’’ ایک دہشت گرد کی ڈائری‘‘

’’ ایک دہشت گرد کی ڈائری‘‘
 ’’ ایک دہشت گرد کی ڈائری‘‘

  

کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ٹی وی سکرین پر بیٹھی ہوئی ایک خاتون اینکر زور زور سے چیخ رہی تھی کہ پولیس ٹریننگ سکول کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی، دروازے پر بھی صرف ایک ہی گارڈ تھا جو سینکڑوں زیرتربیت کیڈٹس کی حفاظت کیسے کر سکتا تھا، اس اینکر کے دل کے درد میں اضافہ شاید آئی ایف بی کے ذریعے پینل پروڈیوسر بھی کر رہا ہو گا جو آواز کو مزید درد ناک اور اونچی کرنے کے لئے مسلسل کہہ رہا ہوگا، پھر اس نے یہ بھی پوچھا کہ جب ان کیڈٹس کی بڑی تعداداسلام آباد دھرنے کے لئے جا رہی تھی تو انہیں بغیر کوئی وجہ بتائے واپس کیوں بلایا گیا۔ یہ ظاہرکر نے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت گارڈذ نہیں تھے، دیوار ٹوٹی رکھی گئی تھی اور کیڈٹس کو واپس بلایا گیا تھا تاکہ انہیں قتل کروایا جا سکے، مجھے ایک دہشت گرد کے طور پربہت خوشی ہوئی کہ اگر ا س قو م کے سوچنے اور ردعمل ظاہر کرنے کا انداز یہی رہا تو اگلے سو برسوں میں بھی میرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتی، میرا راستہ نہیں روک سکتی۔

ہم نے علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے گلشن اقبال پارک میں بھی دہشت گردی کے حملے کے بعد سیکورٹی نہ ہونے کا واویلا سناتھا، یہ شور اس وقت بھی مچایا گیا جب واہگہ بارڈ ر پر خود کش بمبار نے حملہ کیا،معلوم ہوا کہ وہ توپرچم اتارنے کی مرکزی تقریب میں پہنچ ہی نہیں سکا تھا،میں ان حفاظتی تدابیر پر اس وقت بھی ہنسا تھا جب میرے خود کش حملہ آور نے ستر سے زائد لوگ آسانی کے ساتھ پارکنگ ایریا میں ہی مار ڈالے تھے۔میں سوچ رہا تھا کہ کیا کبھی کسی نے اس شہر بارے سنا ہے جس میں کوئی آدم خور شیر گھس گیا ہواور وہاں کی انتظامیہ خونخوار شیر کو قابو کرنے کی بجائے لوگوں کو اپنے گھروں کی دیواریں اونچی کر نے اوردروازوں پر بندوق بردار بٹھا نے کی ہدایات جار ی کر رہی ہو۔ ایسے چڑیا گھر کے بارے بھی کسی نے سنا ہے جس میں ایک لنگور ہمیشہ جنگلے سے باہر نکل کرلوگوں پر حملہ کر دیتا ہو ،وہاں کی انتظامیہ نہ تو لنگور کو زنجیر ڈالے اور نہ ہی جنگلے کا دروازہ بند رکھنے کا بندوبست کرے مگر لوگوں سے کہا جائے کہ وہ بچوں کو زرہ بکتر پہنا کر چڑیا گھر لائیں۔میں نے فیض احمد فیض کی نسخہ ہائے وفا اٹھائی اور اس شعر نے مجھے بہت لطف دیا، ’ ہے اہل دل کے لئے اب یہ نظم بست و کشاد، کہ سنگ وخشت مقید ہیں اور سگِ آزاد۔

