ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی چھان بین شروع ،آغاز اہم رہنماؤں سے ہو گا :الیکشن کمیشن

ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی چھان بین شروع ،آغاز اہم رہنماؤں سے ہو گا :الیکشن ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،اے این این) الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی چھان بین کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانچ پڑتال کا آغاز اہم سیاسی رہنماؤں سے ہو گا،گوشواروں کی جانچ پڑتال میں ایف بی آر،سٹیٹ بنک اور دیگر اداروں سے انکوائری ہوگی،بعض حلقے اور جماعتیں الیکشن کمیشن کو آزاد و خود مختار نہیں دیکھنا چاہتے جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں اہم مشاورتی اجلاس میں 16جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی،اجلاس میں اگلے الیکشن میں جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی کی تجویز کو سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ،ہر حلقے میں ایک جلسے پر اتفاق کیا گیا،مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کی تشکیل،پینا فلیکس اور بینرز پر پابندی پر اتفاق،سیاسی جماعتوں کا الیکشن کمیشن کو خود مختار بنانے کا عزم،17شقوں کی خلاف ورزی قابل سزا قرار۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار محمد رضا خان کی صدارت میں ضابطہ اخلاق سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی جماعتوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم کسی جماعت کے سربراہ نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کی طرف سے انوشہ رحمان، عبدالقادر بلوچ، طارق فضل چوہدری، پیپلزپارٹی کی جانب سے نیئر بخاری، لطیف کھوسہ، فیصل کریم کنڈی اور پی ٹی آئی کے عارف علوی، ایم کیو ایم سے سینیٹر محمد علی سیف اور سینیٹر عتیق، جماعت اسلامی سے صاحبزادہ یعقوب، شیر اکبر خان اور عائشہ سید سمیت 16پارلیمانی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں 2018کے عام انتخابات کیلئے مجوزہ ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا گیا جس کی 17 شقوں کی خلاف ورزی کو قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عام انتخابات میں جلسے جلوسوں، کار ریلیوں، اشتہارات، بینرز، پوسٹرز، ہورڈنگز اور لاڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی، سیاسی جماعتیں، امیدوار اور ان کے حمایتی دہشت گردی کی مذمت کرنے کے علاوہ ایسا کوئی بیان نہیں دیں گے جس سے نظریہ پاکستان، عدلیہ کی آزادی و خودمختاری اور افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچے۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار خواتین کے انتخابی عمل میں شمولیت پر زور دیں گے اور انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنے کے معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے جب کہ پیمرا تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں وقت فراہم کرنے کو یقینی بنائے گا۔ الزامات یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے اجتناب کرنے سمیت مخالف امیدوار اور جماعت کی ذاتی زندگی پر تنقید سے بھی گریز کیا جائے گا۔مجوزہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ انتخابی حلقوں میں صدر، وزیراعظم اور وزرا کے دوروں اور ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات پر پابندی ہوگی تاہم رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہوگی۔ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نہ صرف الیکشن کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے و الے امیدواروں کو نااہل کردیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب میں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے کہا کہ کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، صاف شفاف منصفانہ الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے کوشاں ہے جب کہ ملک میں شفاف انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سمیت میڈیا کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔سردار رضا خان نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو منصفانہ انتخابات کے لیے تمام اختیارات دیتا ہے، کوئی شک نہیں الیکشن میں سیاسی جماعتیں اور امیدوار دولت کا بیدریغ استعمال کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے انتخابات میں اسلحے کی نمائش اور پیسے کے بے دریغ استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے تمام امور کا ذمے دار قرار دیا لہذا مجوزہ انتخابی ضابطہ اخلاق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہی تیار کیا گیا ہے۔ جلسے جلوسوں پر پابندی سے پر امن الیکشن کا انعقاد ممکن ہے جب کہ الیکشن کے دوران پیسے سمیت اسلحہ کا بے دریغ استعمال بھی روکا جائے گا۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں سیکرٹری الیکشن کمیشن فتح محمد یعقوب بابرنے کہاکہ الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے جمع کرائے گئے گوشواروں اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں ایف بی آر، اسٹیٹ بنک اور دیگر اداروں سے معلومات لی جائے گی اور انکوائری کی جائے گی۔ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی چھان بین کی ابتداء سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں سے ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس میں سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی خودمختاری پر اتفاق کیا ہے ، بعض حلقے اور جماعتیں الیکشن کمیشن کو آزاد اور خودمختار نہیں دیکھنا چاہتیں۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن انتخابی اخراجات کم کرکے عام آدمی کی دسترس میں لانا چاہتا ہے ۔ آج کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے پینافلیکس اور بینرز پرپابندی سے اتفاق کیا ہے ۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر بھی بات ہوئی ہے۔ ٹرانسپورٹ سے متعلق ضابطہ اخلاق میں سندھ اور بلوچستان کو مد نظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں نے الیکشن کے دوران جلسے ، جلوسوں پر مکمل پابندی لگانے پر اعتراض کیا ہے اور ہر حلقے میں ایک جلسے کی تجویز دی ہے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں سے تحریری تجاویز مانگی ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کو بڑی سیاسی جماعتوں کی میڈیا مہم پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں پر اتفاق کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں کی جائیں۔سیاسی جماعتیں کہتی ہیں مردم شماری،حلقہ بندیوں کے بغیرشفاف انتخابات ممکن نہیں۔سیاسی جماعتوں نے کہا الیکشن کمیشن کی نگرانی میں نئی حلقہ بندیاں ہوں۔

مزید : صفحہ اول