوں پر عمل درآمد کے معاملے میں کوئی رو رعایت دیتی ہے۔ جو قیامت پاکستان پر اتر رہی ہے، وہ نہ تو چہروں، کرداروں کی تبدیلی پر رکے گی اور نہ ہی مجبوریوں، بے کسیوں جیسے بہانوں کو خاطر میں لائے گی۔ پاکستانی اشرافیہ سے کس نے کہہ دیا کہ فطرت ان کی بدمعاشیوں پر چپ سادھے رہے گی؟ بالادست طبقات نے کیونکر سمجھ لیاکہ غریب کے مقدر میں صرف شکست ہی لکھی گئی ہے؟ بھوک جب حدیں پھلانگ دے تو آگ بن جاتی ہے۔ آگ بھی ایسی جو بگولوں کی مانندلپکتی اور نرم ہتھیلیوں ، بڑھی توندوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔۔۔ وقت کبھی بھی ہاتھ سے نہیں نکلتا، اب بھی اگر ہوش سے کام لیا جائے تو ابھرتے بگاڑ کو روکا جا سکتا ہے۔ کرپشن اور ناقص امن و امان جیسی بنیادی کوتاہیوں پر سبھی کا اتفاق ہے۔ ہر قابل ذکر لیڈر اس کا برملا اظہارکر رہا ہے، اگر ان خامیوں پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل تاریک ہوگا۔ اب سوال یہپیدا ہوتا ہے کہ اگر نقائص کا علم ہو چکا تو حل کی طرف کیوں نہیں بڑھا جا رہا؟۔۔۔ سابق صدر آصف علی زرداری پاکستان آئیں اور اہم قومی رہنماؤں کو اکٹھا کرکے کسی واضح حل کی طرف جائیں۔ ضروری نہیں لیڈرشپ جنگ کی صورت میں ہی اکٹھی بیٹھے۔ موجودہ حالات جنگ سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ قومی قیادت اگر اب اکٹھا نہیں ہوپا رہیتو پھر کب؟

پس تحریر۔۔۔2 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے ان دنوں عمران خان کو پرانے اور نظریاتی کارکن کچھ زیادہ ہی یاد آرہے ہیں۔ پچھلے دنوں عمران خان کے دو متوالوں، سید حسن جعفری اور چودھری محمد علی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پارٹی پر اس دور میں پیسہ لٹایا، جب عمران خان کو گوجرانوالہ میں خوش آمدیدکہنے والے تو بہت تھے، مگر انتظامات کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ جذباتی کارکن اب بھی پُر امید ہیں اور گوجرانوالہ سے سب سے بڑا قافلہ اسلام آباد لے جانے کے لئے پُرعزم بھی۔ سوال یہ ہے کہ چند دنوں میں پندرہ ، بیس لاکھ کا خرچہ، لیکن ان جذباتی کارکنوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آیا عمران خان اپنے نظریاتی کارکنوں کو یاد بھی رکھ پائیں گے یا وقت نکلتے ہی پہلے کی طرح آنکھیں پھیر لیں گے؟

مزید : کالم