سانحہ کوئٹہ کے باعث شہر میں سیکویرٹی سخت ،تھانوں میں صورتحال ابتر

سانحہ کوئٹہ کے باعث شہر میں سیکویرٹی سخت ،تھانوں میں صورتحال ابتر

لاہور(وقائع نگار)کوئٹہ پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کے بعد شہر بھر میں پولیس کی جانب سے اہم شاہراہوں پر ناکے لگا کر سیکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے لیکن شہر بھر کے تھانوں میں سے بیشتر کی سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے ،کئی تھانوں کے دروازوں پر ایک پولیس اہلکار کے سوا کوئی سیکیورٹی کا انتظام نہیں ہے جبکہ کئی تھانوں کی چار دیواری بھی نہایت نیچی ہے جس کو آسانی سے کراس کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اہلکار خود بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔پاکستان سروے سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کے تھانوں کے اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر کے بیشتر تھانوں میں سیکیورٹی کی صورتحال ابتری کا شکار ہے ۔تھانہ مناواں ،شالیمار ،باغبانپورہ ،غازی آباد ،لیاقت آباد ،باٹا پور ،نولکھا سمیت بیشتر تھانوں کے گیٹوں پرصرف ایک پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہا ہے ۔پولیس ا ہلکاروں کے مطابق نفری کی کمی اس کی اصل وجہ ہے ۔دوسری جانب تھانہ شیراکوٹ ،لٹن روڈ ،باغبانپورہ ،نواں کوٹ اور لوئر مال کی چار دیواری کو لوہے کی آہنی باڑ اور بعض جگہوں پر اونچی دیوار بنا کر قدرے محفوظ بنایا گیا ہے ۔پولیس اہلکاروں کے مطابق بیشتر تھانوں کی سیکیورٹی کے لئے بنائی گئی چار دیواریاں نہایت نیچی ہیں ۔تھانہ ہیئر ،موچی گیٹ ،لوہاری گیٹ ،غازی آباد اور کئی ایسے تھانے ہیں جہاں دیوار کراس کر کے داخل ہونا نہایت آسان ہے ۔پولیس اہلکاروں کے مطابق تھانوں کی خاطر خواہ سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے ۔تھانہ نولکھا کے اہلکاروں کے مطابق تھانہ میں ترقیاتی کام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے تھانہ کو ٹریفک سیکٹر کی عمارت میں منتقل کیا گیا ہے ،کئی ماہ سے یہ کام جاری ہے اور ان کے پاس سیکیورٹی تو دور کی بات حوالات تک دستیاب نہیں ہیں ۔پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے ۔اگر عوام کے محافظ ہی عدم تحفظ کا شکار رہے تو وہ عوام کی حفاظت کیسے کریں گے۔

مزید : علاقائی