شریف فیملی کاکوئی فرد میرے ساتھ شراکت دار نہیں :جاوید صادق

شریف فیملی کاکوئی فرد میرے ساتھ شراکت دار نہیں :جاوید صادق

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے فرنٹ مین قرار دئے جانے والے جاوید صادق نے عمران خان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کردی اور کہا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے پہلی بار 2008 میں ملے تھے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید صادق کا کہنا تھا کہ شہباز شریف 2008 میں وزیر اعلیٰ بنے تو پہلی بار ان سے ملاقات ہوئی۔ میں چائنا سٹیٹ کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن کا ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر ہوں جو کہ دنیا کی بڑی کنسٹرکشن کمپنیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ شریف فیملی کا کوئی بھی شخص میرے ساتھ شراکت دار نہیں ہے اور میرے تعلقات کا یہ عالم ہے کہ میں نے ن لیگ کے دور حکومت میں جتنے بھی پراجیکٹ لینے کی کوشش کی میاں شہباز شریف نے میری بولی کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ارفع کریم ٹاور کا ٹھیکہ ہمیں پرویز الہٰی کے دور میں ملا تھا جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبے میں بھی ہم شامل ہیں لیکن اس منصوبے میں پنجاب حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ یہ وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے ۔ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر کا ہمارا معاہدہ چینی اور پاکستانی وزیر اعظم کی موجودگی میں سائن ہوا تھا۔ جاوید صادق نے بتایا کہ قائد اعظم سولر پاور پلانٹ منصوبے میں ہمیں صرف 300 میگاواٹ کا ٹھیکہ ملا جس کے بعد ہم اسلام آباد ہائی کورٹ گئے اور وہاں سے اپنے حق میں فیصلہ لیا جس کے بعد ہمیں 900 میگاواٹ کا منصوبہ ملا۔ سولر منصوبے میں ہم نے ابھی تک صرف 300 میگاواٹ کا کام کیا ہے جبکہ باقی کا 600 میگاواٹ ہمیں ابھی تک ملا ہی نہیں ہے بلکہ ہم تاحال کیس لڑ رہے ہیں ،قائد اعظم سولر پاور پلانٹ ابھی تک مکمل ہوا ہی نہیں ہے ۔

مزید : صفحہ اول