’’اے مومنو! اللہ سے ڈرو اور سچی اورکھری بات کیا کرو‘‘

’’اے مومنو! اللہ سے ڈرو اور سچی اورکھری بات کیا کرو‘‘

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی جانب سے جاوید صادق کو ان کا فرنٹ مین قرار دیئے جانے کے بارے میں انتہائی گھٹیا‘ بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کا مدلل انداز میں جامع جواب دیا۔ وزیراعلیٰ پوری پریس کانفرنس کے دوران انتہائی پراعتماد دکھائی دیئے اور انہوں نے میڈیا کے سوالات کے جواب بھی دلیل اور منطق کے ساتھ دیئے ۔ وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کے آغاز میں قرآن پاک کی آیت کی تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے ’’اے مومنو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچی اور کھری بات کیا کرو۔‘‘ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج میری تمام باتیں قرآن پاک کی اس آیت کے تابع ہیں۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کی دروغ گوئی اور بے بنیاد الزامات کو جھوٹ ثابت کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب نے اس سے قبل بھی انتہائی گھٹیا الزامات لگائے ہیں۔ خصوصاً میٹروبس پراجیکٹ کو 70ارب روپے کا منصوبہ قرار دے کر قوم کے سامنے جھوٹ بولا۔ لیکن یہ الزام کبھی ثابت نہیں کر سکے۔ وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھیوں کا نام لئے بغیر ان کے خلاف مختلف کیسوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ نیازی صاحب کے ایک طرف وہ ’’امیرترین‘‘ شخص ہے جس نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے اور غریب ترین قوم کے وسائل لوٹے۔ جبکہ دوسری جانب وہ شخص ہے جس نے یتیموں‘ بیواؤں اور بے سہارا افراد کی زمینوں پر قبضے کئے۔ یہ امیرترین شخص غریب ترین قوم کے اربوں روپے ہضم کر گیا ہے اور دعویٰ کرتا ہے ‘ میں نے 3کروڑ روپے کا ٹیکس دیا ہے۔ جہاں آپ 50کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائیں گے تو 3کروڑ روپے ٹیکس دیتے ہوئے آپ کو کیا تکلیف ہو گی؟ وزیراعلیٰ نے 2نومبر کے اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کوپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف ناپاک سازش قرار دیا اور کہا کہ ان لوگوں کا ایجنڈا سی پیک اور ترقیاتی منصوبوں کو بند کرانا ہے۔

مزید : صفحہ اول