موجودہ صورتحال سے سسٹم کو خطرہ ہو سکتا ہے ،عمران خان کا رکنوں کو آخری حد تک نہ لے کر جائیں :خورشید شاہ

موجودہ صورتحال سے سسٹم کو خطرہ ہو سکتا ہے ،عمران خان کا رکنوں کو آخری حد تک ...

حیدرآباد(اے این این ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ سیاست میں احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے لیکن موجودہ صورتحال سے سسٹم کو خطرہ ہوسکتا ہے، ہم نے ملک میں اتار چڑھاؤ دیکھا ، عمران خان نے توابھی تک کچھ نہیں دیکھا تحریک کو کامیاب کرنے کیلئے سب سے پہلے لیڈروں کو قربانیاں دینا پرتی ہیں ۔حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ سیاست میں سب کو احتجاج کا حق ہے لیکن احتجاج ایسی صورت اختیار نہ کرے جس سے جانوں کو نقصان پہنچے اس لیے عمران خان بھی کارکنوں کو آخری حد تک نہ لے کر جائیں کیونکہ کارکنان کا تحفظ بھی ان کی ذمہ دری ہے جب کہ حکومت بھی احتجاج میں تشدد کا ماحول نہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک سنگین حالات سے گزر رہا ہے اور تحریک انصاف کے 2 نومبر کے دھرنے سے سسٹم کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 3 ڈکٹیٹروں سے جنگ لڑی، لیڈرز نے اپنی جان دی اور کوڑے کھائے لیکن کارکنوں کا نقصان نہیں ہونے دیا جبکہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ پر یقین رکھتی ہے لہذا مسائل پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کی سوچ اورخیالات سے بہت آگے ہوں اور الزامات لگتے رہتے ہیں، عمران پر بھی الزامات لگے ہیں جبکہ میرے خلاف آج تک کوئی ثابت نہیں ہوا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم نے ملک میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے عمران خان نے ابھی تک کچھ نہیں دیکھا ہم نے کوڑے قید اور پھانسیاں دیکھی ہیں، تحریک کو کامیاب کرنے کیلئے سب سے پہلے لیڈروں کو قربانیاں دینا پرتی ہیں۔

خورشید شاہ

اسلام آباد(اے این این) سینٹ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لہجہ تھوڑا نرم رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت اپوزیشن قائدین پر تنقید کیلئے مناسب نہیں،حکومت پانامہ سے متعلق ہمارا بل منظور کر لے تو تمام پریشانیاں ختم ہو سکتی ہیں ،ضرورت پڑی تو متحدہ اپوزیشن کا اجلاس طلب کیا جائے گا،عمران، قادری اور حکومت کی کیا کشمکش ہوتی ہے، اس پر بات نہیں کروں گا،سب کو پتا ہے حکومت کو کب ہماری یاد آتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے احتساب کے حوالے سے ہمارے مطالبات واضح اور بنیادی ہیں، 16اکتوبر کو بلاول بھٹو نے 4مطالبات پیش کئے حکومت ان کو مانے،ہمارابنیادی مطالبہ اپوزیشن کا پاناما بل ہے، اس بل کو منظور کیا جائے۔ حکومت بل پاس کرلے تو تمام پریشانیاں ختم ہوسکتی ہیں۔عمران خان بھی اپوزیشن کے ٹی او آرز مناننے کی بات کرتے ہیں ۔انھوں نے کہا حکومتی ٹیم کے ساتھ گہری بات نہیں ہوئی، 4مطالبات سامنے رکھے ہیں جو بات ہوگی ان پر ہوگی ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ عمران خان لہجہ تھوڑا نرم رکھیں ،یہ مرحلہ اپوزیشن کے قائدین کے خلاف بولنے کا نہیں ہے ۔اس کا انھیں احساس ہونا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ عمران، قادری اور حکومت کی کیا کشمکش ہوتی ہے، اس پر بات نہیں کروں گا۔اگرضرورت پڑی تو متحدہ اپوزیشن کا اجلاس بلائیں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعاون مانگنا حکومت کی مجبوری ہے،سب کو پتا ہے حکومت کو کب ہماری یاد آتی ہے،حکومت کو صرف اور صرف مشکل میں ہی اپوزیشن کی یاد ستاتی ہے ۔

مزید : صفحہ اول