شہباز شریف عمران خان تنازعہ ۔۔۔ عدلیہ کیا کرے گی؟

شہباز شریف عمران خان تنازعہ ۔۔۔ عدلیہ کیا کرے گی؟
 شہباز شریف عمران خان تنازعہ ۔۔۔ عدلیہ کیا کرے گی؟

  

میرے نزدیک یہ سوال اہم نہیں ہے کہ عمران خان اور میاں شہباز شریف میں سے سچا کون ہے۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ کم ازکم میری زندگی میں تو سچ اور جھوٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر میاں شہباز شریف عدالت چلے بھی جائیں گے تو وہاں کم ازکم میری زندگی میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکے گا اور شاید یہی بات عمران خان کو معلوم ہے کہ اگر ان کا الزام ایک فیصد بھی جھوٹ ہے یااس میں سیاسی مبالغہ آرائی موجود ہے تب بھی نظام قانون کے تحت انہیں کوئی سزا نہیں دی جا سکے گی۔

اس سے قبل بلا شبہ عمران خان نے دھاندلی کے اپنے پراپیگنڈہ کے دوران سابق چیف جسٹس افتخار چودھری ، نجم سیٹھی اور دیگر کے خلاف ایک نہیں کئی الزامات لگائے۔ یہ الزامات تو انہوں نے ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ لگائے۔ متواتر اور مسلسل لگائے۔ ان الزامات کے بعد سابق چیف جسٹس افتخار چودھری اور نجم سیٹھی نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کئے ۔ یہ مقدمات آج بھی پاکستان کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ جہاں تک میری اطلاعات ہیں عمران خان ان مقدمات میں روایتی تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ان مقدمات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ میں کم ازکم سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے مقدمہ میں پیش رفت میں اس حوالہ سے خوش ہوں کہ انہیں تو احساس ہوا کہ ہمارا عدالتی نظام کس قدر انحطاط کا شکار ہے۔ کم از کم جب ان کے مقدمہ میں تاریخ پر تاریخ ڈالی جاتی ہو گی تو انہیں خود دی جانیوالی تاریخوں کے درد کا احساس ہوا ہوگا۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ اس ملک کے عدالتی نظام سے ایک سابق چیف جسٹس بھی انصاف لینے میں نا کام ہو گیا۔ اسی طرح ایک بہت بڑے صحافی ہونے کے باو جود نجم سیٹھی بھی اپنے مقدمہ میں کوئی خاص پیش رفت کروانے میں نا کام رہے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں حضرات کو ملک کے نامور اور بہترین وکلا کی خدمات بھی میسر ہیں۔ یہ مقدمات ملکی سطح پر اہمیت اور فوکس میں بھی رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہماری عدالتیں ان میں انصاف نہیں کر سکی ہیں۔

مجھے یاد ہے جب چودھری شجاعت حسین چند دن کے لئے وزیر اعظم بنے تو انہیں معلوم تھا کہ وہ صرف دو ماہ کے لئے وزیر اعظم بنے ہیں اور یہ وزارت عظمیٰ ان کے پاس ایک مہمان ہے۔اس موقع پر چودھری شجاعت حسین نے خود کہا کہ ان کے پاس وقت کم ہے اس لئے وہ کوئی ایک اچھا کام کرنا چاہتے ہیں، تا کہ کم از کم وہ ایک اچھا کام ان کی وجہ سے یاد رہے۔ اس موقع پر ان کے قریبی رفقاء نے انہیں بہت سے مشورہ دیے۔ لیکن آخر میں چودھری شجاعت حسین نے فیصلہ دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ایسا قانون بنا یا جائے کہ کوئی کسی پر جھوٹا الزام نہ لگا سکے اور انہوں نے ہتک عزت کے قانون میں فوجداری قانون کا اضافہ کیا۔ جس کے تحت جھوٹا الزام لگانے کی سزا سات سال تک مقرر کی گئی۔ ان مقدمات کو نبٹانے کے لئے نوے دن کی مدت بھی قانون میں مقرر کی گئی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک ملک کی کسی عدالت نے اس قانون کے تحت کوئی سزا نہیں سنائی۔

اس لئے میں شہباز شریف کو یہ مشورہ دینا بھی جائز نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ عمران خان کے خلاف صرف ہتک عزت کا دیوانی مقدمہ ہی دائر نہ کریں بلکہ فوجداری استغاثہ بھی دائر کریں تا کہ اگر میاں شہباز شریف خود کو سچا سمجھتے ہیں تو وہ عمران خان کو پاکستان کے قوانین کے تحت سات سال قید کی سزا بھی دلوا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دیوانی ہتک عزت کے مقدمات کی طرح یہ فوجداری استغاثہ بھی تاریخ پر تاریخ کا ہی شکار ہو جائے گا۔ اس ضمن میں گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں ماہر قانون دان فروغ نسیم اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے کہ پاکستان کی عدالتیں آج تک ہتک عزت کے کسی بھی مقدمہ میں ہرجانہ نہیں دلوا سکی ہیں۔

دوسری طرف عمران خان کو بھی یہ مشورہ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بھی اپنے الزمات کو لیکر عدالت میں جائیں کیونکہ وہ بھی یہی کہیں گے کہ عدالت میں لیجانے کا کیا فائدہ۔ عدالت میں تو دادا مقدمہ کرے تو پوتے کو بھی انصاف مشکل سے ہی ملتا ہے۔ اس لئے عمران خان بھی اس حد تک جائز ہیں کہ وہ پریس کانفرنس میں الزام نہ لگاتے تو کیا کرتے۔

دنیا بھر میں جمہوریت میں جھوٹے الزمات کو روکنے کے لئے ہتک عزت کے قوانین کو ہی موثر بنایا گیا ہے۔ اسی طرح میڈیا میں بھی جھوٹی خبروں کا راستہ روکنے کے لئے بھی ہتک عزت کے قوانین ہی موثر بنائے گئے ہیں۔ وہاں کی عدلیہ نے ان مقدمات کو خصوصی اہمیت دی ہے تا کہ جھوٹے الزام لگانے اور جھوٹی خبر شائع کرنے والے کو نہ صرف قرار واقعی سزا دی جائے بلکہ مثالی ہرجانہ بھی عائد کیا جا سکے۔ اسی طرح کرپشن کے مقدمات کا بھی سپیڈی ٹرائل کیا جا تا ہے، لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

میاں شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ وہ عدالت سے اپنے ہتک عزت کے مقدمہ کی روزانہ سماعت کی درخواست کریں گے۔ میاں شہباز شریف ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ ایسے مقدمات کی روزانہ سماعت ہو کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئے۔ لیکن ایک سوال اور بھی ہے کہ صرف شہباز شریف کے مقدمہ کی ہی روزانہ سماعت کیوں کی جائے۔ کسی غریب کے مقدمات کی روزانہ سماعت کیوں نہ کی جائے۔بہر حال اگر قانون کی حکمرانی قائم کرنی ہے تو عدلیہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی۔ جب تک عدلیہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرے گی تب تک اس قسم کے الزامات اور ان جوابی پریس کانفرنسوں سے عوام کنفیوژ ہوتے رہیں گے۔

مزید : کالم