زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، سکندرحیات بوسن

زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، سکندرحیات بوسن

راولپنڈی(اے پی پی) وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیوٹی اینڈ ریسرچ سکند حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور موجودہ حکومت نے اس شعبے کی ترقی کے لئے متعدد زرعی منصوبے شروع کئے۔ ان خیالات کا اظہارانھوں نے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں کسان میلہ ا ور بائیو انرجی یونٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ جس کا انعقاد یونیورسٹی نے لوک سانجھ فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا تھا جس میں یوتھ سیشن، ٹیبلیو اور مختلف سٹالز بھی لگائے گئے ۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رائے نیاز احمد، سینیٹر نجمہ حمید ، فیکلٹی ممبران، طلباء اور کسانوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پرسٹالز کا دورہ کیا اور یونیورسٹی میں بائیو انرجی یونٹ ، لانگ ٹینس اور باسکٹ بال کورٹ کا بھی افتتاح کیا۔ ا وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی کے لئے بھرپور کام کر رہی ہے تا کہ کسانوں کی آمدن کو بہتر بنایا جا سکے، کسان پیکیج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، اس پیکج سے چھوٹے کسان بھرپور فائدہ حاصل کریں گے۔ بائیو انرجی یونٹ کے افتتاح کے موقع پر وفاقی وزیر نے سالڈ ویسٹ سے بائیو انرجی حاصل کرنے پریونیورسٹی انتظامیہ اور بالخصوص وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رائے نیاز احمد کی کاوشوں کی تعریف کی۔

اور کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی شعبہ بھی اس حوالے سے مدد کرے ۔اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کسان میلہ منعقد کرانے کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور کسانوں، صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون بڑھانے اور خوراک کی پیداوار بڑھانے کے لئے نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی تیکنیک کے استعمال پر زور دیا۔انہوں نے حکومت کے کسان پیکیج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے کسان بھر پور فائدہ اٹھائیں ۔ وفاقی وزیر کی موجودگی میں بارانی یونیورسٹی نے نیشنل یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، مچلز فارمز، لوک سانجھ فاؤنڈیشن اور اختر حمید خان میموریل ٹرسٹ کے ساتھ چار مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی کئے. اس موقع پرشہداء کوئٹہ کے لئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

مزید : کامرس