وسطی افغانستان میں عسکریت پسندوں نے 33شہریوں کو اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا

وسطی افغانستان میں عسکریت پسندوں نے 33شہریوں کو اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا

کابل (اے پی پی) وسطی افغانستان میں عسکریت پسندوں نے 33شہریوں کو اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا ، افغان سکیورٹی فورسز نے مخلتف کاروائیوں میں 45عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں داعش کے 19ارکان بھی شامل ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق صوبہ غور کے صوبائی کونسل کے رکن نے بتایاکہ گزشتہ روز طالبان نے 23شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا ۔ ان شہریوں کو ضلع فیروز کوٹ کے نواحی علاقوں سے اغوا کیاگیا تھا ۔ بعض اطلاعات کے مطابق مرنیوالوں کی تعداد 33ہے ۔افغان حکام نے میڈیا کو بتایاکہ یہ کاروائی داعش کی ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔طالبان کی طرف سے ابھی تک اس بارے کوئی بیا ن سامنے نہیں آیا۔کابل میں افغان وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیاہے کہ مشرقی صوبہ ننگر ہار میں مختلف کاروائیوں کے دوران 45عسکریت پسند ہلاک ہو گئے جن میں داعش کے 19ارکان بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہاگیاہے کہ یہ کاروائیاں ضلع آچین اور پیشہ گرام کے علاقے میں کی گئی ۔ بیان میں کہاگیاہے کہ کابل کے قریب سروبی کے علاقے میں ایک کاروائی میں 11عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ۔

صوبہ پروان میں ایک جھڑپ میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے ، جھڑپ لغمانی کے علاقے میں ہوئی۔

مزید : عالمی منظر