شہباز شریف نے فرنٹ میں جاوید صادق کے ذریعے اربوں روپے کمیشن لی:چیئر مین تحریک انصاف ،عمران خان کو 26ارب 54کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج رہا ہوں :شہبا شریف

شہباز شریف نے فرنٹ میں جاوید صادق کے ذریعے اربوں روپے کمیشن لی:چیئر مین تحریک ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) پر کرپشن کے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈین شہری جاوید صادق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے فرنٹ مین ہیں ٗ4 منصوبوں میں 26 ارب 54 کروڑ کی کرپشن ہوئی اور نیو اسلام آباد کا کنٹریکٹ بھی جاوید صادق کو ہی ملا ہے ٗ دو نومبر سے قبل مزید انکشافات کرینگے ٗ جب 10 لاکھ لوگ جب اسلام آباد میں آجائیں گے تو لاک ڈاؤن تو خود بخود ہوجائے گا ٗسب سے پہلے آزاد عدلیہ کیلئے جدوجہد کی ٗ کرپشن کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے ٗ طاقتور کو قانون کے تحت لانا ہو گا ٗخورشید شاہ ڈبل شاہ ہیں۔بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ جاوید صادق اب تک 15 ارب روپے کمیشن وصول کرچکے ہیں اور پنجاب حکومت کی ہر ڈیل کے پیچھے یہ صاحب ہوتے ہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید الزام عائد کیا کہ 4 منصوبوں میں 26 ارب 54 کروڑ کی کرپشن ہوئی اور نیو اسلام آباد کا کنٹریکٹ بھی جاوید صادق کو ہی ملا ہے۔عمران خان نے کہاکہ دو نومبر کے دھرنے سے قبل وہ جاوید صادق کے حوالے سے مزید انکشافات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ حکمران سمجھتے ہیں کہ کرپشن قانونی اور احتجاج غیر قانونی ہے ٗاگر پرامن احتجاج روکنے کے لیے پکڑ دھکڑ کی گئی تو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ساتھ ہی عمران خان نے کہا کہ جب 10 لاکھ لوگ جب اسلام آباد میں آجائیں گے تو لاک ڈاؤن تو خود بخود ہوجائے گا۔قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم سے لے کرپٹواری تک سب قانون کے تحت ہیں تاہم ملک میں جمہوریت نہیں بادشاہت قائم ہے، وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں سب کے سامنے جھوٹ بولا اور کہا کہ خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں، نواز شریف کہتے ہیں کہ فلیٹ2005میں لئیاور کلثوم نوازکہتی ہیں کہ 90ء کی دہائی میں فلیٹ لیے ٗ حسین نواز نے سب کیسامنے کہا کہ یہ مریم کی کمپنیز ہیں۔ انہوں نے کہا 4 حلقے اس لیے نہیں کھولے جارہے تھے کیونکہ دھاندلی ہوئی تھی جس کا نواز شریف نے ہری پور میں جلسے کے دوران تسلیم کیا اور الیکشن میں جو جیتا اس نے اور جو ہارا اس نے دھاندلی کاکہا ٗ جوڈیشل کمیشن نیالیکشن کمیشن کے خلاف نوٹس دیے اور 40 کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔سربراہ تحریک انصاف نے کہاکہ نواز شریف پر نیب میں 14 کیسز ہیں لہذا اگر نیب اور ایف بی آر اگر ٹھیک ہوں گے تو سب ٹھیک ہو گا تاہم نوازشریف اور خورشید شاہ نے مل کر نیب کا سربراہ مقررکیا۔عمران خان نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو ڈبل شاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ اورنواز شریف کے خلاف نیب میں کیسز ہیں لہذا خورشید شاہ کیسے نیب کے سربراہ کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں الیکشن ہوتے ہیں تاہم جمہوریت نہیں آتی لہذا دھرنا صاف اور شفاف الیکشن کیلئے دیا تیسری دنیا میں کونسا ڈکٹیٹر ہے جو الیکشن نہیں کرواتا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم پر کرپٹ مافیا اور چور بیٹھے ہیں،20 سال سے جدو جہد کررہاہوں سب سے لڑائی نہ لڑوں تو کیا کروں لہذا 2 نومبر کو کسی پارٹی کی تحریک نہیں پورے ملک کی تحریک ہے اور اس دن کرپٹ الیون سے میچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور احتساب ایک ہی چیز ہے ٗجمہوریت میں پرامن احتجاج ہرکسی کاحق ہے اور ہم جمہوریت ڈی ریل کیے بغیر احتساب چاہتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے، 8 سے 10 لاکھ روپے میں ہوتا ہے تاہم شوکت خانم میں 75 فیصد مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے اور شوکت خانم ہسپتال 4 سو کروڑ روپے خسارہ کرتا ہے ٗ کے پی کے کی 60 فیصد آبادی کو ہیلتھ انشورنس پر لے آئے۔انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے آزاد عدلیہ کیلئے جدوجہد کی ٗ کرپشن کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے ، طاقتور کو قانون کے تحت لانا ہو گا جب وزیر اعظم کرپشن کرتا ہے تو ملک اور اداروں کو تباہ کرتا ہے مگر حکومت دھاندلی کی تحقیقات کیلئے تیار نہیں تاہم کرپشن میں حکومت کو ہر صورت جوا ب دینا ہو گا ۔ حکومت اپنی کرپشن بچانے کیلئے کام کر رہی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ، ملک چلانے کیلئے قرضے لے لے کر ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے ٗ تمام دروازوں پر گئے مگر انصاف نہیں ملا عمران خان نے کہا کہ جب مشر ف نے مجھے 8دن کیلئے جیل بھیجا تو وہاں کو ئی امیر آدمی قید نہیں تھا بلکہ سارے غریب تھے ٗحکمران پیسہ لوٹ کر باہر لے جا رہے ہیں مگر حکومتی وزیر کہتا ہے کہ عوام کرپشن کو بھول جائیگی ۔’’ جب بھی تقریر کرتا ہوں تو جلسے میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے شروع ہو جاتے ہیں‘‘ ۔ دو نومبر کو نواز شریف ، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحما ن کی کرپٹ الیون سے میچ ہو گا ۔

عمران خان

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے مجھ پر کرپشن کے انتہائی گھٹیا، بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگا کر جھوٹ اور دروغ گوئی کی انتہا کر دی ہے اور میں عمران خان پر 26 ارب 54 کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعوی دائر کر رہا ہوں اور عدالت سے رجوع کر رہا ہوں۔ میرے حق میں فیصلہ ہوا تو یہ رقم پاکستان کے عوام کے حوالے کردوں گااوریہ رقم پاکستانی قوم کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گی۔اگر الزام لگانے والے کے خلاف فیصلہ ہوا توان کیلئے یہ رقم کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ وہ قوم کے اربوں روپے کے قرضے ہڑپ کرنے والے امیر ترین شخص سے یہ رقم لے لیں گے۔اگر فیصلہ میرے خلاف آیا تو میں اور میرے بچے ہمیشہ کیلئے سیاست کو خیر باد کہہ دیں گے اور اگر فیصلہ ان جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف آیا تو پھر اس کا فیصلہ قوم خود کرے گی ۔ میری عدالت سے استدعا ہو گی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت کرے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ میرے تینوں ادوار حکومت اگر حکومتی امور نمٹا نے کے حوالے سے قیامت تک بھی ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو میں 20 کروڑ عوام کا مجرم ہوں گا۔ خان صاحب بے بنیاد الزامات لگا کر قوم کو کنفیوز کر کے لوگوں کے دماغ میں وسوسے پیدا کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ نہ جانے آپ نے ایسی لیڈری کہاں سے سیکھی ہے ۔ جاوید صادق میرا فرنٹ مین نہیں ہے اور اگر اس حوالے سے آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں لیکن میں ثبوتوں کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کے ایک طرف غریب قوم کے اربوں روپے کے قرضے ہڑپ کر کے امیر ترین بننے والا شخص جبکہ دوسری طرف بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی زمینوں پر قبضے کر کے ارب پتی بننے والا شخص کھڑا ہے ۔ پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور وزیر اعظم محمد نواز شریف نے قانونی و تکنیکی امور کا سہارا لئے بغیر مقدمے کا سامنا کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے باوجود 2 نومبر کو اسلام آباد یا پاکستان بند کرنے کی باتوں کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ درحقیقت اسلام آباد کو بند کرنا ان عناصر کی 20 کروڑ عوام کی خوشحالی کے دروازے کو بند کرنے کی ناپاک سازش ہے ۔ انشاء اللہ پاکستان کے باشعور عوام ان کا خود محاسبہ کریں گے اور ان کے ناپاک عزائم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔ وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار عمران خان کی جانب سے ان پر لگائے گئے کرپشن کے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی پر بے بنیاد اور گھٹیا الزامات عائد کرے۔ اسی رہنما نے میٹروبس کو جنگلا بس کہتے ہوئے اس پر 75 ارب روپے لاگت آنے اور اس منصوبے میں اتفاق فاؤنڈریز کا سریا استعمال کرنے کا بھی جھوٹا الزام عائد کیا۔ حالانکہ اتفاق فاؤنڈری کو بند ہوئے 15 سال ہو چکے ہیں ۔ جب ان عناصر کو اپنے الزامات ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہ ملا تو شرمندگی سے خاموشی اختیار کر لی ۔ انہوں نے کہا کہ یہی عناصر اب 2 نومبر کو پاکستان کو بند کرانے کی انتہائی ناپاک سازش بنا چکے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام آباد کو نہیں دراصل پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے راستے بند کرنا چاہتے ہیں ۔ سی پیک کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو ملنے والے روزگار کے مواقع ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ 2014ء کے دھرنوں میں ان کی اسی سوچ نے پاک چین دوستی کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ 2014ء میں چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہوا اور جو پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے معاہدے ہونے تھے وہ تاخیر کا شکار ہوئے۔ جون 2014ء سے اپریل 2015ء تک ان دھرنوں کے باعث پاکستان کو بدترین معاشی اور سیاسی حالات سے گزرنا پڑا۔ اب وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں سی پیک کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے او رچینی زعما ترقیاتی منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام کو پنجاب سپیڈ کہہ رہے ہیں تو انہیں تکلیف ہو رہی ہے ۔ سی پیک کی مخالفت میں یہ لوگ نریندر مودی کی مخالفت سے بھی آگے نکل چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ ایک آزاد ادارہ ہے اور ان کے سروے میں ترقی اور گورننس کے لحاظ سے پنجاب پاکستان کے تمام صوبوں سے آگے ہے۔ پاکستان کی 67 فیصد عوام نے سروے میں پنجاب حکومت کے کام کی ستائش کی ہے جبکہ 38 فیصد لوگوں نے کے پی کے کے حق میں رائے دی ہے ۔ انہیں اس بات کا بھی بہت غصہ اور تکلیف ہے اور یہی وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر خان صاحب بدترین جھوٹ اور دروغ گوئی پر اتر آئے ہیں اور انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے جاوید صادق کو میرا فرنٹ مین قرار دیا ہے ۔ میں 20 کروڑ عوام کو گواہ بنا کر اللہ تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ پر قیامت تک ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو مجھے کبھی معاف نہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ میں چینی کمپنیوں کے نمائندوں ، مشرق وسطی ، یورپ اور دنیا بھر کی کمپنیوں کے نمائندوں سے دن رات ملتا ہوں اور انہیں صرف اس لئے کھانے کھلاتا ہوں تا کہ پاکستان کے خزانے کو بھر سکوں اور پاکستان کے مسائل حل کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ 3600 میگا واٹ کے گیس پاور کے منصوبوں میں قوم کے 112 ارب روپے بچائے گئے ۔اورنج لائن کے منصوبے میں 75 ارب روپے جبکہ سیف سٹی پراجیکٹ کے منصوبے میں چار ارب روپے بچائے گئے ہیں ۔ ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت ملک کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں عدالت عالیہ نے تین سو صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کرپشن کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا حالانکہ مخالفین جن میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے نے منصوبے کے بارے میں اربوں روپے کی ڈاکہ زنی کے الزامات لگائے۔ عدالت عالیہ کے فیصلے کا بے پناہ احترام ہے مگر کاش وہ قوم کو یہ بھی بتا دیتی کہ اس منصوبے میں75 ارب روپے بچائے گئے ہیں اورایسا واقعہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سیف سٹی پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ اسلام آباد کے منصوبے سے چار گنا بڑا ہے ۔ اسلام آباد کا منصوبہ چھ سال پہلے لگایا گیا تھا اور لاہور سیف سٹی پراجیکٹ اب لگایا گیا ہے جس کی قیمت آج بھی کم ہے ۔ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کا منصوبہ چھ سال قبل 126 ملین ڈالر میں لگا تھا جبکہ لاہور سیف سٹی پراجیکٹ 120 ملین ڈالر میں لگا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جاوید صاد ق میرے جاننے والے ضرور ہیں لیکن وہ میرے فرنٹ مین کسی طور پر بھی نہیں وہ چین کی کمپنی کے نمائندے ہیں ۔ ارفع کریم ٹاور پراجیکٹ کے منصوبے کا ٹھیکہ سابق وزیر اعلی پرویز الہی کے دور میں چائنہ کنسٹریکشن کمپنی کو دیا تھا اور ہم نے اس منصوبے کو مکمل کیا ہے ۔ اسلام آباد ائر پورٹ کے منصوبے کا معاملہ وفاق کا ہے اور اس کا ٹھیکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے بہاولپور میں سولر پاور پاور پراجیکٹ کا منصوبہ لگایا ۔ منصوبے کی ٹینڈرنگ میں جاوید صادق کی چینی کمپنی نے حصہ لیا اور کمپنی کی بڈنگ مسترد ہوئی۔ اگر جاوید صادق میرے فرنٹ مین تھے تو ان کی کمپنیوں کو اس منصوبے کا ٹھیکہ ملنا چاہیے تھا۔ اسی طرح سیف سٹی پراجیکٹ کے ٹینڈرنگ کے عمل میں بھی جاوید صادق کی کمپنی نے حصہ لیا لیکن اس منصوبے میں بھی ان کی بڈنگ مسترد ہوئی اور اس منصوبے کا ٹھیکہ چین کی ایک اور کمپنی ہواوے کو ملا ۔ تیسری مثال لاہور رنگ روڈ کی ہے اورمنصوبے میں بھی جاوید صادق کی کمپنی چائنہ کنسٹریکشن کی بڈنگ مسترد ہوئی اور اس کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو او کو ملا ۔ان حقائق سے واضح ہو جاتا ہے کہ جاوید صادق کسی طور پر بھی میرے فرنٹ مین نہیں اور اس حوالے سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ، جھوٹے اور من گھڑت ہیں ۔ خان صاحب آپ کاغذ لہرا کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں اگر آپ کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں لیکن میں بلا خوف و تردید کہتا ہوں کہ خان صاحب آپ کے ساتھ ایسا امیرترین شخص کھڑا ہے جس نے اربوں روپے کے قرضے معاف کروائے اور دوسری طرف قبضہ گروپ کا سرغنہ ہے جس نے غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کی زمینوں پر قبضے کئے۔ یہ لوگ آپ کے فرنٹ مین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں ۔ اگر ان میں ہمت ہوتی تو یہ الیکشن میں مقابلہ کرتے ۔ یہ بیلٹ نہیں چاہتے یہ صرف پاکستان کو بند کرنا چاہتے ہیں لیکن 20 کروڑ عوام انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ وزیر اعلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے پہلے کبھی نہیں کہا کہ عدالت جاؤں گا ۔ میں پہلی مرتبہ کہہ رہا ہوں تو انشاء اللہ عدالت ضرور جاؤں گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف سٹیٹ بنک اور نیب کو نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ قرضے معاف کرا کے امیر ترین آدمی نے غریب ترین قوم کی محنت کی کمائی پر ہاتھ صاف کئے۔ آج وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے تین کروڑ روپے ٹیکس دیا ہے ۔ اگر پچاس کروڑ روپے کے قرضے معاف کرا کے تین کروڑ روپے کا ٹیکس دے دیا جائے تو یہ عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے مقدمات درج ہیں لیکن کوئی ایسا میکانزم ہونا چاہیے کہ کوئی سیاسی انتقام کا بہانہ نہ بنا سکے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں آج اسلام آباد سے آیا ہوں اور وہاں وزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ تھی ۔ خبر لیکس کے حوالے سے جو بھی ذمہ دار ہوگا سامنے آئے گا ۔ یہ کوئی مذاق نہیں 20 کروڑ عوام کا ملک ہے اور اس کے تقاضے ہیں ان کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ پنجاب میں ایک ایک پائی امانت ، دیانت سمجھ کر عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کی جا رہی ہے ۔ کرپشن کا الزام لگانے والے آج تک جنگلا بس پر 75 ارب روپے صرف ہونے اور اس منصوبے میں اتفاق کا سریا استعمال کرنے کا ثبوت نہیں دے سکے ۔ لیکن میں ثبوت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ امیر ترین شخص نے غریب قوم کے اربوں روپے ہڑپ کئے اور قبضہ گروپ نے اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ معاملہ عدالت میں وہی اس کا فیصلہ کرے گی۔ میں عمران خان کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر عدالت جا رہا ہوں اور انہیں 26 ارب 54 روڑ روپے کے ہرجانے کا دعوی دائر کر رہا ہوں۔ وزیر اعلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین نے 46 ارب ڈالر کے منصوبے پاکستان کے حوالے کر کے دریا دلی کا ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر یہ وسائل پاکستان کے حوالے کئے ہیں ۔ اس کا انکار کفرانے نعمت ہے اور ملک کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے ۔ پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ وہ سربسجود ہو کر پاکستان کی خیر اور ترقی کے لئے دعاکریں ۔

شہباز شریف

مزید : صفحہ اول