پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر حملہ!

پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر حملہ!
پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر حملہ!

  

پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر پیر کی شب جو دہشت گردانہ حملہ ہوا اور اس کے مابعد آرمی اور حکومت کی طرف سے جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ اس حوالے سے قابلِ اطمینان ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر اس حادثہ کا فوری نوٹس لیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں حکومت اور آرمی دونوں کے کثیر التعداد سٹیک ہیں۔ چنانچہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نوازشریف کا کوئٹہ کا یہ وزٹ ایک بدیہی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان میں نون لیگ کی حکومت ہے لیکن حکومتی سطح پر اس سانحے کے بعد جن اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے وہ روائتی سے ہیں۔۔۔مثلاً تین دن کا سوگ منایا جائے گا، سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، شہر میں داخلے کے راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے، شہید ہونے والے زیرِ تربیت پولیس ریکروٹوں کے لواحقین کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔۔۔ ان سے جذباتی ہمدردیاں بھی کی جا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ تو پہلے بھی ہوتا رہا ہے!۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی اقدامات کافی ہیں جو ان عظیم سانحات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد اٹھائے جا رہے ہیںیا قبل ازیں اٹھائے جاتے رہے ہیں یا آئندہ اٹھائے جاتے رہیں گے؟۔۔۔ پوچھا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیاں کہاں سو رہی تھیں؟ سیکیورٹی ہائی الرٹ پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ پہلے کوئٹہ شہر میں آنے والے داخلی راستوں پر چیکنگ کیوں نہیں کی گئی؟ پہلے حفاظتی اقدامات سخت اور ناقابل شکست کوئی نہیں بنائے گئے؟۔۔۔ ملک کے پولیس ٹریننگ کالج پہلے بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

لاہور اور راولپنڈی کی مثالیں کیا ہمارے سامنے نہ تھیں؟ نہ صرف پولیس بلکہ ملٹری (آرمی، نیوی، ائر فورس) کے ٹریننگ سنٹروں، کالجوں اور دیگر ساکن تنصیبات پر بھی ایک سے زیادہ بار ایسے ہی دلدوز حملے ہوتے رہے ہیں۔ جی ایچ کیو پر حملے کو یاد کیجئے۔۔۔ ضربِ عضب کی قابلِ تعریف کارکردگی اور قابلِ ستائش اثر انگیزی پر اندرون ملک اور بیرون ملک بہت کچھ کہا گیاہے۔ لیکن ایک دردمند دل رکھنے والا اور غیر جانبدار ناظر،گزرے دنوں میں ان دہشت گردانہ حملوں کی بیخ کنی کا جس طرح منتظر تھا اسی طرح آج بھی ہے۔ آرمی نے دیر باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان تک فاٹا کی ساری پٹی کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور یہ کوئی معمولی کام نہ تھا۔ اس پراسس میں ہزاروں وردی پوش جوانوں اور افسروں کی قربانی دی گئی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بلائے بے درماں اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔

پاک آرمی نے اپنے ایک نہائت زیرک، بے باک، تنومند، تجربہ کار اور وسیع المطالعہ لیفٹیننٹ جنرل کو کوئٹہ کور کا کمانڈر تعینات کر رکھا ہے۔ ان کی ذمہ داری کا علاقہ نہ صرف وسیع ہے بلکہ اس کا سیاق و سباق بھی علاقائی وسعت سے کہیں وسیع تر ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کے ہمسائے میں صرف ہوسٹائل (Hostile) افغانستان ہی نہیں بلکہ ہوسٹائل انڈیا اور ہوسٹائل امریکہ بھی موجود ہیں۔ جنرل صاحب کو بیک وقت ان تینوں سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا ’’عظیم اورمہیب‘‘ چیلنج ہے جس کا پورا ادراک صرف کور کمانڈر ہی کی ذات کو ہے کیونکہ ان کی مشینی آنکھیں اور کان بلوچستان سے باہر نکل کر بھی بہت دور تک پھیلے ہولناک مناظر دیکھ سکتے اور گرجدار للکاریں سن سکتے ہیں۔۔۔ اس سادرن کمانڈ کے سر پر ایک اور بڑی ذمہ داری بھی ہے جس کو سی پیک (CPEC) کہا جاتا ہے۔ اوپر کی سطور میں جن ہوسٹائل فورسز کا ذکر کیا گیا ہے ان سب سے پاکستان ڈیڑھ عشرے سے دست و گریبان ہے۔ اب وقت آ گیاہے کہ ہمیں اس ہوسٹائل نیٹ ورک کا زور توڑنے کے لئے ایک زیادہ موثر حکمت عملی اپنانی پڑے گی۔ ہم کب تک سینکڑوں ہزاروں لاشیں گرنے کا منظر دیکھتے رہیں گے؟ کبھی کہا جاتا ہے کہ اس پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر صرف چار دہشت گردوں نے پچھواڑے سے واچ ٹاور پر متعین سنتری کو ہلاک کرنے کے بعد حملہ کیا۔ رشین ٹی وی (RT) کے رپورٹر کوئی جاوید رانا صاحب یہ بھی کہہ رہے تھے کہ چار نہیں چھ دہشت گرد تھے جو سپاہیوں کی اقامت گاہوں میں جاگھسے۔۔۔ اور قیامت برپا کر دی۔