یہ فارمولہ میرے حق میں ہے کہ سنگ و خشت مقید ہوں اور سگ آزاد ، وہ جسے چاہے کاٹتے پھریں۔ آپ بہت سیانے، آپ بہت عقل مند مگر اربو ں کھربوں روپے خرچ کر کے کئے جانے والے ان سیکورٹی اقدامات کو اپنی نظر سے دیکھتا ہوں تو ہنس دیتا ہوں۔ آپ اپنے جی او آر، اپنے کینٹ ، اپنے سیکرٹریٹ محفوظ بنا لیتے ہیں مگر اس وقت پنجاب میں 53ہزارسرکاری سکول ہیں اور پاکستان بھر میں ایک لاکھ سے زائد، آپ ان تمام سکولوں کو قلعے بنا دیتے ہیں، بلند و بالا فصیلیں تعمیر کردیتے ہیں،گارڈ کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ سنائپرز بھی بٹھا دیتے ہیں۔ مان لیتا ہوں کہ اب کوئی دہشت گردان میں داخل نہیں ہو سکتا توآپ اپنے ہسپتالوں کا کیا کریں گے۔ بڑے ہسپتالوں میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض آتے ہیں ، کیا ایک ایک کی تلاشی لی جانا ممکن ہے، چلیں آپ تلاشی لے لیتے ہیں اور دہشت گرد دروازے پر ہی پھٹ جاتا ہے تو آپ ایمبولینسوں کا کیا کریں گے جو سائرن بجاتی ہوئی ہارٹ اٹیک سمیت کسی بھی ایمرجنسی کے شکار مریض کو لاتی ہیں، ان کے اندر بارود چھپا دیا جائے اور گاڑی کو عین ہسپتال کے اندر لے جاکر پھاڑ دیا جائے۔ چلیں آپ بہت ہوشیار اور باصلاحیت ہیں لہذا آپ اپنے ٹیچنگ ہسپتالوں ہی نہیں ٹی ایچ کیوز اور بی ایچ کیوز کو بھی قلعے بنا لیتے ہیں اب کوئی مریض اور کوئی گاڑی چیکنگ کے بغیر اندر داخل نہیں ہوسکتی تو پھر آپ اپنے بازاروں کا کیا کریں گے جو ہر شہر اور ہر قصبے میں موجود ہیں۔ کیا آپ لاہور کی مون مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے کو بھول گئے ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ اپنے بازاروں کے باہر بھی سینکڑوں کی تعداد میں بیرئیر لگا دیتے ہیں، بازار جانے سے پہلے بھی اسی طرح سیکورٹی چیک ہو جس طرح آپ کے بہت سارے محفوظ رہائشی علاقوں میں داخلے کے موقعے پر ہوتا ہے تو اس کے بعد آپ اپنے پارکوں کا کیا کریں گے ، عین ممکن ہے کہ آپ اپنے ہر پارک کو بھی ایک قلعے کی صورت دے دیں، وہاں داخل ہونے والے بچوں کے پیمپرز تک چیک کئے جا رہے ہوں اور اس طرح آپ اپنے پارکوں کوبھی محفوظ بنا لیں۔ آپ اپنی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ محفوظ بنا لیتے ہیں مگر ان عدالتوں کا کیا کریں گے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ملزم اور مجرم ہی نہیں بلکہ سائل اورمظلوم بھی آتے ہیں، میں اس کے بعد لاری اڈوں کی طرف بڑھتا ہوں لیکن آپ لاری اڈوں کو بھی فول پروف سیکورٹی فراہم کر دیتے ہیں اور دہشت گرد اس کے بعد راستے میں مسافروں سے بھری ہوئی ایک بس میں سوار ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو پھاڑ لیتا ہے۔میرے پاس تو آپشن کے لئے وہ ملٹی نیشنل آوٹ لیٹس بھی موجود ہیں جہاں لوگ برگر، پیزا کھانے آتے ہیں، بیس، تیس یا پچاس تو میں وہاں بھی آسانی سے مار سکتا ہوں،کیا آپ اپنی شادی بیاہ اور ماتمی تقریبات بھی بندوقوں کے سائے اور فصیلوں کے حصار میں کروا سکتے ہیں جب مقصد صرف دہشت پھیلانا ہو تو کیا دہشت گرد کسی شادی کی تقریب میں نہیں پہنچ سکتا، جنازوں پر تو ہمارا ہاتھ پہلے ہی کھلا ہوا ہے ، ایسے ہی آپ کی مساجد ہیں، آپ کی امام بارگاہیں ہیں، آپ کے چرچ ہیں، آپ اس ملک میں کتنے قلعے بنا سکتے ہیں؟

