ڈی جی ماحولیات پنجاب ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی غیر قانونی قرار

ڈی جی ماحولیات پنجاب ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی غیر قانونی قرار

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات پنجاب ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کردی ۔ فاضل جج نے معاملے کو3ہفتے تک موخر کرنے کی پنجاب حکومت کے وکیل کی استدعا مسترد کردی ۔یہ درخواست شیراز ذکاء ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کو محکمہ ماحولیات کے سروس رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعینات کیا گیا ہے، ڈی جی ماحولیات کے عہدے کے لئے محکمہ ماحولیات کا ڈائریکٹر ہونا، سی سی ایس یا پی ایم ایس پاس کر کے سرکاری افسر تعینات ہونا لازمی شرط ہے لیکن ڈاکٹر جاوید اقبال کسی شرط پر بھی پورا نہیں اترتے، پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل احمد حسن نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ ماحولیات کی جدید اصولوں پر تنظیم نو کی سمری تیار کر کے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، سمری جلد منظور کروا لیں گے ،اس درخواست کی سماعت 3ہفتے کے لئے ملتوی کر دی جائے، عدالت کے استفسار پرکمرہ عدالت میں موجود محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر ایپملی منٹیشن اینڈ مانیٹرنگ لیبارٹریز ڈاکٹر توقیر نے موقف اختیار کیا کہ 17اکتوبر کو ان کی وزیر اعلی پنجاب سے براہ راست ملاقات ہوئی، ملاقات کے دوران میں نے نشاندہی کی کہ محکمہ ماحولیات میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے جس پر وزیر اعلی نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ڈی جی ماحولیات پنجاب ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی کالعدم کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور ڈائریکٹر ایمپلی منٹیشن اینڈ مانیٹرنگ لیبارٹریز ڈاکٹر توقیر کو ڈائریکٹر جنرل کا عارضی چارج دینے کا حکم دے دیا، عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ ڈی جی ماحولیات ڈاکٹر جاوید اقبال کی تعیناتی میرٹ سے ہٹ کر کی گئی ہے۔

مزید : صفحہ آخر