اگر 6دہشت گرد بھی تھے تو انہوں نے 160 جوانوں کو شہید اور زخمی کیا۔ اس طرح ان کی ’’کامیابی‘‘ کی شرح کا تناسب ایک بمقابلہ 27 تھا۔اس سے پہلے اسی شہر میں جن وکلاء کو شہید کیا گیا ان کی قیامت خیزی کا ریشو بھی اس سے کم نہیں بلکہ زیادہ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جن قوتوں نے اس وحشت انگیز حملے کی پلاننگ کی تھی یا اب کی ہے ان کا ذہن ایک عام دہشت گرد گروہ کے قبائلی ذہن سے کہیں زیادہ زرخیز اور دوربیں ہے۔ تبھی تو صرف چار چھ حملہ آوروں نے کالج میں گھس کر پونے دو سو لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا یا شدید گھائل کر دیا۔ اور یہ شہید اور زخمی عام شہری نہیں تھے۔ یہ تو دن رات اینٹی ٹیررازم نصاب کی ٹریننگ لے رہے تھے۔ اگر آپ اس تناظر میں اس سانحہ کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے خلاف حملہ آور ہوسٹائل فورسز کی یہ تباہ کن کارروائی کتنی منظم اور کن جدید اور تباہ کن خطوط پر استوار تھی۔۔۔ اس کالج کی چار دیواری (فصیل) پر جو واچ ٹاور بنائے گئے تھے کیا ان پر حملہ کرنے کے امکانات اتنے ہی آسان اور کمزور تھے کہ ایک دو حملہ آور آئے، گارڈ کو ٹھکانے لگایا، دیوار پھلانگی اور اندر داخل ہو گئے؟۔۔۔ اور داخلے کے بعد کیا کالج کا اندرونی احاطہ اس قدر غیر محفوظ تھاکہ یہ دہشت گرد من مانی کارروائیاں کرتے رہے؟۔۔۔

کہا جا رہا ہے کہ انکوائری ہو رہی ہے۔۔۔ پہلے بھی ایسی کئی انکوائریاں ہو چکی ہیں۔بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہم نے معاملے کی سنگینی کو ایک غیر معمولی صورت حال کی طرح نہیں بلکہ معمول کی صورت حال سمجھ کر جو ردعمل کیا ہے وہ انتہائی ناکافی بلکہ ناقابلِ معانی ہے!