میں آپ کو یہ کامن سینس کی بات کیوں بتاؤں کہ کسی محلے میں اگر گیس لیک ہو رہی ہو اور یہ خطرہ موجود ہو کہ کسی بھی وقت ایک تیلی سے پورے محلے میںآگ لگا ئی جاسکتی ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہوتا کہ آپ پورے محلے کو دیواریں ایسے میٹریل سے بنانے کا حکم جاری کر دیں جو آگ نہ پکڑے، ہر گھر میں آگ بجھانے والے آلات لگا دئیے جائیں، لوگوں کو کہا جائے کہ وہ ہروقت پانی سے بھری بالٹیاں پکڑ کر دروازوں پر تیار کھڑے ہوں، خواتین کو کہہ دیا جائے کہ وہ گھروں میں کھانا پکانا بند کر دیں ، مرد حقے سگریٹ چھوڑ دیں کہ اس کے لئے ماچس یا لائٹر کا استعمال ہوتا ہے۔ اصل حل یہ ہے کہ انتظامیہ اس سوراخ کو تلاش کرے جہاں سے گیس کی لیکج ہو رہی ہے،اس کمزور زنگ آلود پائپ کو تبدیل یامرمت کیا جائے یہ پائپ چاہے زمین کے اندر ہی کیوں نہ چھپا ہوا ہو۔دہشت گردی اسی وقت رک سکتی ہے جب دہشت گردی کے اصل سوتوں کو روکا جائے، جب تک آپ کے ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں گے تب تک آپ اپنے گھرمیں اور ہمسائے اپنے گھر میں صٖفائی نہیں رکھ سکیں گے، وہ آپ کے اور آپ ان کے گھر میں کوڑا پھینکتے ہی رہیں گے۔کیا اس کا حل یہ ہے کہ آپ دیواریں اونچی کر لیں،ہاں، بطور دہشت گرد سوچتا ہوں کہ یہ احتیاطی تدابیر ہمارے مقاصد کے حصول میں مشکلات ضرور پیدا کرسکتی ہیں لیکن اس سے دہشت گردی رک جائے، یہ ممکن نہیں ہے۔

میں نے ایک مولوی صاحب کو کہتے ہوئے سنا کہ اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا، میں نے سوچا، کتنے معصوم ہیں، یہ تو ممکن ہے کہ کوئی نمازی چور نہ ہو مگر کوئی چور نمازی کا روپ دھا ر لے، اس کا راستہ کیسے روک سکتے ہیں۔ مذہب والے دہشت گردی نہ کریں مگر دہشت گرد تو مذہب کو استعمال کر سکتے ہیں ۔ اصل ہماری ناکامی یہ نہیں کہ آپ کتنے بڑے قلعے میں چھپے بیٹھے ہیں، اصل ناکامی یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوں لہذا جب میں نے ٹی وی سکرین پر اس خاتون اینکر کوا پنے میک اپ سے لتھڑے چہرے کے ساتھ سیکورٹی نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے دیکھا جس کی ہدایات یقینی طور پر اسے ڈائریکٹر اور کنٹرولر نیوز کی صورت موجود سکرپٹ رائٹروں سے ہی ملی ہوں گی، اس کے سامنے پرامپٹر پر یہ فقرے موجود ہوں گے تو مجھے بہت حوصلہ ملا، میں اس قوم کے آئی کیو لیول بارے سوچ کر مسکرایا جو دہشت گردی کے درخت کی جڑ وں کی حفاظت کرتی ہے مگرشاخیں کتر کے سوچتی ہے کہ اب یہ پھل نہیں دے گا۔۔۔اور مجھے سکون بھری نیند آگئی۔

مزید : کالم