کروڑوں کے فنڈز کے باوجود سرکاری تعلیمی ادارے سکیورٹی ’’رسک‘‘ بن گئے، ایس او پیز سردخانے کی نذر

کروڑوں کے فنڈز کے باوجود سرکاری تعلیمی ادارے سکیورٹی ’’رسک‘‘ بن گئے، ایس ...

لاہور(لیاقت کھرل)ملک بھر میں اوپر تلے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے باوجود پنجاب کے سرکاری تعلیمی ادارو ں میں سکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر، 53 ہزار سرکاری سکولوں میں سے صرف 2652 سکولوں میں سیکیورٹی کے انتظامات، لاہور کے 1265 سکولوں میں سے 251 سکولوں میں سیکیورٹی گارڈز جبکہ سکول انتظامیہ نائب قاصد،خاکروب اور مالیوں سے سیکیورٹی کی ڈیوٹیاں لینے لگے ،سیکیورٹی کے نام پر کرڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود تیار کیا گیا ’’ایس او پیز‘‘سرد خانے کی نذر، سیکیورٹی اقدامات و انتظامات محض ’’خانہ پری‘‘ اساتذہ ،طلباء و طالبات عدم تحفظ کا شکار کسی بڑے حادثہ یا ممکنہ واقعات کے پیش نظر سخت کرب و پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ’’روزنامہ پاکستان ‘‘نے محکمہ سکولزایجوکیشن کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے معاملات کو فول پروف بنانے کے لیے کئے گئے اقدامات و انتظامات کا جائزہ اور تفصیلات حاصل کر لی ہیں،جس میں محکمہ سکولز ایجوکیشن کی جانب سے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے نام پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے ہضم کر نے کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔موصول ہونے والی رپورٹ میں تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے لئے ایس او پیز تو تیار کیاگیا، سیکیورٹی گارڈز کی بھرتی کے لئے اخبارات میں دو مرتبہ اشتہارات بھی دئیے گئے اور دہشت گردی کے واقعات ٹھنڈے ہونے کے ساتھ ہی بھرتی کے عمل کو روک دیا گیا، اس میں سکولز انتظامیہ کو اپنی مدد آپ کے تحت سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے، سکولوں کے داخلی اور خارجی گیٹوں پر مورچہ بندی، واک تھرو گیٹ، دیواروں کو آٹھ آٹھ فٹ اونچی کرنے اور خاردار تاریں اور سیکیورٹی کیمرے نصب کرنے سمیت سیکیورٹی کے معاملات کو فول پروف بنانے کے لئے زبانی اور تحریری احکامات دئیے گئے، محکمہ تعلیم اور محکمہ سکولز ایجوکیشن نے فائلوں میں سیکیورٹی کے نام پر کروڑوں روپے نیچے اوپر کر لئے لیکن سیکیورٹی کے نام پر محض خانہ پری کر کے ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ اوپر بھجوائی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لاہور کے ساڑھے 1200 سے زائد سرکاری سکولوں سمیت صوبے بھر کے 53 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں میں 20 فیصد سیکیورٹی کے اقدامات تسلی بخش ہیں جس میں لاہور کے 251 سے 300 سکولوں میں سیکیورٹی کے اقدامات تسلی بخش جبکہ پنجاب بھر کے 26سو سے لے کر 3ہزار تک سکولوں میں سکولوں میں سیکیورٹی کے اقدامات کو فول پروف بنایا گیا ہے، جن کو سیکیورٹی کے حوالے سے اے کیٹیگریز کی شکل دی گئی ہے۔ اسی طرح بی کیٹیگریز میں آنے والے سکولوں میں اِکا دُکا سیکیورٹی گارڈ، واک تھرو گیٹ کی شدید کمی، جبکہ اکثر سکولوں میں واک تھرو گیٹ ناکارہ اور سیکیورٹی کے لئے بنائے گئے مورچے محض ریت اور پھٹی پرانی بوریوں کے ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح سی کیٹیگریز کے سکولوں کی تعداد 20 ہزار سے زائد بتائی گئی ہے جن میں اکثریتی سکولز چار دیواری سے محروم، مرکزی گیٹ تک نہ ہیں جن کی سیکیورٹی کے لئے محکمہ سکولز ایجوکیشن نے اربوں روپے کے فنڈز کی ڈیمانڈ اور ناقص سیکیورٹی کی نشاندہی کر کے محض خانہ پری کر کے اپنی جان چھڑا لی ہے۔ اس میں لاہور کے 37 سو سے زائد سکولز سیکیورٹی سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ ان میں سے اکثر سکولوں میں میں چار دیواری، باتھ رومز، مرکزی گیٹس، سیکیورٹی کے مورچہ بندی، خار دار تاریں اور کلوز سرکٹ کیمرے اور واک تھرو گیٹ نہ ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے جن اضلاع میں سکولز سیکیورٹی رسک بنے ہوئے ہیں ان میں فیصل آباد میں 35 فیصد سکولز میں سیکیورٹی کے اقدامات بہتر بنانے کے لئے خط و کتابت کی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے 19720 سکولوں میں سے 50 فیصد سکولوں میں سیکیورٹی کے اقدامات تو الگ بات سکولز بنیادی سہولتوں سے ہی محروم ہیں۔ اسی طرح شیخوپورہ کے ساڑھے 3 سو سکولز، ننکانہ 120 سکولز، گجرات 99 سکولز، گوجرانوالہ 330 ، سیالکوٹ 109، جبکہ حافظ آباد97 سکولز بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جن میں سے اکثریتی سکولوں پر بااثر افراد کے قبضے ہیں۔ قصور ، اوکاڑہ، ساہیوال میں پونے 7 سو سکولوں کی حالت بھی مخدوش بتائی گئی ہے۔ وہاں سیکیورٹی کے اقدامات کے لئے چار دیواری، کمروں کی مرمت، کلوز سرکٹ کیمرے، ،خار دار تاریں، مورچہ بندی جیسے اقدامات سمیت سکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کو محکمہ سکولز نے خط و کتابت کر رکھی ہے اور ان میں سے اکثریتی سکولوں پر بااثر افراد کے قبضے کرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ سکولز ایجوکیشن کی جانب سے سکولوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات و انتظامات کی ملنے والی اس رپورٹ میں تمام تر دعوے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اکثریتی تعلیمی ادارے سیکیورٹی رسک بن کر رہ گئے ہیں۔ اور ملک میں اوپر تلے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے باوجود محکمہ سکولز ایجوکیشن اور محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار نے محض خط و کتابت کے علاوہ کوئی خاص اقدامات نہ کئے ہیں جس سے سرکاری سکولز کی سیکیورٹی کو اللہ کے سپرد کردیا گیا ہے اور سکولوں میں اساتذہ، طلباء و طالبات دہشتگردی یا کسی برے ممکنہ واقعہ کے پیش نظر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور سخت کرب و پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین کا کہنا ہے کہ سکولوں کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے ملنے والے سخت احکامات کی روشنی میں سیکیورٹی کے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ناقص سیکیورٹی کے حامل سکولز کی خفیہ مانیٹرنگ رپورٹس کی اطلاع ملنے پر کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ جبکہ محکمہ سکولز ایجوکیشن حکام کا کہنا ہے کہ صرف 20 فیصد سکولز نہیں بلکہ اکثریتی سکولوں میں سیکیورٹی کے اقدامات فول پروف، کیمرے نصب، مورچہ بندی، خاردار تاریں، ایس اوپیز کے مطابق دیواریں، مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنے سمیت سیکیورٹی گارڈز تعینات کئے گئے ہیں۔ بعض سکولوں میں تربیتی یافتہ تعینات ہیں۔ سیکیورٹی گارڈز کو اسلحہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ جہاں سیکیورٹی کی بہتری کے لئے ضرورت ہو گی وہاں مکمل یا فوری اقدامات کئے جائیں گے، فی الحال اے کیٹیگریز اور اے پلس کیٹیگری سمیت بی کیٹیگریز کے سکولوں پر توجہ دی جارہی ہے جو سکولز چار دیواریوں سے محروم ہیں ترجیحی بنیادوں پر ان سکولوں میں ترقیاتی کام کروائے جا رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر