حالتِ جنگ یا حالتِ بھنگ

حالتِ جنگ یا حالتِ بھنگ
 حالتِ جنگ یا حالتِ بھنگ

  

پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے بڑے واقعات ہوئے ہیں، وہ دکھ کے ساتھ ساتھ یہ حیرت بھی چھوڑ جاتے ہیں کہ دہشت گرداس قدر آسانی سے اپنے ہدف تک پہنچے کیسے؟ سیکیورٹی پر اربوں روپے خرچ کرنے والے ادارے اور فول پروف سیکیورٹی کا شور مچانے والے ارباب اختیار کس کو جوابدہ ہوئے، کس نے اتنے بڑے سانحات کی ذمہ داری قبول کی، یہ حیرت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ دو دن گزرنے کے بعد کوئی پیچھے مڑ کے دیکھتا بھی نہیں۔ آج کل یہ اصطلاح بہت عام ہے کہ کسی بھی غلطی یا کوتاہی پر بڑے لوگ خود ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ’’قربانی کے بکرے‘‘ تلاش کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سکول پر جو آفت ٹوٹی، اس کی ذمہ داری حسبِ معمول کوئی قبول نہیں کرے گا۔ جہاں صوبے کا وزیر اعلیٰ یہ کہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی سے ہم بڑے نقصان سے محفوظ رہے اور 61جوانوں کی ناگہانی موت کوبڑا نقصان ہی نہ سمجھا جائے، وہاں سمجھ جانا چاہیے کہ غیر ذمہ داری اور بے حسی کی سطح کیا ہے۔ یہ واقعہ جو ہر لحاظ سے حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کا پول کھولتا نظر آتا ہے، کس قدر آسانی سے دہشت گردوں کے ہدف تک پہنچنے کی نشاندہی کررہا ہے۔ اونچے حصاروں اور سیکیورٹی کے ان گنت پردوں میں چھپ کر زندگی گزارنے والے حکمرانوں، بیوروکریٹس اور پولیس افسران کی بے حسی اور غیر ذمہ داری اس سانحے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ لیکن ہوگا پھر بھی کچھ نہیں، کبھی درمیان میں’’ را‘‘ آ جائے گی اور کبھی وہ تحقیقات کا روائتی بیان جو’’ مٹی پاؤ‘‘ کا دوسرا نام ہے۔

اس سانحے کی اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ چیخ چیخ کے کہہ رہی ہیں کہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے ان کڑیل جوانوں کو نہتے عالم میں دہشت گردوں کی نذر کیا ہے۔ حیرت اور استعجاب کے کئی پہلو ہیں، جن کا اب تک جواب سامنے نہیں آیا، مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان نوجوانوں کی تربیت دو دن پہلے مکمل ہو چکی تھی، اور پاسنگ آؤٹ پر یڈ کا مرحلہ بھی گز ر گیا تھا،اس کے باوجود انہیں پولیس ٹریننگ سنٹر میں رکھا گیا، سات سو تربیت یافتہ پولیس کے جوانوں کو بغیر اسلحہ کے کمروں میں رہنے کو کہا گیا اور باہر کی سیکیورٹی پر ذرہ بھر توجہ نہ دی گئی۔ صرف نگرانی کے چبوترے پر ایک کانسٹیبل تعینات تھا، جس نے اپنی بساط کے مطابق دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی مگر سب سے پہلا شہید خود بن گیا۔ کوئٹہ شہر کے ڈی سی او، سی پی او بلکہ اس سے بھی نچلے درجے کے ملازمین کی رہائش گاہوں پر دس پندرہ سے کم پولیس والے تعینات نہ ہوں گے، لیکن سات سو نہتے سوئے ہوئے جوانوں کی حفاظت پر ایک سنتری تعینات تھا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اس سنٹر کی دیواریں بھی کچی اور جگہ جگہ سے بریدہ تھیں، ان کی اونچائی بھی ایسی نہ تھی کہ کوئی انہیں پھلانگ نہ سکے ، کوئٹہ شہر سے 13کلومیٹر کے فاصلے پر نسبتاً مضافات میں واقع اس سنٹر کو واقعتا دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ حالانکہ وہاں سینکڑوں اہلکار موجود تھے اور اندھے کو بھی پتہ ہے کہ دہشت گرد سب سے پہلے فوج اور پولیس پر حملہ کرنے کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔ یہ مجرمانہ غفلت اس صورت حال میں روارکھی گئی جب انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے اطلاع دیدی گئی تھی کہ دہشت گرد کسی وقت بھی کوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔

اس سانحے کے بعد شاید ایک ایکڑ پر مشتمل اس پولیس ٹریننگ سنٹر کی چار دیواری پختہ اور اونچی ہو جائے۔ مگر اب یہ چار دیواری ان شہیدوں کے لواحقین کے سینوں پر مونگ دلتی رہے گی، جو اس سانحے کی نذر ہو گئے۔ وہ اس چار دیواری کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھریں گے کہ کاش یہ پہلے بنادی جاتی، ان کے پیارے بیٹے دنیا سے رخصت تو نہ ہوتے۔ آئی جی بلوچستان کہتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کو اس چاردیواری کے لئے لکھ رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے ان کے نوٹس میں یہ بات تھی کہ ٹریننگ سنٹر کی چاردیواریغیر محفوظ اور ناکافی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے ٹریننگ سنٹر کے چاروں جانب پولیس کی نفری تعینات نہیں کی اور صرف ایک کانسٹیبل کو ایک ایکڑ پر محیط سنٹر کی نگرانی سونپ دی۔ انہیں تھوڑا سابھی احساس ہوتاتو وہ اپنی وسیع و عریض رہائش گاہ داخل ہوتے وقت یہ ضرور سوچتے کہ ان کی حفاظت کے لئے تو اندر باہر ایک بڑی گارد موجود ہے، ان نوجوانوں کا کیا بنے گا جو اصل میں ان کی فورس ہیں اور جن کی حفاظت کے لئے ایک پختہ چاردیواری تک موجود نہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اسی سانحے کی ذمہ داری قبول کر کے اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جاتے۔

سوال یہ ہے کہ صوبے کا آئی جی ہونے کے باوجود اگر وہ وزیر اعلیٰ سے باؤنڈری وال منظور نہیں کرا سکے تو انہیں عہدے سے چمٹے رہنے کا کیا حق ہے۔ ان کے گھر کی دیوار گر گئی ہوتی اور اگلے دن تعمیر نہ ہوگئی ہوتی تو وزیر اعلیٰ کے سامنے کیا اسی طرح ان کی زبان نہ کھلتی جیسے ٹریننگ سنٹر کی دیوار نہ بننے پر نہیں کھلی۔ معاملہ ترجیحات کا ہے، عام آدمی ہو یا نچلے درجے کے ملازمین، ان کی اہمیت ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں۔ یہاں طبقہ اشرافیہ کا وی آئی پی سے دل نہیں بھرا تو اس نے وی وی آئی پی کی اصطلاح ایجاد کرلی، آج جن 61گھرانوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، ان سے پوچھو کہ کتنے قیمتی جوان ان سے دور چلے گئے ہیں۔ ان کے لئے تو وہی وی آئی پی تھے اور وہی وی وی آئی پی ہیں۔ جنہیں دہشت گردوں کے سامنے ایسے عالم میں پھینک دیا گیا جیسے منڈی میں گاجر مولیاں پھینکی جاتی ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور ایف سی کے کمانڈر فرما رہے تھے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور جنگ میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کیا حالت جنگ ایسے سیکیورٹی خلاء کی متحمل ہو سکتی ہے ۔ جیسا کوئٹہ میں دیکھا گیا ہے کیا یہ شرمناک حقیقت نہیں کہ جس سیکیورٹی خلا کو دیکھ کر دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلنے کا منصوبہ بنایا، وہ ریاستی اداروں کو دکھائی نہیں دیا۔ یہ کیسی حالتِ جنگ ہے کہ جس میں ہم لسّی پی کر سوئے ہوئے ہیں۔ ہر دہشت گردی کے واقعہ پر بیانات کی ملمع کاری کرنے والوں کو کچھ تو شرم بھی کرنی چاہیے ، کیونکہ اب ایسے بیانات دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد کے لواحقین کو ایک نئی اذیت میں مبتلا کردیتے ہیں دہشت گردی تو نجانے پاکستان سے کب ختم ہونی ہے، اربوں روپے ہر سال سیکیورٹی کے نام پر ہڑپ کرنے والے ادارے کم از کم اپنی غفلت تو ختم کریں۔ ہر روز یہ فرضی خبر لگا دی جاتی ہے کہ اسلحہ کی بڑی کھیپ پکڑ کر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا گیا۔ حالانکہ دہشت گردوں کا منصوبہ تو کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا، وہ جب چاہتے ہیں خون کی ہولی کھیلنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ حاکمانِ وقت کو اب اپنا یہ تکیہ کلام چھوڑ دینا چاہیے، کہ جوابی کارروائی کی وجہ سے نقصان کم ہوا ہے۔ 60بندوں کا بیک وقت موت کی نذر ہونا بھی اگر کم نقصان ہے تو زیادہ کیا ہوتا ہے، دنیا بھر میں دہشت گردی کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، یہاں اس بات پر فخر کیا جاتا ہے کہ نقصان کم ہوا ہے، لاتعداد انٹیلی جنس ادارے اور سیکیورٹی پر مامور فورسز اس بات کو یقینی کیوں نہیں بنا رہیں کہ دہشت گردوں کو واردات سے پہلے دبوچ لیا جائے، یہ کیسی یک طرفہ جنگ ہے، جس میں دشمن وار کر کے نکل جاتا ہے اور ہم لکیر پیٹتے رہ جائیں گے۔ اب تو ہمیں دہشت گردی کا پورا سکرپٹ ازبر ہو گیا ہے، پہلے بیان آئے گا دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، پھر دہشت گردی کا واقعہ ہوگا، پھر بیان آئے گا دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، پھر جائے وقوعہ کا دورہ ہوگا، دورے کے بعد زخمیوں کی عیادت کی جائے گی ، پھر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد یہ بیان جاری ہوگا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کو یقینی بنانے پر بڑوں کا اتفاق ہوگیا ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد کہانی بند کردی جائے گی۔ اب کسی اگلے سانحے کا انتظار کیا جائے گا۔ کیا دنیا میں اس طرح معاملات چلتے ہیں، کیا اس طرح ہم دہشت گردی کو ختم کرسکتے ہیں، ان سوالات کا جوا ب دینے کی کسی میں ہمت ہے تو سامنے آئے۔

مزید : کالم