نیٹو طیاروں نے شام اور عراق میں اپنی نگراں پروازیں شروع کردیں

نیٹو طیاروں نے شام اور عراق میں اپنی نگراں پروازیں شروع کردیں

برسلز(این این آئی)مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے طیاروں نے شام اور عراق میں اپنی نگران پروازیں شروع کر دیں، نیٹو کے اس اقدام کا مقصد ان دونوں ممالک میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی خلاف جاری کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ڑینس اسٹولٹن برگ نے اعلان کیا کہ شام اور عراق کی فضائی حدود میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی نگرانی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ اسٹولٹن برگ نے برسلز میں کہاکہ اس سلسلے میں اواکس طیاروں نے گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ پرواز کی تھی اور مزید طیارے اسی طرح کی دیگر پروازیں بھی کریں گے۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے بہت زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کے بقول یہ نگرانی اواکس طیاروں کے ذریعیکی جا رہی ہے اور ایسا داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ڑینس اسٹولٹن برگ نے کہاکہ اس آپریشن کی مدد سے حالات کی ایک بہتر تصویر سامنے آئے گی اور بین الاقوامی اتحاد کی فضائی طاقت کو بہتر معلومات مل سکیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح شام اور عراق کے پیچیدہ اور مشکل حالات میں فضائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔اس فضائی بیڑے میں کل سولہ اواکس طیارے شامل ہیں اور ان کا تقریباً ایک تہائی عملہ جرمن فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے، جو پندرہ سے بیس فوجی بنتے ہیں۔ تاہم وفاقی جرمن فوج فضائی نگرانی کے اس عمل میں فی الحال شریک نہیں ہے۔ اس تناظر میں جرمن پارلیمان نومبر میں ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں فیصلہ کرے گی۔ نیٹو آئی ایس کے خلاف قائم عسکری اتحاد میں باقاعدہ طور پر تو شامل نہیں ہے تاہم جولائی میں وارسا میں ہونے والے اجلاس میں مغربی دفاعی اتحاد نے عراق اور شام میں فضا سے نگرانی کی حامی بھری تھی۔اس موقع پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے عراقی فوجیوں کو تربیت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ تربیت آج کل پڑوسی ملک اردن میں فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اگلے دنوں کے دوران اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے عراق تک پھیلا دیا جائے گا

مزید : عالمی منظر