نگران عملہ اور بوٹی مافیا کا گٹھ جوڑ، پرچے کرانے کے ریٹ مقرر، امیدوار اور والدین پھٹ پڑے

نگران عملہ اور بوٹی مافیا کا گٹھ جوڑ، پرچے کرانے کے ریٹ مقرر، امیدوار اور ...

لاہور( سروے: لیاقت کھرل ،تصاویر علی رضا)لاہور بورڈ سے تقریبا آدھا کلو میٹر سے کم فاصلے پر لارنس روڈ پر واقع امتحانی مراکز میں نگران عملہ اور بوٹی مافیا کا راج، اندر کھاتے پرچہ حل کرنے کے ریٹ مقرر ،آخری اوقات میں نقل لگانے کے لئے پندرہ منٹ کی چھوٹ ‘ بورڈ انتظامیہ کے چھاپوں کے باوجود نگران عملہ اور نقل لگانے والے امیدواروں کے گٹھ جوڑ نے زور پکڑ لیا ۔’’ پاکستان‘‘ کے سروے میں اہل امیدواروں اور ان کے والدین نے شکایات کے انبار لگا دئیے اس موقع پر امیدواورں نوید احمد‘ اکبر عادل، نوید انجم ‘ رضا خان ‘ علیم بابر اور محمد فریاد نے بتایا کہ امتحانی مراکز میں نگران عملہ نے اپنا راج قائم کررکھا ہے پرچہ کے اوقات کے آخری پندرہ منٹ سوالات حل کرنے کے لئے دو سے تین ہزار روپے وصول کئے جاتے ہیں اور اس میں قابل اور اہل امیدواروں کو بھی تنگ کیا جاتا ہے اس موقع پر امیدوار قاسم ‘ محمد اسد ‘ مراد علی اور صادق علی بتایا کہ چیئر مین لاہور بورڈ نے پرچہ کے دوران چھاپہ مار ا اور ان کے جانے کے بعد بھی نقل کروائی گئی نگران عملہ نے اپنا راج قائم کررکھا ہے اور اس میں لاہور بورڈ کے سیکورٹی گارڈ اور عملہ کے بعض افراد بھی پیپر کے دوران مدد کرتے رہتے ہیں۔ امیدواورں کے والدین کا کہنا تھا کہ ایک طرف سخت نگرانی کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف لاہور بورڈ کے قریب اس اہم ترین امتحانی مراکز میں دو درجن سے زائد امتحانی سینٹرز ہیں وہاں پر بوٹی مافیا کا کنٹرول نہ ہونا سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ امتحانی مراکز کے ارد گرد سیکورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔اس کے علاوہ لارنس روڈ پر ٹریفک کنٹرول نہ ہونے سے ان کے بچے ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں جس کی بناء پر امتحانات کا آدھا وقت امتحانی مراکز کے سامنے ٹریفک میں گزر جاتا ہے ۔اس حوالے سے کنٹرولر امتحانات ناصر جمیل نے بتایا کہ امتحانی مراکز میں دو امیدواروں کو گزشتہ روز ہی پکڑا ہے نگرانی سخت اور بوٹی مافیا کے خلاف سخت ایکشن شروع کردیا گیا ہے نقل مافیا کے ساتھ نگران عملہ کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑا جارہا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1