پاکستان کو جلد سے جلد چین کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اگر سویلین حکومت ایسا کرنے میں کسی تساہل سے کام لے تو فوج کو زیادہ آس لگا کر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ آرمی چیف نے ایک بار نہیں بار بار سی پیک کی تکمیل کے لئے انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہوئی ہے۔ یہ درست ہے کہ پولیس ایک صوبائی معاملہ ہے۔ پولیس ٹریننگ کالج کی سیکیورٹی بھی اس اعتبار سے ایک صوبائی ایشو تھا۔ اس میں فیڈرل حکومت اور آرمی کا زیادہ عمل دخل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بلوچستان کا داخلی امن و امان صوبائی معاملہ سمجھ کر محض صوبائی انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دینا چاہئے ۔ دہشت گردوں کی رسائی تو دُنیا کی واحد سپر پاور کی انٹیلی جنس ایجنسیوں تک چلی گئی ہے۔ آج کل بھارت، اسرائیل اور امریکہ اپنے اس عزم پر تلے ہوئے ہیں کہ سی پیک کو ناکام بنا کر ہی دم لینا ہے، اس کی تکمیل کی راہ میں روڑے نہیں، ٹیلے اور پہاڑ اٹکانے ہیں اور ہر وہ ایکشن کرنا ہے جو ناٹو، اسرائیل اور بھارت کی مشترکہ امیدوں،کاوشوں اور منصوبہ بندیوں کا نقیب ہو۔ اس لئے ضرورت ہے کہ بلوچستان میں صوبائی شعبوں کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں معمول کیSOPsسے باہر نکل کر کام کیا جائے۔ یہ چیلنج بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے، اس لئے مَیں نے عرض کیا ہے کہ بالفرض اگر مرکزی حکومت چین کے ساتھ سی پیک کی سیکیورٹی کے معاملات کے بارے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہ بھی کرے تو یہ بوجھ بھی( دوسرے کئی بوجھوں کی طرح) آرمی کو اُٹھانا چاہئے۔ پاکستان آرمی کے ٹاپ براس کو نہ صرف خفیہ اور اعلانیہ چین کا دورہ کرنا چاہئے بلکہ ان دوروں(Visits) کا ایک لگاتار سلسلہ قائم کرنا چاہئے جس میں چین کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کی زیادہ سے زیادہ انڈکشن بھی شامل ہو۔ جس طرح کابل و قندھار میں امریکہ نے 10ہزار سے زیادہ اپنے الیٹ ٹروپس خیمہ زن کر رکھے ہیں اسی طرح چین کی خیمہ زنی بھی درکار ہے۔چین کے سٹیک اگر اس سی پیک منصوبے سے پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہیں تو کیوں نہ اس کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوں۔۔۔۔ چین، ساؤتھ چائنا سمندر(Sea) میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو جس انداز سے چیک میٹ (Checkmate) کر رہا ہے،وہی انداز بلوچستان میں کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ آج بلوچستان اور بلوچستان سے باہر گلگت بلتستان اور پختونخوا میں اس راہداری کے انفراسٹرکچر کی تکمیل میں جو چینی ماہرین، کاریگر اور انجینئر کام کر رہے ہیں، ان کی حفاظت کے لئے اگرچہ پاکستان نے ایک ڈویژن سے زیادہ فورس لگا رکھی ہے لیکن اس امر کو بھی زیر غور رکھیں کہ یہ چینی ماہرین جب کوئٹہ اور دیگر بلوچ علاقوں میں اس قسم کے ہوسٹائل حملوں کی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں تو کیا ان کی پروفیشنل کارکردگی متاثر نہیں ہوتی؟ ان کا مورال ڈاؤن نہیں ہوتا؟ اور ان کے اندیشے دور دراز راہوں کی طرف نہیں نکل جاتے؟۔۔۔ اندریں حالات پاکستان اور چین کی مسلح افواج کو مل بیٹھ کر نہ صرف یہ کہ اس راہداری کے بنیادی منصوبوں کی تعمیر کو جلد اور یقینی بنانا چاہئے بلکہ اس تعمیر کے خلاف جو دیکھے یا اَن دیکھے خطرات جنم لے رہے ہیں، ان کی بیخ کنی بھی کرنی چاہئے۔

قارئین یہ نہ سمجھیں کہ مَیں یہ دلیل دے رہا ہوں کہ چین کو پاکستان کے اندرونی انتظامی معاملات میں بھی حصہ دار بنانا چاہئے۔۔۔۔ ہر گز ایسا نہیں۔۔۔۔ آپ نے کل خبروں میں پڑھا ہو گا کہ چین نے اس امر پر امریکہ سے احتجاج کیا ہے کہ بھارت میں امریکی سفیر نے دو روز پہلے ارونا چل پردیش کا دورہ کیوں کیا ہے؟ اورناچل پردیش کو بھارت اپنا علاقہ سمجھتا ہے جبکہ چین اسے ایک متنازعہ علاقہ تصور کرتا ہے۔ اس صوبے سے اوپر نکل جائیں تو چین نے تبت کے سارے علاقے میں تعمیر و ترقی کے ایسے ایسے عظیم منصوبے تشکیل دیئے ہیں جو حیرت انگیز ہیں،لیکن ساری مغربی دُنیا نے تبت کو ایک ’’متنازعہ علاقہ‘‘ ڈکلیئر کر رکھا ہے۔ دلائی لامہ برسوں سے بھارت میں مقیم ہیں،لیکن بھارت ذرا لداخ اور لیہ(Leh) سے تھوڑا شمال میں نکل کر تبت کا رُخ تو کرے، اُسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔۔۔۔ یہی کچھ چین نے ساؤتھ چائنا سمندر(Sea) میں بھی کر رکھا ہے۔ یہ موضوع بڑا طویل اور مبسوط ہے اس لئے مَیں اس پنڈورا باکس کو کھولنا نہیں چاہتا۔

یہ سمندر(South China Sea) امریکہ، ویت نام، بھارت اور فلپائن نے ایک عرصے سے متنازعہ بنایا ہوا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے(EEZ) میں چین کو نئے جزیرے بنانے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن چین کا جواب بڑا دو ٹوک اور بے باک ہے۔ یہ سمندر اُسی طرح چین کے لئے ضروری ہے جس طرح اگلے چند برسوں میں پاک چین اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ ضروری بن جائے گا۔ اس لئے چین کو چاہئے کہ وہ نہ صرف بلوچستان کے ’’روڈ اینڈ ریل نیٹ ورک‘‘ کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرے اور کروائے بلکہ اس کے ساتھ پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہیں اور اندرونِ بلوچستان جس طرح امریکہ، بھارت اور افغانستان اکٹھے مل کر پاکستان کے لئے ہر روز نئے سے نئے فتنے اُٹھا رہے ہیں، ان کی روک تھام کے لئے بھی ان فتنوں کو جارحانہ (Proactive) انداز میں کاؤنٹر بھی کرنا چاہیے۔

مزید : کالم