صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کا اعلیٰ سطحی اجلاس

صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کا اعلیٰ سطحی اجلاس

پشاور(کرائمز رپورٹر)صوبہ بھر کے ریجنل پولیس آفسروں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس آج زیر صدارت انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان دُرانی پولیس سکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ رائیوٹ منیجمنٹ مردان میں منعقد ہوا۔ چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور، تمام ریجنل پولیس آفسروں اور سٹاف آفسروں نے کانفرنس میں شرکت کی۔ سکول کے ڈائریکٹر کرنل (ر) اختر گل نے کانفرنس کے شرکاء کو سکول میں ٹریننگ کی سہولیات ،ماڈیولز، معیار ، ٹیکنیکل ٹیکٹس (حکمت عملی پر مبنی) اور فراہم کی جانے والی مختلف کورسز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔ بعد ازاں کانفرنس میں صوبے کے امن و امان کی صورتحال ، سیکورٹی اور کرائم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اپنے اپنے ریجن میں اُٹھائے گئے سیکورٹی اقدامات پر نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے بریفنگ دی۔ آئی جی پی نے صوبے میں جرائم اور امن وآمان کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔اور ریجنل پولیس افسروں کو ہدایت کی کہ وہ تمام حساس اور غیر محفوظ مقامات کا سیکورٹی آڈٹ کراکے اس میں پائی جانے والی کمی و بیشی کی نشاندہی کرائیں۔ اور اس مقصد کے لیے ریٹائرڈ سپیشل سروس گروپ(SSG) کے افسروں کی خدمات حاصل کریں۔ بعد ازاں آئی جی پی نے مردان میں تنازعات کے حل کے کونسل کے لیے نئے تعمیر شدہ دفتر کا دورہ کیا جہاں وہ ڈی آر سی کے ممبران سے ملے اور اُن سے کونسل کی افادیت اور ان کے ذریعے عوام کو پہنچائی جانے والی ریلیف پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر آئی جی پی کو تنازعات کے حل کے کونسل کی مجموعی کارکردگی پر مختصراً بریفنگ بھی پیش کی گئی جس پر آئی جی پی نے اطمینان کا اظہار کیا۔ آئی جی پی نے مردان میں قائم شدہ نئے پولیس اسسٹنس لائن کے دفترکا بھی افتتاح کیا جو عام آدمی کو بلا کسی تعطل اور پریشانی کے پولیس کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر موجود میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی پی نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال ، عزت و آبرو کے تحفظ کو ہرقیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے تمام اصلاحات عام آدمی کی سہولت کے لیے شروع کررکھے ہیں اور پولیس فورس کو جدید پیشہ ورانہ خطوط پرتربیت سے آراستہ کرنے اوراس کے استعدادی صلاحیتوں میں نکھار لانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیجارہی ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر